@hawkins1984_: #harrypotter #cedricdiggoryedit #xbyzca #fyp #robertpattinson

🪷
🪷
Open In TikTok:
Region: CL
Tuesday 31 March 2026 11:38:05 GMT
55280
6272
13
681

Music

Download

Comments

newttera
o0tsraisya :
when i saw cedric diggory for the first time
2026-04-20 13:41:55
14
fernanda_.gabriela
fernanda :
cedric diggory te extraño todos los dias
2026-03-31 15:51:17
22
hann199777
hann⁷ :
2026-03-31 13:12:38
31
gwenrowd
gwen :
that's my boy..
2026-03-31 11:54:32
30
daongocmai_168
⚯͛ 𝑯𝒆𝒓𝒎𝒊𝒐𝒏𝒆⸆⸉ :
this is good for u🤭✨
2026-06-08 10:09:11
3
tr_store_iq
Harry store :
2026-04-19 21:05:11
0
entheyyn
gianeell :
2026-04-05 02:21:10
0
nuroztrun
nur :
@Lucie-jane
2026-05-01 15:59:25
1
noodle.zippo
ℳ :
@fernanda
2026-03-31 15:22:44
0
annd_555
. :
@. PAPIIII
2026-04-10 00:48:20
0
To see more videos from user @hawkins1984_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے وہ ادب کی کتاب جیسا تھا جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا دل کے خیمے میں رات کرتا تھا رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے بولتا تھا زبان خوشبو کی لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے ساری آنکھیں تھیں آئنیے اُس کے سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا ایک دریا نما سراب تھا وہ خواب یہ ہے کہ وہ حقیقت تھا یہ حقیقت ہے کوئی خواب تھا وہ دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہوئیں میں نے پایا تھا رت جگوں میں اُُسے یہ مگر دیر کی کہانی ہے یہ مگر دور کا فسانہ ہے اُس کے میرے ملاپ میں حائل اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟ میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا محسن نقوی #sufi #sahibzadaasimmaharvi #Dervaish #travelling #poetry
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے وہ ادب کی کتاب جیسا تھا جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا دل کے خیمے میں رات کرتا تھا رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے بولتا تھا زبان خوشبو کی لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے ساری آنکھیں تھیں آئنیے اُس کے سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا ایک دریا نما سراب تھا وہ خواب یہ ہے کہ وہ حقیقت تھا یہ حقیقت ہے کوئی خواب تھا وہ دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہوئیں میں نے پایا تھا رت جگوں میں اُُسے یہ مگر دیر کی کہانی ہے یہ مگر دور کا فسانہ ہے اُس کے میرے ملاپ میں حائل اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟ میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا محسن نقوی #sufi #sahibzadaasimmaharvi #Dervaish #travelling #poetry

About