@wannnnlucky4569:

หวานไม่กินหวาน
หวานไม่กินหวาน
Open In TikTok:
Region: TH
Monday 06 April 2026 12:41:10 GMT
3210
1068
11
1

Music

Download

Comments

aun_komsun
aun_komsun :
🥰🥰🥰ชอบจุง
2026-04-06 15:18:42
1
workathell
WorkAtHell :
โซจึ้ง
2026-04-06 19:08:22
0
beer.0081
Beer🍺 :
น่ารัก.... 😊
2026-04-06 16:26:43
0
n_aumkum
ผู้ชายไร้ตัวตนชาละวัน :
🤟🥰น่ารัก
2026-04-16 14:05:37
0
teerider2
ตี๋ บินเดี่ยว :
🥰🥰🥰
2026-04-07 10:26:30
0
setthawutnooklay
Setthawut Nooklay :
🥰
2026-04-06 19:53:32
0
park.je.kop
jo :
สวย🥰
2026-04-06 20:21:31
0
goo.ge5
Yik :
🥰🥰
2026-04-07 00:39:18
0
tong_niroot45
🗡🛡ต้อง_นิรุต ⚔️ :
🫶⭐️🥰🥰🌷🌷💖💖💝💝🌷🌷😍😍⭐️🤟
2026-04-07 00:42:31
0
kitti_19999s
🦄 𝓚𝓻𝓲𝓽𝓝𝓪𝓴𝓱𝓸𝓷𝓢𝓲 🌈 :
น่าร้ากกจัง🥰🥰🥰
2026-04-07 07:16:05
0
To see more videos from user @wannnnlucky4569, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حقیقت یہ ہے کہ غیرت کا یہ بیانیہ کبھی پشتون کے اپنے مفاد کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ ہر بار کسی اور کے ایجنڈے کی خدمت کے لیے استعمال ہوا کبھی جہاد کے نام پر، کبھی ریاستی پالیسی کے نام پر، کبھی سیاسی جلسوں کے نام پر۔ نتیجہ کیا نکلا؟ پشتون علاقے سب سے زیادہ تباہ ہوئے، سب سے زیادہ جانیں گئیں اور سب سے کم ترقی ملی۔ دیکھو تاریخ کے اوراق افغان جہاد کے دوران لاکھوں پشتون بے گھر ہوئے، نسلیں تباہ ہوئیں، منشیات اور ہتھیاروں کا کلچر پھیل گیا۔ کام نکل گیا تو وہی لوگ جو کل مجاہد کہہ کر سراہتے تھے، اگلے دن انہیں دہ'شت گرد قرار دے بیٹھے۔ کشمیر کے محاذ پر بھی وہی کھیل کھیلا گیا۔ جو نوجوان جذبات میں بہہ کر گئے، ان میں سے کتنوں کی لاشیں واپس آئیں؟ اور جو واپس آئے، انہیں معاشرے میں کیا مقام ملا؟ آج پھر وہی پرانا کارڈ نئے ہاتھوں میں ہے۔ سیاسی جلسوں میں غیرت، قربانی اور مزاحمت کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ مگر پوچھو تو جواب نہیں ملتا کہ اس قربانی کا فائدہ آخر کسے پہنچے گا؟ کیا اس سے پختونخوا کے اسکول بہتر ہوں گے؟ کیا بے روزگاری کم ہوگی؟ کیا گمشدہ افراد کا حساب کتاب ہوگا؟ یا صرف ایک سیاسی بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے پھر سے خون بہے گا؟ سب سے بڑی بدنیتی یہ ہے کہ یہ بیانیہ پشتون کو سوچنے نہیں دیتا۔ اسے صرف غیرت مند بنا کر میدان میں اتارا جاتا ہے۔ سوال کرنے والا کمزور، ڈرپوک یا باہر کا ایجنٹ قرار پا جاتا ہے حالانکہ اصل غیرت تو یہ ہے کہ اپنے بچوں کا مستقبل بچاؤ، اپنی زمین کے حقوق مانگو اور ہر اس قوت کو جواب دو جو تمہیں صرف اپنے کام نکالنے کے لیے یاد کرتی ہے۔ اب فیصلہ پشتونوں کا ہے یا تو پھر سے کسی کے ایجنڈے کی ایندھن بنو، یا اس بار اپنی خاطر کھڑے ہو جاؤ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم صرف دوسروں کے جنگوں میں مرتي رہی، وہ کبھی اپنا حصہ وصول نہیں کر سکی۔ . . . . . #khizarsreflections #politicalawareness #trendingreels #socialawareness #viralreels
حقیقت یہ ہے کہ غیرت کا یہ بیانیہ کبھی پشتون کے اپنے مفاد کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ ہر بار کسی اور کے ایجنڈے کی خدمت کے لیے استعمال ہوا کبھی جہاد کے نام پر، کبھی ریاستی پالیسی کے نام پر، کبھی سیاسی جلسوں کے نام پر۔ نتیجہ کیا نکلا؟ پشتون علاقے سب سے زیادہ تباہ ہوئے، سب سے زیادہ جانیں گئیں اور سب سے کم ترقی ملی۔ دیکھو تاریخ کے اوراق افغان جہاد کے دوران لاکھوں پشتون بے گھر ہوئے، نسلیں تباہ ہوئیں، منشیات اور ہتھیاروں کا کلچر پھیل گیا۔ کام نکل گیا تو وہی لوگ جو کل مجاہد کہہ کر سراہتے تھے، اگلے دن انہیں دہ'شت گرد قرار دے بیٹھے۔ کشمیر کے محاذ پر بھی وہی کھیل کھیلا گیا۔ جو نوجوان جذبات میں بہہ کر گئے، ان میں سے کتنوں کی لاشیں واپس آئیں؟ اور جو واپس آئے، انہیں معاشرے میں کیا مقام ملا؟ آج پھر وہی پرانا کارڈ نئے ہاتھوں میں ہے۔ سیاسی جلسوں میں غیرت، قربانی اور مزاحمت کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ مگر پوچھو تو جواب نہیں ملتا کہ اس قربانی کا فائدہ آخر کسے پہنچے گا؟ کیا اس سے پختونخوا کے اسکول بہتر ہوں گے؟ کیا بے روزگاری کم ہوگی؟ کیا گمشدہ افراد کا حساب کتاب ہوگا؟ یا صرف ایک سیاسی بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے پھر سے خون بہے گا؟ سب سے بڑی بدنیتی یہ ہے کہ یہ بیانیہ پشتون کو سوچنے نہیں دیتا۔ اسے صرف غیرت مند بنا کر میدان میں اتارا جاتا ہے۔ سوال کرنے والا کمزور، ڈرپوک یا باہر کا ایجنٹ قرار پا جاتا ہے حالانکہ اصل غیرت تو یہ ہے کہ اپنے بچوں کا مستقبل بچاؤ، اپنی زمین کے حقوق مانگو اور ہر اس قوت کو جواب دو جو تمہیں صرف اپنے کام نکالنے کے لیے یاد کرتی ہے۔ اب فیصلہ پشتونوں کا ہے یا تو پھر سے کسی کے ایجنڈے کی ایندھن بنو، یا اس بار اپنی خاطر کھڑے ہو جاؤ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم صرف دوسروں کے جنگوں میں مرتي رہی، وہ کبھی اپنا حصہ وصول نہیں کر سکی۔ . . . . . #khizarsreflections #politicalawareness #trendingreels #socialawareness #viralreels

About