Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@f.k.124: #حمدان #تفليق_دراجات #دراجات_نارية_لاتعرف_القانون #نجف_بغداد_حله_ناصريه_كربلاء_كركوك_تكريت #صعدوووووووووو_لايكات_لاتقصرو
﮼حمدان ﮼نجف
Open In TikTok:
Region: IQ
Saturday 18 April 2026 13:49:55 GMT
2783
157
9
28
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
♦♛ سويجد انا ★🌊グ :
لك خي
2026-05-16 16:16:28
0
حمد⚡ :
المعنى في قلب الشعر موو 😜✨
2026-04-19 21:36:21
0
العكيد :
❤️❤️❤️
2026-04-18 16:02:14
0
m1___78 :
😘🥰
2026-04-19 08:50:20
0
To see more videos from user @f.k.124, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
gw juga pengen woip #katakata #4u #100k #fyp #anugrah
Explosion and Fire On Black and | Green Screen #graphics #overlay #greenscreen #greenscreenvideo
#Bricolaje #satisfactorio #IdeasCreativas #MejorasDelHogar
This one sharp 🤔|😂💔 #iam_sajo__ @Geh Geh
Finally a restock! Get it while you can 🫶🏽
میاں سعید صاحب نڈر ہوں گے، لیکن اس پورے معاملے کے ساختی اور نظامی مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایمل ولی خان کے مؤقف کو سمجھنا ضروری ہے۔ کمزور تفتیش اور ناقص چالان کی وجہ سے اکثر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی ناقص تفتیش کرنے والے کتنے ایس ایچ اوز یا پولیس افسران کے خلاف کارروائی، معطلی یا احتساب ہوا، جن کی ناقص تفتیش کے نتیجے میں ملزمان بری ہوئے؟ عدالتیں پولیس کی تفتیش، شواہد اور چالان کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ کرتی ہیں۔ اس لیے عدلیہ کیساتھ پولیس کے تفتیشی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس میں مؤثر احتساب یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مجرم کو قانون اور عدالت کے ذریعے سزا ملے، نہ کہ ماورائے عدالت طریقوں سے۔ آج میاں سعید صاحب کے معاملے میں کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ انہوں نے درست کیا، لیکن اگر کل کوئی دوسرا کرپٹ شخص اپنی ذاتی مفاد یا مسئلے کے لیے اسی اختیار کا غلط استعمال کرے تو پھر کیا ہوگا؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر غور کرنا ضروری ہے۔ ایمل ولی خان کی بات دراصل اسی نظامی مسئلے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ وہ وقتی ردِعمل کے بجائے مستقبل کے ممکنہ نتائج کو دیکھنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں ہر شہری کو قانونی تحفظ حاصل ہو، تو ہمیں عدلیہ، پولیس کی تفتیش اور پورے فوجداری نظام میں اصلاحات اور مؤثر احتساب کی بات کرنا ہوگی۔ کیونکہ اگر ہر شخص اپنے ہاتھ میں انصاف لینے لگے اور اپنی مرضی کی جسٹس کے ذریعے دوسروں کو یرغمال بنانے لگے، تو پھر قانون اور ریاستی نظام کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ اسی لیے ایمل ولی خان کے مؤقف کو شخصیات یا وقتی واقعات کے بجائے ایک وسیع تر نظامی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے اور کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو یہ مجرموں کیساتھ کھڑے ہونے کی بات نہیں اور نا میاں سعید صاحب جیسے ایماندار شخص پر شک ھے بلکہ انے والے وقتوں میں مسلہ کھڑا کرسکتا ھے، نظام وجود میں اسلئے اتے ہیں تاکہ ایک سسٹم کے ذریعے ھر کوئی اپنی دائرے میں رہ کر کام کریں، اگر عدلیہ ناکام ھے تو اسکو درست بنانے کے لیے جدوجھد ہونی چاہئے یا متبادل میں کوئی بھی طریقہ؟؟؟ پاپولر بیانیے کیساتھ اپ ہوسکتے ہیں لیکن غیر پاپولر بات کو سمجھنا چاہئے ایسا نہ ھو کل پر پھچتاوا ہوگا۔۔۔۔ باقی معاشرے کے ناسور کو ختم کرنا چاہئے اور ھم چاہتے ہیں لیکن کوئی طریقہ ہو تاکہ کل اسی سلسلے میں عام لوگ قربانی نہ بننے۔۔۔ پولیس کے لیے سب سے زیادہ طاقت عوامی نیشنل پارٹی چاہتی ھے اسلئے ہم کہتے پختونخوا پولیس ہماری فخر۔۔۔ لیکن نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہم دستور چاہتے ہیں انعام ازل Aimal Wali Khan #AimalWaliKhan #police #ANP #MianSaeed #pukhtunkhwa
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy