@getawaysnatches: 30 min while laying down in bed !! #thighmaster #innerthighexercise #homeworkout #legworkouts #summerbodyloading

getawaysnatches
getawaysnatches
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 18 April 2026 15:53:34 GMT
11410
19
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @getawaysnatches, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خاتون ایم پی اے کی بھانجی اور بیٹے کو یونیورسٹی سے واپسی پر گزشتہ سال پولیس ناکے پر 1 گھنٹہ روک کر مبینہ ناروا رویے اور 2 لاکھ روپے رشوت طلبی کا معاملہ کی استحقاق کمیٹی میں سماعت،  اس اجلاس میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران، اے آئی جی آپریشنز پنجاب ساجد حسین کھوکھر، ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پولیس ڈاکٹر ذیشان حنیف اور ایس پی صدر آپریشنز غیور احمد خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی،  متاثرہ خاتون ایم پی اے محترمہ شازیہ نے کمیٹی کے سامنے اپنے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا اور بھانجی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) سے آن لائن رائڈ سروس کے ذریعے گھر واپس آ رہے تھے کہ راستے میں پی آئی اے روڈ پر تھانہ جوہر ٹاؤن پولیس کے اہلکاروں نے گاڑی کو زبردستی روک لیا۔ اہلکاروں نے بچوں کے موبائل فون چھین لیے اور نہ صرف انہیں شدید ہرا ساں کیا بلکہ طالبہ کے ساتھ انتہائی غیر شائستہ اور نازیبا زبان استعمال کی۔ پولیس اہلکاروں نے گاڑی کے ڈرائیور کو جانے کا کہہ کر بچوں کی جان چھوڑنے کے عوض 2 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا۔ بچوں کی طرف سے والدہ کے ایم پی اے ہونے کا تعارف کروانے کے باوجود اہلکار ایک گھنٹے تک انہیں سڑک پر حبـسِ بے جا میں رکھ کر خوفـ زدہ کرتے رہے، جبکہ اس دوران والدہ کا بچوں سے رابطہ بھی منقطع رہا۔ بعد ازاں اہلکاروں نے آن لائن ایپ کے ذریعے 30 ہزار روپے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا دباؤ بھی ڈالا۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے بتایا کہ گاڑی کے ڈرائیور کا سابقہ کرمِنل ریکارڈ (سیکشن 25 ڈی کے تحت) پولیس ایپ پر شو ہونے کی وجہ سے اہلکاروں نے گاڑی کو روکا تھا، تاہم ایک خاتون طالبہ کی موجودگی میں ایسا جارحانہ سلوک اور تاخیری حربے سراسر غلط اور محکمانہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ڈی آئی جی نے کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ متعلقہ ایس ایچ او جوہر ٹاؤن اور ایس پی نے یہ سنگین معاملہ ڈیڑھ ماہ تک اعلیٰ حکام سے چھپائے رکھا اور کوئی کارروائی نہیں کی، جس پر ایس ایچ او سے جواب طلبی اور متعلقہ ایس پی کو محکمانہ ڈسپلینری لیٹر جاری کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ اور اجلاس کی کارروائی گزشتہ سال کی ہے تو تب ڈی آئی جی نے اجلاس میں یقیی دہانی کرائی تھی کہ ملوث اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے پولیس ناکوں پر شہریوں کی تذلیل، رشوت ستانی اور اور اس جیسے دیگر واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا Lady MPA Privilege motion against Lahore police, DIG Faisal Kamran appeared in Committee  #fyp #trending #breakingnews #fypシ #Lahore
خاتون ایم پی اے کی بھانجی اور بیٹے کو یونیورسٹی سے واپسی پر گزشتہ سال پولیس ناکے پر 1 گھنٹہ روک کر مبینہ ناروا رویے اور 2 لاکھ روپے رشوت طلبی کا معاملہ کی استحقاق کمیٹی میں سماعت، اس اجلاس میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران، اے آئی جی آپریشنز پنجاب ساجد حسین کھوکھر، ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پولیس ڈاکٹر ذیشان حنیف اور ایس پی صدر آپریشنز غیور احمد خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی، متاثرہ خاتون ایم پی اے محترمہ شازیہ نے کمیٹی کے سامنے اپنے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا اور بھانجی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) سے آن لائن رائڈ سروس کے ذریعے گھر واپس آ رہے تھے کہ راستے میں پی آئی اے روڈ پر تھانہ جوہر ٹاؤن پولیس کے اہلکاروں نے گاڑی کو زبردستی روک لیا۔ اہلکاروں نے بچوں کے موبائل فون چھین لیے اور نہ صرف انہیں شدید ہرا ساں کیا بلکہ طالبہ کے ساتھ انتہائی غیر شائستہ اور نازیبا زبان استعمال کی۔ پولیس اہلکاروں نے گاڑی کے ڈرائیور کو جانے کا کہہ کر بچوں کی جان چھوڑنے کے عوض 2 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا۔ بچوں کی طرف سے والدہ کے ایم پی اے ہونے کا تعارف کروانے کے باوجود اہلکار ایک گھنٹے تک انہیں سڑک پر حبـسِ بے جا میں رکھ کر خوفـ زدہ کرتے رہے، جبکہ اس دوران والدہ کا بچوں سے رابطہ بھی منقطع رہا۔ بعد ازاں اہلکاروں نے آن لائن ایپ کے ذریعے 30 ہزار روپے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا دباؤ بھی ڈالا۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے بتایا کہ گاڑی کے ڈرائیور کا سابقہ کرمِنل ریکارڈ (سیکشن 25 ڈی کے تحت) پولیس ایپ پر شو ہونے کی وجہ سے اہلکاروں نے گاڑی کو روکا تھا، تاہم ایک خاتون طالبہ کی موجودگی میں ایسا جارحانہ سلوک اور تاخیری حربے سراسر غلط اور محکمانہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ڈی آئی جی نے کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ متعلقہ ایس ایچ او جوہر ٹاؤن اور ایس پی نے یہ سنگین معاملہ ڈیڑھ ماہ تک اعلیٰ حکام سے چھپائے رکھا اور کوئی کارروائی نہیں کی، جس پر ایس ایچ او سے جواب طلبی اور متعلقہ ایس پی کو محکمانہ ڈسپلینری لیٹر جاری کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ اور اجلاس کی کارروائی گزشتہ سال کی ہے تو تب ڈی آئی جی نے اجلاس میں یقیی دہانی کرائی تھی کہ ملوث اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے پولیس ناکوں پر شہریوں کی تذلیل، رشوت ستانی اور اور اس جیسے دیگر واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا Lady MPA Privilege motion against Lahore police, DIG Faisal Kamran appeared in Committee #fyp #trending #breakingnews #fypシ #Lahore

About