@marevajoyeria: El regalo perfecto para mamá 🥹💝 Envíos a todo el Perú 🇵🇪 #regalodiadelamadre #diadelamadre #madre #regalomama #diadelamama

Mareva Joyería
Mareva Joyería
Open In TikTok:
Region: PE
Saturday 25 April 2026 01:24:49 GMT
119047
920
57
81

Music

Download

Comments

chispita19853
chispita19853 :
Número para cordinar compra
2026-06-05 15:58:31
1
oscarricardopalma
Dezyl Fhalhi :
costo y delyveri
2026-05-18 14:29:06
1
nifergel94
antoni :
inf
2026-04-28 12:44:22
1
rupertoriosperez
juliosebastian :
me interesa
2026-04-27 19:07:19
1
sharleth008
mireyaolivagutierrez :
Hola quiera saver del precio
2026-05-29 13:46:42
1
eliani.carpio4
Eliani cardena :
que lindo
2026-05-28 14:34:07
1
pedro0.19
PEDRO PUCLLAS :
Precio
2026-04-27 15:02:39
1
luzzzz204
luz :
que bella
2026-05-04 01:28:19
1
manuelenriquequis4
manuelenriquequis4 :
precio por favor
2026-04-28 18:56:38
1
armandoespina1024
SAD 365 SERVICIOS INTEGRALES :
que material es
2026-04-30 13:59:29
1
jhoncitoblack
🔥⚔️Jhoncito⚔️🔥 :
me interesa... info
2026-04-27 16:54:40
1
katicita_lc12
🦋🦋kathicitaaa🦋🦋 :
presio o info xfs
2026-05-04 21:43:52
1
eddy_.yxs4
Eddy Alva :
precio
2026-04-28 00:11:03
1
202101mar
AYDEE M.R🐟 202101 :
precio
2026-05-02 01:55:51
1
christian.carlos11
Christian Carlos Collazos Yepe :
precio
2026-05-03 14:22:42
1
aquilesp7
𝓐𝓷𝓭𝔂 SC𝓧𝟏𝟎𝟎𝓹𝓻𝓮😎👉 :
Precio por favor
2026-04-28 12:43:51
1
keylatapialopez27
keylatapialopez27 :
su precio?
2026-04-27 23:58:27
1
guido.43
✓©Guido✓© :
precio
2026-04-25 01:57:49
2
torrespacheco981
Torres Pacheco981 :
alguien me pued3 decir si es confiable o no
2026-04-28 12:26:38
0
jaimegonzales0100
jaimegonzales0100 :
más detalles sobre el collar y de que material es
2026-05-01 13:50:01
1
hernan.ponce.vedi
Hernan Ponce Vedia :
cuanto bale
2026-04-27 01:54:43
2
milocosaucinito
💎Mi loco saucinito ❤️💕💫 :
cual es su precio
2026-04-26 19:25:46
2
alancito2104
alancito2104 :
buenas tardes si precio
2026-04-27 19:03:20
1
To see more videos from user @marevajoyeria, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

‏آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی⁦ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش نا دیکھتے۔  ‏ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ ‏انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ‏ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ ‏جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ ‏وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ ‏انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ ‏وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ ‏یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ‏سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ ‏تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ ‏عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔  ‏عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اسکو بارے میں 2011 میں گفتگو۔
‏آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ‏ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی⁦ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش نا دیکھتے۔ ‏ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ ‏انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ‏ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ ‏جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ ‏وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ ‏انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ ‏وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ ‏یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ‏سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ ‏تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ ‏عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔ ‏عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اسکو بارے میں 2011 میں گفتگو۔

About