@marceline.lover: eee they’re so cute🩷🖤 #adventuretime #funkopop #adventuretimemerch #fyp #collector

𝓂𝒶𝒾𝓈𝒾ℯ ݁ ˖ Ი𐑼⋆
𝓂𝒶𝒾𝓈𝒾ℯ ݁ ˖ Ი𐑼⋆
Open In TikTok:
Region: GB
Saturday 16 May 2026 19:10:03 GMT
13488
1762
12
106

Music

Download

Comments

felicitysfawns
𝐟𝐞𝐥𝐢𝐜𝐢𝐭𝐲 🦦 :
BRO WHEN WILL MY PRINCE GUMBALL ARRIVE
2026-05-21 19:45:57
5
malocore
vampire🦇 :
I thought they were supposed to ship in June?
2026-06-02 04:23:39
0
.man.riquez
️ :
I NENENENENNENEDDD😫
2026-06-30 04:48:27
0
minny_wswwv69
🌽🍭`⎚⩊⎚´✧[кк]☮ :
I CRINE IM FROM KAZAKHSTAN I WANT GUMBALL SM😢😢😢😢
2026-05-29 12:24:02
1
cl._0o
🍓 :
I NEED THEM SO MUCH
2026-05-20 19:43:59
0
adoboniricksanchez
letmelickyourtoes69 :
dude if you're interested of a lady rainicorn scarf I messaged u
2026-06-06 18:17:57
0
user2177280013306
явурь :
Дай его
2026-05-25 15:10:37
0
To see more videos from user @marceline.lover, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کئی ہفتے وینٹیلیٹر پر رکھنے کے بعد گزشتہ رات  ڈاکٹرز نے فخر عباس کی طبعی موت کا اعلان کر دیا  اور وہ اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر ابدی منزل کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ آئیے دعا کریں  کہ اللہ پاک انہیں محبوب بندوں کی صف میں جگہ عنایت فرمائے۔ امین یہ  احباب اور لواحقین کے لئے کڑا وقت یے ۔  انا للہ و انا الیہ راجعون   فخر عباس کی نماز جنازہ آج ہی ،   بروز ہفتہ 29 اگست ڈیرہ معمورہ،  خانقاہ ڈوگراں ( پنجاب ، پاکستان) میں  دن گیارہ بجے ادا کر دی جائے گی۔   فخر عباس چلے گئے لیکن ان کا تذکرہ یہاں شاید ہمیشہ رہے۔  ایک تو لاہور کے حوالے سے  ان کا ایک شعر ضرب المثل بن چکا ہے  ان کی شخصیت کا دوسرا  ناقابل فراموش پہلو ان کا محبت آمیز طرز حیات تھا۔ ڈاکٹر تھے اور علامہ اقبال میڈیکل کالج سے وابستہ تھے۔ اس حیثیت میں سیکروں شعرا و ادبا اور مستحقین کی بے پناہ مدد کیا کرتے تھے لیکن اپنی جان لیوا بیماری سے دنیا  کو بے خبر  رکھا ہوا تھا۔24 جولائی 2026 کوانہوں نے پہلی بار  اپنی ٹائم لائن پر یہ  اشارہ دیا ہے پل بھر میں دنیا بھی اندھیر لگتی کہ بیمار پڑتے نہیں دیر لگتی   اس کے بعد وہ صرف چار ہفتے زندہ رہ پائے اور اس میں بھی بیشتر  وقت مصنوعی طبی آلات کے رہین منت ریے۔  فخر عباس کے  بارے میں مزید بتانے سے پہلے آپ کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ان کے بچے ابھی تک درمیانے درجے کے تعلیمی مراحل میں  ہیں۔ انہیں ہم سب کی  دعاؤں اور عملی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ فخر عباس 27  جنوری 1978 سرگودھا ( پاکستان  )  میں  پیدا ہوئے اور اٹھائیس اگست 2026 کو لاہور میں  وفات پائی ہائی۔   سنہ 2000 کے  بعد منظر پر  آنے والے شعرا میں ہلکی پھلکی رومانی  اور ظریفانہ شاعری کے امتزاج سے نمایاں ہو یے ۔ زیادہ تر غزل۔اور قطعہ کہتے تھے تاہم ان کے اشعار مقبول عام تھے۔   ان کے صرف دو شعری مجموعے چھپے اور وہ بھی بہت مقبول ہوئیں۔  لاہور کے حوالے سے کہا گیا  ان کا یہ شعر ان کی شناخت بنا یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے ان کے کچھ اور  عمدہ  اشعار  درج ذیل ہیں   دیکھا بس اک دفعہ اسے میں نے قریب سے  پھر اہل شہر نے مری آنکھیں نکال دیں  کچھ وہ بھی سمجھنے کا تکلف نہیں کرتے کچھ ہم نے زباں سے کبھی کہہ کر نہیں دیکھا جب سے اس کی آنکھ میں آنسو دیکھے ہیں تب سے مجھ کو پانی سے ڈر لگتا ہے میرا شعر چرا کر تم نے شعر کہا رشتے میں اب باپ تمہارا لگتا ہوں سر پر یہ جو چھت کا سایہ ہوتا ہے دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے شاید میری جیت اسی میں ہوتی ہے اس کے آگے ہارا ہارا لگتا ہوں نظم (یاد ) آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوں آج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہے آج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہے آج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہے یاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے امید قوی ہے کہ فخر اپنے کام کے باعث یاد د رکھے جائیں گے اگرچہ ان کا انکسار ،کشادہ دلی اور خدمت خلق بھی ناقابل فراموش ہیں۔ رحمان حفیظ . . . . . . . . #drfakharabbaspoetry #yejolahoresemohabbathai #ڈاکٹرفخرعباس💔 #todaytrendingpoetry #drfakharabbasdeath💔 . . . . . . 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔
کئی ہفتے وینٹیلیٹر پر رکھنے کے بعد گزشتہ رات ڈاکٹرز نے فخر عباس کی طبعی موت کا اعلان کر دیا اور وہ اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر ابدی منزل کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ آئیے دعا کریں کہ اللہ پاک انہیں محبوب بندوں کی صف میں جگہ عنایت فرمائے۔ امین یہ احباب اور لواحقین کے لئے کڑا وقت یے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون فخر عباس کی نماز جنازہ آج ہی ، بروز ہفتہ 29 اگست ڈیرہ معمورہ، خانقاہ ڈوگراں ( پنجاب ، پاکستان) میں دن گیارہ بجے ادا کر دی جائے گی۔ فخر عباس چلے گئے لیکن ان کا تذکرہ یہاں شاید ہمیشہ رہے۔ ایک تو لاہور کے حوالے سے ان کا ایک شعر ضرب المثل بن چکا ہے ان کی شخصیت کا دوسرا ناقابل فراموش پہلو ان کا محبت آمیز طرز حیات تھا۔ ڈاکٹر تھے اور علامہ اقبال میڈیکل کالج سے وابستہ تھے۔ اس حیثیت میں سیکروں شعرا و ادبا اور مستحقین کی بے پناہ مدد کیا کرتے تھے لیکن اپنی جان لیوا بیماری سے دنیا کو بے خبر رکھا ہوا تھا۔24 جولائی 2026 کوانہوں نے پہلی بار اپنی ٹائم لائن پر یہ اشارہ دیا ہے پل بھر میں دنیا بھی اندھیر لگتی کہ بیمار پڑتے نہیں دیر لگتی اس کے بعد وہ صرف چار ہفتے زندہ رہ پائے اور اس میں بھی بیشتر وقت مصنوعی طبی آلات کے رہین منت ریے۔ فخر عباس کے بارے میں مزید بتانے سے پہلے آپ کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ان کے بچے ابھی تک درمیانے درجے کے تعلیمی مراحل میں ہیں۔ انہیں ہم سب کی دعاؤں اور عملی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ فخر عباس 27 جنوری 1978 سرگودھا ( پاکستان ) میں پیدا ہوئے اور اٹھائیس اگست 2026 کو لاہور میں وفات پائی ہائی۔ سنہ 2000 کے بعد منظر پر آنے والے شعرا میں ہلکی پھلکی رومانی اور ظریفانہ شاعری کے امتزاج سے نمایاں ہو یے ۔ زیادہ تر غزل۔اور قطعہ کہتے تھے تاہم ان کے اشعار مقبول عام تھے۔ ان کے صرف دو شعری مجموعے چھپے اور وہ بھی بہت مقبول ہوئیں۔ لاہور کے حوالے سے کہا گیا ان کا یہ شعر ان کی شناخت بنا یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے ان کے کچھ اور عمدہ اشعار درج ذیل ہیں دیکھا بس اک دفعہ اسے میں نے قریب سے پھر اہل شہر نے مری آنکھیں نکال دیں کچھ وہ بھی سمجھنے کا تکلف نہیں کرتے کچھ ہم نے زباں سے کبھی کہہ کر نہیں دیکھا جب سے اس کی آنکھ میں آنسو دیکھے ہیں تب سے مجھ کو پانی سے ڈر لگتا ہے میرا شعر چرا کر تم نے شعر کہا رشتے میں اب باپ تمہارا لگتا ہوں سر پر یہ جو چھت کا سایہ ہوتا ہے دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے شاید میری جیت اسی میں ہوتی ہے اس کے آگے ہارا ہارا لگتا ہوں نظم (یاد ) آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوں آج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہے آج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہے آج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہے یاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے امید قوی ہے کہ فخر اپنے کام کے باعث یاد د رکھے جائیں گے اگرچہ ان کا انکسار ،کشادہ دلی اور خدمت خلق بھی ناقابل فراموش ہیں۔ رحمان حفیظ . . . . . . . . #drfakharabbaspoetry #yejolahoresemohabbathai #ڈاکٹرفخرعباس💔 #todaytrendingpoetry #drfakharabbasdeath💔 . . . . . . 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔

About