@dance.x.girle:

🩰Dance x Girle💃
🩰Dance x Girle💃
Open In TikTok:
Region: PK
Monday 08 June 2026 02:06:17 GMT
17386
1841
32
33

Music

Download

Comments

professoras01
Professor :$ 🦋A :
🦋🦋🦋
2026-07-12 04:57:49
0
usama.asgher5
Usama Asgher :
❤️❤️❤️
2026-07-08 05:50:42
0
user423013246
Malik Ali :
🥰🥰🥰
2026-07-07 17:15:09
0
ali46fortysix
ali khan 46 :
🥰🥰🥰
2026-07-06 15:11:41
0
kingbabarazam903
king Babar azam :
💯💯💯
2026-07-05 18:43:46
0
ashrafulislamp188
Aຮhrαfบl★ :
🥰🥰🥰
2026-06-15 13:39:26
0
munirkhan366
Munir Khan 🇵🇰🇹🇷 :
🌹🌹🌹
2026-06-14 09:58:37
0
khalifathaikaidaar
Khalifa Thaikaidaar :
🥰
2026-06-11 07:43:06
0
rai_kharl_saab_zada_
🔥😈رائے کھرل صاحب زادہ 💞☠️ :
😳😳😳
2026-06-10 16:04:29
0
34musa6
musa khan :
🥰🥰🥰
2026-06-10 12:00:29
0
ballil23
ballil+b :
♥️♥️♥️
2026-06-10 11:21:13
0
grawalalak
🌿☘️ غراوال JANAN❤️❤️ :
🥰🥰🥰
2026-06-10 10:05:31
0
abbas.king2635
Abbas King :
🥰🥰🥰
2026-06-10 06:14:04
0
user47235407810187
فرید احمد :
🥰🥰🥰
2026-06-10 01:18:22
0
abdulbasit.jani
abdulbasit jani :
🥰🥰🥰
2026-06-09 05:06:19
0
imranassi378
Doctor↔️Chill :
🥰🥰🥰
2026-06-08 13:54:34
0
prince.noori86
princenoori73 :
🥰🥰🥰
2026-06-08 13:20:54
0
hameed.ullah2579
Hameed Ullah :
🥰🥰🥰
2026-06-08 11:48:57
0
abdulahda64
احد پٹھان🤫 :
❤️❤️❤️
2026-06-08 10:57:53
0
sahidullah09876543210
sahid khan :
❤️❤️❤️
2026-06-08 10:35:31
0
khushal.khan3755
💔خوشحال عمرز💔 :
🥰🥰🥰🥰
2026-06-08 08:51:33
0
user791167456
Rizwan Khan :
🥰🥰🥰
2026-06-08 07:44:43
0
abdu.rehman0951
🦅コーデSB. 804—. — -🦅 :
❤️❤️❤️
2026-06-08 07:03:31
0
ali.king.123461
Ali safi1234 :
🥰🥰🥰
2026-06-08 02:10:03
0
To see more videos from user @dance.x.girle, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Yeh zameen teri nahin, meri nahi tere aaba ki nahin meri nahi ..  تشریح  اَلارضُ لِلّہ   پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب مطلب: ان چار اشعار پر مشتمل اس نظم کا بنیادی موضوع زمین کی ملکیت کا مسئلہ ہے ۔ احکام قرآنی اور تعلیمات اسلامی کے حوالے سے اقبال یہاں کہتے ہیں کہ زمین کا مالک زمنیدار اور جاگیردار نہیں بلکہ خدائے ذوالجلال ہے ۔ اور جو کاشتکار اپنی اپنی محنت سے اس کی آبیاری کر کے فصل اگاتا ہے وہ اگر کسی کے سامنے جوابدہ ہے تو وہ محض ذات خداوندی ہے ۔ لہذا زمیندار اور جاگیردار وں کو جنہوں نے تمام زمینوں پر اپنی اجارہ داری کر کے مزارعین اور کاشتکاروں کو اپنا غلام بنایا ہے اور ان لوگوں کی خون پسینے کی کمائی سے ہی اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور پھر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ سو اقبال زمینداروں اور جاگیرداروں سے استفسار کرتے ہیں کہ براہ کرم اتنا تو بتا دو کہ وہ کون ہے جو زمین پر ہل چلا کر وہاں فصل اگانے کے لیے بیج ڈالتا ہے اورا س عمل کے لیے کس نے اسے اتنی صلاحیت عطا کی ہے پھر اس بیج کی پرورش کون کرتا ہے اور وہ کون ہے جو دریاؤں اور سمندروں کی موجوں سے پانی کشید کر کے بادلوں میں محفوظ کرتا ہے اور پھر ان محفوظ ذخائر اگتی ہوئی فصلوں کو تازگی اور نشوونما کے مراحل سے گزارتا ہے ۔   کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار خاک یہ کس کی ہےکس کا ہے یہ نورِ آفتاب مطلب: اس سوال کا جواب بھی دے کہ انہی فصلوں کی پرداخت کے لیے مغرب سے جو ہوائیں آتی ہیں وہ کس کے حکم سے آتی ہیں ۔ یہ زمین کس کی ہے اور سورج جو روشنی فراہم کرتا ہے کس کے حکم سے کرتا ہے ۔   کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہَ گندم کی جیب موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب مطلب: وہ کون سی قوت ہے جو وقتا فوقتا موسموں میں تبدیلی لاتی ہے اور گندم کی فصل پکنے پر اس کے سنہری خوشے موتیوں جیسے دانوں سے بھر دیتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ خدا کے علاوہ کوئی نہیں ۔   دہِ خدایا! یہ ز میں تیری نہیں ، تیری نہیں  تیرے آبا کی نہیں ، تیری نہیں ، میری نہیں  مطلب: اے زمینوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے شخص! یہ حقیقت تجھ پر واضح کرنی ضروری ہے کہ یہ زمین نہ تیری ہے نا تیرے آباء و اجداد اس کے مالک ہیں ۔ نہ میری ہے بلکہ اس زمین کا مالک حقیقی تو وہ رب ذوالجلال ہے جس نے ہم سب کو اور پوری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ #allamaiqbal  #ziamohyeddin  #zameen
Yeh zameen teri nahin, meri nahi tere aaba ki nahin meri nahi .. تشریح اَلارضُ لِلّہ پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب مطلب: ان چار اشعار پر مشتمل اس نظم کا بنیادی موضوع زمین کی ملکیت کا مسئلہ ہے ۔ احکام قرآنی اور تعلیمات اسلامی کے حوالے سے اقبال یہاں کہتے ہیں کہ زمین کا مالک زمنیدار اور جاگیردار نہیں بلکہ خدائے ذوالجلال ہے ۔ اور جو کاشتکار اپنی اپنی محنت سے اس کی آبیاری کر کے فصل اگاتا ہے وہ اگر کسی کے سامنے جوابدہ ہے تو وہ محض ذات خداوندی ہے ۔ لہذا زمیندار اور جاگیردار وں کو جنہوں نے تمام زمینوں پر اپنی اجارہ داری کر کے مزارعین اور کاشتکاروں کو اپنا غلام بنایا ہے اور ان لوگوں کی خون پسینے کی کمائی سے ہی اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور پھر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ سو اقبال زمینداروں اور جاگیرداروں سے استفسار کرتے ہیں کہ براہ کرم اتنا تو بتا دو کہ وہ کون ہے جو زمین پر ہل چلا کر وہاں فصل اگانے کے لیے بیج ڈالتا ہے اورا س عمل کے لیے کس نے اسے اتنی صلاحیت عطا کی ہے پھر اس بیج کی پرورش کون کرتا ہے اور وہ کون ہے جو دریاؤں اور سمندروں کی موجوں سے پانی کشید کر کے بادلوں میں محفوظ کرتا ہے اور پھر ان محفوظ ذخائر اگتی ہوئی فصلوں کو تازگی اور نشوونما کے مراحل سے گزارتا ہے ۔ کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار خاک یہ کس کی ہےکس کا ہے یہ نورِ آفتاب مطلب: اس سوال کا جواب بھی دے کہ انہی فصلوں کی پرداخت کے لیے مغرب سے جو ہوائیں آتی ہیں وہ کس کے حکم سے آتی ہیں ۔ یہ زمین کس کی ہے اور سورج جو روشنی فراہم کرتا ہے کس کے حکم سے کرتا ہے ۔ کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہَ گندم کی جیب موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب مطلب: وہ کون سی قوت ہے جو وقتا فوقتا موسموں میں تبدیلی لاتی ہے اور گندم کی فصل پکنے پر اس کے سنہری خوشے موتیوں جیسے دانوں سے بھر دیتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ خدا کے علاوہ کوئی نہیں ۔ دہِ خدایا! یہ ز میں تیری نہیں ، تیری نہیں تیرے آبا کی نہیں ، تیری نہیں ، میری نہیں مطلب: اے زمینوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے شخص! یہ حقیقت تجھ پر واضح کرنی ضروری ہے کہ یہ زمین نہ تیری ہے نا تیرے آباء و اجداد اس کے مالک ہیں ۔ نہ میری ہے بلکہ اس زمین کا مالک حقیقی تو وہ رب ذوالجلال ہے جس نے ہم سب کو اور پوری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ #allamaiqbal #ziamohyeddin #zameen

About