@amsbastory: #justfriend #whenyah😹 #ambatukam #ambativasi #quetes

AmsbaStory
AmsbaStory
Open In TikTok:
Region: ID
Monday 08 June 2026 15:12:58 GMT
27908
1900
125
773

Music

Download

Comments

noneofyourbusiness.gmail
johan liebert :
investasi disini
2026-06-08 15:21:28
4
aprilio.wardana_28
BOOM★ :
2026-07-26 21:43:22
0
xieelietttt
... :
sad story
2026-06-08 15:15:16
0
sean.epep0
💤®alex :
Kata kata nya kelas mas amboy 😹
2026-06-09 09:45:20
1
515.mr_moba
uzyyl :
cieee ngak bisa di like😂😂                     🚇 anjir gak bisa beneran😱
2026-06-21 07:58:13
0
fanzzapcbjir
tirzz mau berak😹 :
siappp bang ambatavitasi
2026-06-08 15:15:03
1
kahfimpengenberubah
FIMODESERIUS🔥 :
njir posisi gua sekarang😃
2026-06-29 13:11:33
0
kingicarus39
ARIF~XYNX :
uuuuuu kata kata mas Amba
2026-07-24 23:03:32
0
To see more videos from user @amsbastory, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تھانہ یارحسین کی کھلی کچہری میں آیاز شغیب خان کا اظہارِ خیال تھانہ یارحسین میں ڈی ایس پی فضل شیر خان کی زیرِ صدارت منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے آیاز شغیب خان نے امن و امان کی صورتحال پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈی پی او ایک فرض شناس افسر ہیں، تاہم انہیں یہ فکر لاحق ہے کہ اگر مستقبل میں یہ نظام برقرار نہ رہا تو علاقے میں حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے افراد کے بچوں کے مستقبل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر ان کی مناسب رہنمائی اور دیکھ بھال نہ کی گئی تو وہ انتقام یا جرائم کی راہ اختیار کر سکتے ہیں، جس سے معاشرے میں مزید خونریزی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے صرف پولیس ہی نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ 🎥 مکمل بیان ویڈیو میں ملاحظہ کریں۔
تھانہ یارحسین کی کھلی کچہری میں آیاز شغیب خان کا اظہارِ خیال تھانہ یارحسین میں ڈی ایس پی فضل شیر خان کی زیرِ صدارت منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے آیاز شغیب خان نے امن و امان کی صورتحال پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈی پی او ایک فرض شناس افسر ہیں، تاہم انہیں یہ فکر لاحق ہے کہ اگر مستقبل میں یہ نظام برقرار نہ رہا تو علاقے میں حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے افراد کے بچوں کے مستقبل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر ان کی مناسب رہنمائی اور دیکھ بھال نہ کی گئی تو وہ انتقام یا جرائم کی راہ اختیار کر سکتے ہیں، جس سے معاشرے میں مزید خونریزی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے صرف پولیس ہی نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ 🎥 مکمل بیان ویڈیو میں ملاحظہ کریں۔

About