@elenaa.petrin: anish la mia ombra 🤣🥹

Elena Petrin 💌🪽
Elena Petrin 💌🪽
Open In TikTok:
Region: IT
Wednesday 10 June 2026 11:08:18 GMT
147360
21144
129
621

Music

Download

Comments

_ilary__3
_ilary__3 :
ma quanto stanno crescendo i capelliii😍💖💖
2026-06-10 11:11:07
80
giada.cornetti
Giada :
Il gatto sembra un leopardo😻
2026-06-10 11:28:13
12
user354762310
. :
anche io mi meritavo di essere così bella però
2026-06-10 14:49:31
27
luciacampagna_
lu :
Oddio ma adesso sembra che avete gli stessi colori di capelli e il suo pelo🥹
2026-06-10 15:48:08
9
_eleee.eee_
𝑬𝑳𝑬𝑵𝑨☀️ :
ma quanto sei bella ele, il prime non finisce mai 😭❤️
2026-06-10 11:26:13
31
jaskorea0
Jas🦇🦇 :
elee da dove la canottieraaa è super carinaa
2026-06-16 15:11:05
1
anna.clairess
ankra :
comunque amore ultimamente hai glow diverso, sei ancora più bella💗
2026-06-11 15:42:17
1
butubruneta
butubruneta :
tutorial capelli? Please🥺
2026-06-10 15:29:42
1
maddiprivateee
maddi♡ :
sei stupenda
2026-06-12 11:46:34
1
ggielle
𑣲giulia :
i capelli così ti stanno da dio
2026-06-10 12:19:35
13
aya.gn12
aya.gn12 :
Eleee ci fai vedere meglio le unghiee
2026-06-11 13:47:05
0
mxm.federica7
mxm.federica7 :
stupendaaa😍😍😍
2026-06-12 14:12:40
1
melissaboscolo_
melissa :
bellissima ❤️
2026-06-12 11:20:16
1
edyanddr
Edy🎭🔥 :
Ho letto ashish per un attimo
2026-06-10 14:53:51
0
gildaannaferrante0
Gilda Anna Ferrante :
Anish ti ama ormai.🥺🩷
2026-06-10 14:39:08
1
cobzaruolivia
17 :
2026-06-11 12:31:23
1
rachele.ditri
Rachele | UGC :
Una bambolaaaaa
2026-06-11 04:07:47
1
To see more videos from user @elenaa.petrin, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

محترم غازی صلاح الدین صاحب آر پی او بہاولپور ،
 محترم عرفان علی سموں صاحب ڈی پی او رحیم یار خان
 محترم آغا انعام اللہ صاحب اے ایس پی صادق آباد -- 
 اسلام وعلیکم --- میں آپ کو صادق آباد کے ایک معمولی سے کیس کی سٹوری سُناتا ہوں اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ رحیم یارخان پولیس کے کچھ لوگ کس طرح کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں اور کس طرح اس کے متاثرین کی کہیں بھی رحیم یار خان میں شنوائی نہیں ہو رہی اور پورا سسٹم اپنے کرپٹ پولیس ملازمان کو سپورٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔
 مورخہ 17 اگست 2026 تقریبا چار بجے شام کو تھانہ منٹھار میں تعینات راشد گوندل ASI, عنصر گوندل حوالدار ایک پرائیویٹ کار پر اور ایک موٹر سائیکل پر سوار ملازمان کے ساتھ جن میں سے صرف ایک پولیس ملازم نے غلطی سے وردی پہنی ہوئی تھی کہ بقیہ سفید پارچات میں تھے۔
 چک 186 پی ( علاقہ تھانہ صدر صادق آباد) اشرف جٹ کے گھر پر ریڈ کر کے اس کے بیٹے عُمر کو گرفتار کر کے لے جانے لگتے ہیں۔ گھر کے اور ہمسایہ گان مردوں کے اور گھر کی عورتوں کے مزاحمت کرنے پر ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔
 لیکن گاوں کے لوگوں کے اکٹھا ہونے اور پوچھنے پر راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار فرماتے ہیں کہ عمر جس کو ہم نے پکڑا ہے اس کے کچے کے ڈاکووں کے ساتھ رابطے ہیں ہمارے پاس ثبوت موجود ہے۔ جب وہاں کچھ لوگ ثبوت مانگتے ہیں تو راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار فرماتے ہیں کہ عمر جٹ کے موبائل میں بھی ثبوت موجود ہیں۔ ہمیں اس کا موبائل لے جانے دیں ہم آپ کو اس کے کچے والوں سے روابط ثابت کر دیں گے۔
 لہذا عُمر جٹ کو چھوڑ کر موبائل لیکر پولیس کے جوانوں کی ٹیم روانہ ہوتی ہے۔ اور گاوں کے باہر جا کر درمیانی بندوں کو کال کرتی ہے کہ کچے والوں سے رابطے کے ثبوت تو نہیں ملے لیکن عُمر کے موبائل میں اسکی فیملی کی تصاویر ضرور مل گئیں ہیں ایک لاکھ لے دو نہیں تو ان کو کہو کہ ہم نے انکے گھر کی تصاویر وائرل کر دینی ہیں۔ معاملہ بیس ہزار میں طے ہوتا ہے۔ اور عمر جٹ کے بھنوئی عامر چیمہ جو کہ اسی گاوں کا رہائشی ہے کے ہاتھ سے بیس ہزار روپے لیکر گاوں کے باہر عنصر گوندل لو ڈیکر موبائل واپس لے آتا ہے۔
 عمر جٹ صبح اے ایس پی آفس صادق آباد اس بابت درخواست دیتا ہے تو اے ایس پی آفس میں موجود الزام علیہان کے رشتہ دار وہ درخواست غائب کر دیتے ہیں۔ اور راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار عمر جٹ اور اسکی فیملی کو خود اور لوکل چٹی دلالوں کے ذریعے اتنا براساں کرتے ہیں کہ عمر کے والد کو فالج کا اٹیک ہوتا ہے اور اسے Ryk ہسپتال علاج کے لئے داخل کروانا پڑتا ہے۔
 19 اگست 2026 کی رات عنصر گوندل حوالدار علاقے کے چٹی دلالوں کی ٹیم کے ہمراہ چک 186 الطاف باٹھ کے ڈیرے پر آتا ہے اور وہاں پر عامر چیمہ ( جو کہ عمر جٹ کا بھنوئی ہے) پر پیسے واپس لینے کے لئے زور دیتا ہے کہ تم یہ بیس ہزار واپس لے لو ہم نے تو تمہارے ہاتھ سے پیسے پکڑے تھے ہم کہیں بات ہوئی تو قسم اٹھا لیں گے لیکن عامر چیمہ کے پیسے واپس ناں لینے پر عنصر گوندل حوالدار وہ پیسے الطاف باٹھ کے ڈیرے پر پھینک جاتے ہیں جو کہ مقامی افراد اٹھا لیتے ہیں۔
 عمر جٹ اور عامر چیمہ کے پیسے مقامی لوگوں سے واپس ناں لینے کی پاداش میں صبح شام ان کو کبھی ہاف فرائی کرنے کی دھمکیاں جاری ہیں اور کبھی سی ڈی کے ہاتھوں اٹھوانے کی۔
 کچھ ویڈیوز اور الطاف باٹھ کے ڈیرے پر پیسے واپس کرنے کی عنصر حوالدار کی آڈیو بطور ثبوت لگا رہا ہوں۔ سُن کر فیصلہ کر لیں کہ وہ ملازم جنہوں نے بغیر کسی جواز کے کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ایک شریف شہری کے گھر ریڈکیا ، گاوں والوں کی اور ان کی عورتوں کی تضلیل کی موبائل واپس کرنے کے لئے رشوت لی ، متاثرہ شخص کی درخواست Asp آفس میں غائب کر دی گئی۔ متاثرہ فیملی کا سربراہ اس فرمائشی ریڈ کے صدمے کی وجہ دے ہسپتال داخل ہے۔ پیسے لینے اور واپس کرنے کی آڈیو تک موجود ہے
 وہ پولیس ملازمان کلوز ٹو لائن ہونے والے 21 پولیس ملازمان میں شامل نہیں ہیں۔
 میری آر پی او بہاولپور، ڈی پی او صاحب اور اے ایس پی صاحب سے گزارش ہےکہ وزیر اعلی پنجاب کے وژن کے مطابق محکمہ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کا احتساب کیا جائے۔
 
 ---
محترم غازی صلاح الدین صاحب آر پی او بہاولپور ، محترم عرفان علی سموں صاحب ڈی پی او رحیم یار خان محترم آغا انعام اللہ صاحب اے ایس پی صادق آباد -- اسلام وعلیکم --- میں آپ کو صادق آباد کے ایک معمولی سے کیس کی سٹوری سُناتا ہوں اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ رحیم یارخان پولیس کے کچھ لوگ کس طرح کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں اور کس طرح اس کے متاثرین کی کہیں بھی رحیم یار خان میں شنوائی نہیں ہو رہی اور پورا سسٹم اپنے کرپٹ پولیس ملازمان کو سپورٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ مورخہ 17 اگست 2026 تقریبا چار بجے شام کو تھانہ منٹھار میں تعینات راشد گوندل ASI, عنصر گوندل حوالدار ایک پرائیویٹ کار پر اور ایک موٹر سائیکل پر سوار ملازمان کے ساتھ جن میں سے صرف ایک پولیس ملازم نے غلطی سے وردی پہنی ہوئی تھی کہ بقیہ سفید پارچات میں تھے۔ چک 186 پی ( علاقہ تھانہ صدر صادق آباد) اشرف جٹ کے گھر پر ریڈ کر کے اس کے بیٹے عُمر کو گرفتار کر کے لے جانے لگتے ہیں۔ گھر کے اور ہمسایہ گان مردوں کے اور گھر کی عورتوں کے مزاحمت کرنے پر ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔ لیکن گاوں کے لوگوں کے اکٹھا ہونے اور پوچھنے پر راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار فرماتے ہیں کہ عمر جس کو ہم نے پکڑا ہے اس کے کچے کے ڈاکووں کے ساتھ رابطے ہیں ہمارے پاس ثبوت موجود ہے۔ جب وہاں کچھ لوگ ثبوت مانگتے ہیں تو راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار فرماتے ہیں کہ عمر جٹ کے موبائل میں بھی ثبوت موجود ہیں۔ ہمیں اس کا موبائل لے جانے دیں ہم آپ کو اس کے کچے والوں سے روابط ثابت کر دیں گے۔ لہذا عُمر جٹ کو چھوڑ کر موبائل لیکر پولیس کے جوانوں کی ٹیم روانہ ہوتی ہے۔ اور گاوں کے باہر جا کر درمیانی بندوں کو کال کرتی ہے کہ کچے والوں سے رابطے کے ثبوت تو نہیں ملے لیکن عُمر کے موبائل میں اسکی فیملی کی تصاویر ضرور مل گئیں ہیں ایک لاکھ لے دو نہیں تو ان کو کہو کہ ہم نے انکے گھر کی تصاویر وائرل کر دینی ہیں۔ معاملہ بیس ہزار میں طے ہوتا ہے۔ اور عمر جٹ کے بھنوئی عامر چیمہ جو کہ اسی گاوں کا رہائشی ہے کے ہاتھ سے بیس ہزار روپے لیکر گاوں کے باہر عنصر گوندل لو ڈیکر موبائل واپس لے آتا ہے۔ عمر جٹ صبح اے ایس پی آفس صادق آباد اس بابت درخواست دیتا ہے تو اے ایس پی آفس میں موجود الزام علیہان کے رشتہ دار وہ درخواست غائب کر دیتے ہیں۔ اور راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار عمر جٹ اور اسکی فیملی کو خود اور لوکل چٹی دلالوں کے ذریعے اتنا براساں کرتے ہیں کہ عمر کے والد کو فالج کا اٹیک ہوتا ہے اور اسے Ryk ہسپتال علاج کے لئے داخل کروانا پڑتا ہے۔ 19 اگست 2026 کی رات عنصر گوندل حوالدار علاقے کے چٹی دلالوں کی ٹیم کے ہمراہ چک 186 الطاف باٹھ کے ڈیرے پر آتا ہے اور وہاں پر عامر چیمہ ( جو کہ عمر جٹ کا بھنوئی ہے) پر پیسے واپس لینے کے لئے زور دیتا ہے کہ تم یہ بیس ہزار واپس لے لو ہم نے تو تمہارے ہاتھ سے پیسے پکڑے تھے ہم کہیں بات ہوئی تو قسم اٹھا لیں گے لیکن عامر چیمہ کے پیسے واپس ناں لینے پر عنصر گوندل حوالدار وہ پیسے الطاف باٹھ کے ڈیرے پر پھینک جاتے ہیں جو کہ مقامی افراد اٹھا لیتے ہیں۔ عمر جٹ اور عامر چیمہ کے پیسے مقامی لوگوں سے واپس ناں لینے کی پاداش میں صبح شام ان کو کبھی ہاف فرائی کرنے کی دھمکیاں جاری ہیں اور کبھی سی ڈی کے ہاتھوں اٹھوانے کی۔ کچھ ویڈیوز اور الطاف باٹھ کے ڈیرے پر پیسے واپس کرنے کی عنصر حوالدار کی آڈیو بطور ثبوت لگا رہا ہوں۔ سُن کر فیصلہ کر لیں کہ وہ ملازم جنہوں نے بغیر کسی جواز کے کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ایک شریف شہری کے گھر ریڈکیا ، گاوں والوں کی اور ان کی عورتوں کی تضلیل کی موبائل واپس کرنے کے لئے رشوت لی ، متاثرہ شخص کی درخواست Asp آفس میں غائب کر دی گئی۔ متاثرہ فیملی کا سربراہ اس فرمائشی ریڈ کے صدمے کی وجہ دے ہسپتال داخل ہے۔ پیسے لینے اور واپس کرنے کی آڈیو تک موجود ہے وہ پولیس ملازمان کلوز ٹو لائن ہونے والے 21 پولیس ملازمان میں شامل نہیں ہیں۔ میری آر پی او بہاولپور، ڈی پی او صاحب اور اے ایس پی صاحب سے گزارش ہےکہ وزیر اعلی پنجاب کے وژن کے مطابق محکمہ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کا احتساب کیا جائے۔ ---

About