@sakurrrra7:

sakura𐔌՞ ܸ.ˬ.ܸ՞𐦯
sakura𐔌՞ ܸ.ˬ.ܸ՞𐦯
Open In TikTok:
Region: UA
Thursday 11 June 2026 12:57:23 GMT
4
1
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @sakurrrra7, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حب کو روس کی دوستی کے الزام میں شہید کیا گیا، آجا وہی لوگ روس کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہیلہ نجیب اللہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات نظريات نہیں بلکہ مفادات بدلتے ہیں اور انہی بدلتے ہوئے مفادات کی قیمت بے شمار خاندانوں کو اپنے پیاروں کی قربانیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہیلہ نجیب اللہ کا یہ جملہ محض ایک ذاتی دکھ کا اظہار نہیں بلکہ ہماری سیاسی تاریخ کے ایک تلخ تضاد کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگوں کو محض کسی نظریاتی وابستگی یا الزام کی بنیاد پر دشمن قرار دیا جاتا تھا، ان کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی تھی اور بعض اوقات انہیں اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی قوتیں اور وہی حلقے اپنے سیاسی اور سفارتی مفادات کے تحت انہی تعلقات کو قبول کر لیتے ہیں جن کی بنیاد پر کبھی دوسروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کل کسی تعلق یا نظریے کی بنیاد پر لوگوں کو قربان کیا گیا، تو آج انہی پالیسیوں اور تعلقات کو اختیار کرنے والوں سے کوئی سوال کیوں نہیں کیا جاتا؟ تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ اسے یکساں پیمانے سے پرکھا جائے، نہ کہ وقتی مفادات کے مطابق قوموں کی ترقی انتقام الزام تراشی اور دوہرے معیار سے نہیں بلکہ سچائی کا سامنا کرنے، ماضی سے سبق سیکھنے اور انسانی جان کی حرمت کو تسلیم کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔ جن خاندانوں نے اپنے عزیز کھوئے ہیں، ان کے زخم اس وقت تک نہیں بھرتے جب تک تاریخ کے ان تلخ ابواب کا دیانت داری سے جائزہ نہ لیا جائے۔
حب کو روس کی دوستی کے الزام میں شہید کیا گیا، آجا وہی لوگ روس کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہیلہ نجیب اللہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات نظريات نہیں بلکہ مفادات بدلتے ہیں اور انہی بدلتے ہوئے مفادات کی قیمت بے شمار خاندانوں کو اپنے پیاروں کی قربانیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہیلہ نجیب اللہ کا یہ جملہ محض ایک ذاتی دکھ کا اظہار نہیں بلکہ ہماری سیاسی تاریخ کے ایک تلخ تضاد کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگوں کو محض کسی نظریاتی وابستگی یا الزام کی بنیاد پر دشمن قرار دیا جاتا تھا، ان کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی تھی اور بعض اوقات انہیں اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی قوتیں اور وہی حلقے اپنے سیاسی اور سفارتی مفادات کے تحت انہی تعلقات کو قبول کر لیتے ہیں جن کی بنیاد پر کبھی دوسروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کل کسی تعلق یا نظریے کی بنیاد پر لوگوں کو قربان کیا گیا، تو آج انہی پالیسیوں اور تعلقات کو اختیار کرنے والوں سے کوئی سوال کیوں نہیں کیا جاتا؟ تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ اسے یکساں پیمانے سے پرکھا جائے، نہ کہ وقتی مفادات کے مطابق قوموں کی ترقی انتقام الزام تراشی اور دوہرے معیار سے نہیں بلکہ سچائی کا سامنا کرنے، ماضی سے سبق سیکھنے اور انسانی جان کی حرمت کو تسلیم کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔ جن خاندانوں نے اپنے عزیز کھوئے ہیں، ان کے زخم اس وقت تک نہیں بھرتے جب تک تاریخ کے ان تلخ ابواب کا دیانت داری سے جائزہ نہ لیا جائے۔

About