@wyn_nhu12: Ẻm xinh xĩu#cathy #mahongchongnangsundrop #mahongkem

Đanggg tập làm affiliate
Đanggg tập làm affiliate
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 14 June 2026 03:53:47 GMT
187
9
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @wyn_nhu12, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا ہم ان بچیوں کو بھی برقع پہنائیں اور ان کو عزت کے نام پر گھروں میں قید رکھیں۔ اس پھول جیسی بچی کے ساتھ ہونے والی درندگی انسانیت کے منہ پر تمانچہ ہے۔💔😭💔 کچھ خبریں صرف خبر نہیں ہوتیں… وہ دل پر بوجھ بن جاتی ہیں، انسان کو خاموش کر دیتی ہیں۔ آج صبح سے دل عجیب اداسی میں ڈوبا رہا، کئی بار سوچا کچھ نہ لکھوں… مگر پھر محسوس ہوا کہ خاموش رہنا بھی شاید درد کو معمول بنا دینا ہے۔ آخر ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے؟ کب تک معصوم زندگیاں ظلم، بے حسی اور ناانصافی کی نذر ہوتی رہیں گی؟ ہر نیا واقعہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں ہوتا، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک سوال چھوڑ جاتا ہے۔ ایک معصوم جان کے چلے جانے کے بعد صرف ایک گھر نہیں اجڑتا، کئی خواب ٹوٹ جاتے ہیں، کئی دل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔ ایسے سانحات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی ایک محفوظ معاشرے کی طرف جا رہے ہیں؟ ہم حکومتِ وقت، عدلیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ ایسے سنگین جرائم میں فوری، شفاف اور مثالی انصاف یقینی بنایا جائے تاکہ مجرموں کو انجام تک پہنچایا جا سکے اور آئندہ کسی معصوم کی زندگی اس ظلم کا شکار نہ ہو۔ آج ضرورت صرف افسوس کرنے کی نہیں، بلکہ انصاف، ذمہ داری اور تبدیلی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ منتحیٰ کو اپنی رحمتوں میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو یہ ناقابلِ بیان صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲💔 #JusticeForMuntaha#SafePakistan#EndViolenceAgainstChildrenسرگودہا: منتہا کی تدفین سے پہلے اصل مجرم کیفرکردار تک پہنچ گیا ۔۔ معصوم بچی پر کیا گزری افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں ۔۔۔۔۔منتہا کے گھر میں چائے بن رہی تھی ، ماں نے چینی  چینی لانے کے لیے اسے قریبی اسٹور بھیج دیا۔ یہ روز کا معمول تھا گلی محلے کی بات تھی نہ ماں کے دل میں کوئی اندیشہ تھا، نہ باپ کے ذہن میں کوئی خوف۔11  بجے بچی دکان پر گئی جو چند قدم کے فاصلے پر تھی لیکن آدھے گھنٹے بعد بھی بچی واپس نہ آئی  پہلے انتظار، پھر بے چینی، پھر خوف۔ اہلِ خانہ اور محلے کے قریبی گھروں  نے گلیاں چھان ماریں، پڑوسیوں سے پوچھا، رشتہ داروں کو فون کیے، مگر ننھی بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی تو منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی، لیکن باہر نکلتی دکھائی نہ دی۔پولیس کو بلایا گیا جب دکان اور اسکے اوپر بنے کمرے کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے بچی کی لا۔ش خون میں لت۔ پت برآمد ہو گئی ، ملزم فرار ہو چکا تھا مگر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے فوری پیچھا کیا گیا اور شہر سے نکلنے کی کوشش میں لگے ملزم اور اسکے ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا ، جنہوں نے اعتراف کیا کہ درندگی کی وجہ سے بچی چیخنے لگی تو  اصل ملزم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر  سانس بند کرکے اسے مار ڈالا   ایک معصوم بچی، جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ سمجھ سکی تھی، درندگی اور سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ وہ ننھی کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی خواب دیکھنا شروع بھی نہیں کیے تھے، اسے بے رحمی سے مسل دیا گیا۔اگرچہ ملزم واصل جہنم کیا جاچکا ہے لیکن اس سے کیا فر ق پڑتا ہے ظلم ہوا نہ زمین کانپی نہ آسمان رویا ، دکان کے سامنے چند گھنٹوں کے لیے ہجوم اکٹھا ہوا لیکن آج بھی زندگی ویسے ہی رواں دواں ہے ، بازار ویسے ہی کھلا ہے فرق صرف یہ پڑا کہ منتہا کے گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ماں ہر آنیوالی عورت کو کہتی ہے بچوں کا خیال رکھنا انہیں گھر سے نہ نکلنے دینا کیونکہ یہ معاشرہ نہیں جنگل ہے  یہاں انسان کم اور درندے زیادہ ہیں ۔۔ #fhg
کیا ہم ان بچیوں کو بھی برقع پہنائیں اور ان کو عزت کے نام پر گھروں میں قید رکھیں۔ اس پھول جیسی بچی کے ساتھ ہونے والی درندگی انسانیت کے منہ پر تمانچہ ہے۔💔😭💔 کچھ خبریں صرف خبر نہیں ہوتیں… وہ دل پر بوجھ بن جاتی ہیں، انسان کو خاموش کر دیتی ہیں۔ آج صبح سے دل عجیب اداسی میں ڈوبا رہا، کئی بار سوچا کچھ نہ لکھوں… مگر پھر محسوس ہوا کہ خاموش رہنا بھی شاید درد کو معمول بنا دینا ہے۔ آخر ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے؟ کب تک معصوم زندگیاں ظلم، بے حسی اور ناانصافی کی نذر ہوتی رہیں گی؟ ہر نیا واقعہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں ہوتا، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک سوال چھوڑ جاتا ہے۔ ایک معصوم جان کے چلے جانے کے بعد صرف ایک گھر نہیں اجڑتا، کئی خواب ٹوٹ جاتے ہیں، کئی دل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔ ایسے سانحات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی ایک محفوظ معاشرے کی طرف جا رہے ہیں؟ ہم حکومتِ وقت، عدلیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ ایسے سنگین جرائم میں فوری، شفاف اور مثالی انصاف یقینی بنایا جائے تاکہ مجرموں کو انجام تک پہنچایا جا سکے اور آئندہ کسی معصوم کی زندگی اس ظلم کا شکار نہ ہو۔ آج ضرورت صرف افسوس کرنے کی نہیں، بلکہ انصاف، ذمہ داری اور تبدیلی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ منتحیٰ کو اپنی رحمتوں میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو یہ ناقابلِ بیان صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲💔 #JusticeForMuntaha#SafePakistan#EndViolenceAgainstChildrenسرگودہا: منتہا کی تدفین سے پہلے اصل مجرم کیفرکردار تک پہنچ گیا ۔۔ معصوم بچی پر کیا گزری افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں ۔۔۔۔۔منتہا کے گھر میں چائے بن رہی تھی ، ماں نے چینی چینی لانے کے لیے اسے قریبی اسٹور بھیج دیا۔ یہ روز کا معمول تھا گلی محلے کی بات تھی نہ ماں کے دل میں کوئی اندیشہ تھا، نہ باپ کے ذہن میں کوئی خوف۔11 بجے بچی دکان پر گئی جو چند قدم کے فاصلے پر تھی لیکن آدھے گھنٹے بعد بھی بچی واپس نہ آئی پہلے انتظار، پھر بے چینی، پھر خوف۔ اہلِ خانہ اور محلے کے قریبی گھروں نے گلیاں چھان ماریں، پڑوسیوں سے پوچھا، رشتہ داروں کو فون کیے، مگر ننھی بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی تو منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی، لیکن باہر نکلتی دکھائی نہ دی۔پولیس کو بلایا گیا جب دکان اور اسکے اوپر بنے کمرے کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے بچی کی لا۔ش خون میں لت۔ پت برآمد ہو گئی ، ملزم فرار ہو چکا تھا مگر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے فوری پیچھا کیا گیا اور شہر سے نکلنے کی کوشش میں لگے ملزم اور اسکے ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا ، جنہوں نے اعتراف کیا کہ درندگی کی وجہ سے بچی چیخنے لگی تو اصل ملزم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سانس بند کرکے اسے مار ڈالا ایک معصوم بچی، جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ سمجھ سکی تھی، درندگی اور سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ وہ ننھی کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی خواب دیکھنا شروع بھی نہیں کیے تھے، اسے بے رحمی سے مسل دیا گیا۔اگرچہ ملزم واصل جہنم کیا جاچکا ہے لیکن اس سے کیا فر ق پڑتا ہے ظلم ہوا نہ زمین کانپی نہ آسمان رویا ، دکان کے سامنے چند گھنٹوں کے لیے ہجوم اکٹھا ہوا لیکن آج بھی زندگی ویسے ہی رواں دواں ہے ، بازار ویسے ہی کھلا ہے فرق صرف یہ پڑا کہ منتہا کے گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ماں ہر آنیوالی عورت کو کہتی ہے بچوں کا خیال رکھنا انہیں گھر سے نہ نکلنے دینا کیونکہ یہ معاشرہ نہیں جنگل ہے یہاں انسان کم اور درندے زیادہ ہیں ۔۔ #fhg

About