@jy.killa: South Korea and Mexico 🤝 #fifaworldcup2026 #mexico #korea

jae
jae
Open In TikTok:
Region: US
Monday 15 June 2026 18:28:16 GMT
717821
101174
1324
10359

Music

Download

Comments

vickyg6590
VickyG :
We aren’t toxic, we are passionate 😁
2026-06-15 21:27:58
8556
ronisalgadito
Roni :
Sofia is Colombian. You should have put a picture of Salma
2026-06-15 20:42:36
4702
melizzza3
melizzza3 :
I’m Mexican Korean 💕 My father is Mexican and my mother is Korean.
2026-06-16 05:13:34
781
jennysan55
JennySan :
Kimchi tamales for Christmas 🎅🏻 🍾🎊🎉🎈❤️!!! Let’s do this!!!
2026-06-15 20:48:13
2191
rkiveofjin
💜 :
Me a Filipina:
2026-06-15 20:14:55
2020
rachelsanchez83
Rachel Sanchez :
As a Mexican, I approve this message 😁
2026-06-15 22:27:45
372
verosan7557
Veronica 💋 :
2026-06-15 19:18:07
468
ptigerlilly8895
Alrighty then :
Where are you watching the game?
2026-06-15 23:15:57
552
alizeessence
alize :
i’m japanese and mexican i love being rice and beans😭
2026-06-16 05:08:43
311
sancheeez44
BeautyAol :
Homie Sofia is Colombian
2026-06-15 19:50:42
659
chrisandabe
Chris & Abe :
As a Mexican engaged to a Korean, I can truly say we are the BEST COMBO 😅😝🙌🏼
2026-06-18 14:58:39
6
paulinah.715
Paulina ❌ :
I like rice and beans 😁
2026-06-17 09:28:48
5
miaovoxx
𝐌ine :
Omggggg stop itttttttt 😭😭😭 I love Philippinos 🥰
2026-06-17 02:03:48
6
panda_1970
Patricia :
2026-06-16 18:43:41
6
vndrevj
vndrevj :
U ain’t lyingggg
2026-06-16 23:46:40
5
elenita_serr
elenita 🌙 :
2026-06-15 19:16:31
46
nanimarti27
💙🦋NaniMar💚🌲 :
Ok, there I fixed it😂🥰
2026-06-15 21:50:29
47
texaslizzazz
Liz P :
I'm waiting right here for you bae
2026-06-15 19:09:22
52
To see more videos from user @jy.killa, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جھنگ میں ایک اور سانحہ: تین معصوم بہنیں اپنی ماں کے ہاتھوں ماری گئیں! ​ایک عورت ماں سے قاتل کیسے بنی؟ ​عیشال فاطمہ کے المناک سانحے نے درد کے جو نقوش ہمارے ذہنوں پر ثبت کیے تھے وہ ابھی مٹے بھی نہ تھے کہ تین معصوم کلیاں اپنی ہی ماں کے ہاتھوں دریائے جہلم کی لہروں کی نذر ہو گئیں۔ دونوں سانحات کی نوعیت اگرچہ مختلف ہے لیکن ان کا دکھ اور سسکیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ خونِ ناحق کا تماشہ تو یہاں روز کا ہے😭 روح لرزتی ہے جو قاتل کی جگہ ماں دیکھوں 💔 ​جھنگ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور دریائے جہلم کے کنارے آباد گاؤں چانڈیہ نشیب کے رہائشی امیر خان کی بارہ سال قبل طاہرہ یاسمین سے شادی ہوئی۔ اس گلشن میں تین سالہ مریم، سات سالہ صدف اور دس سالہ صنم بی بی نے جنم لیا۔ معصوم بچیوں نے اپنی عمر کی قلیل بہاریں والدین کے سائے میں ہنستے کھیلتے گزاریں، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ۲۰ جون ان کے لیے دردناک دائمی جدائی کا دن بن کر طلوع ہوا ہے۔ ​امیر خان کا تعلق چانڈیہ بلوچ برادری سے ہے، وہ زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی زمیندار کے ہاں ملازمت بھی کرتا ہے۔ طاہرہ یاسمین طویل عرصے سے ہرنیہ کے مرض میں مبتلا تھی اور اپنے شوہر سے آپریشن کروانے کا تقاضا کر رہی تھی۔ ہفتے کے روز بھی اسی تلخ موضوع پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد امیر خان غصے میں گھر سے باہر چلا گیا۔ ممتا کے روپ میں چھپی مایوسی اور جنون نے طاہرہ کو گھیرا اور وہ تینوں بیٹیوں کو لے کر چھتہ بخشہ کے قریب پتن پر پہنچ گئی۔ ​خاندانی ذرائع کے مطابق طاہرہ نے جب اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کو جہلم کی بپھرتی لہروں کے حوالے کیا تو بڑی بیٹی صنم بی بی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگی۔ مگر افسوس! بے رحم لہروں سے پہلے ماں کے بے لچک ہاتھوں نے اسے دبوچ لیا اور اسے ساتھ لے کر دریا میں چھلانگ لگا دی۔ ایک مقامی شخص نے جب یہ خونی منظر دیکھا تو مقامی افراد کی مدد سے اس نے طاہرہ یاسمین کو تو زندہ نکال لیا مگر صنم بی بی اور اس کی بہنیں دریائی لہروں کی تاریکیوں میں کھو گئیں۔ ​واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچا اور لاشوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا تاہم ہفتے کی رات تک کوئی کامیابی نہ مل سکی جس کے باعث اندھیرے کی وجہ سے آپریشن اگلے روز تک ملتوی کر دیا گیا،اب دیکھیں لاشیں بھی مل پائیں گی یا نہیں -  دوسری جانب، تھانہ قادر پور کی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس بدنصیب ماں کو حراست میں لے لیا اور شوہر کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر کے اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ ​ ​یہ اندوہناک واقعہ صرف ایک خاندانی جھگڑے کا شاخسانہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ایک ماں، جسے کائنات کا سب سے محفوظ ترین سایہ مانا جاتا ہے، اس کا قاتل بن جانا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں معاشی تنگدستی، طبی سہولیات کا نہ ہونا اور ذہنی تناؤ کس حد تک ناسور بن چکے ہیں۔ معمولی بیماری کے آپریشن کا خرچ نہ اٹھا پانا اور پھر اس پر پیدا ہونے والی مایوسی نے ایک ہنستے کھیلتے گھر کو اجاڑ دیا۔ یہ سانحہ حکومت اور اربابِ اختیار کے لیے ایک لمحہ فکر ہے کہ جب تک نچلے طبقے کو سستی طبی سہولیات اور ذہنی صحت کی کونسلنگ فراہم نہیں کی جائے گی تب تک ایسے دل دہلا دینے والے واقعات معاشرتی ضمیر کو جھنجھوڑتے رہیں گے۔
جھنگ میں ایک اور سانحہ: تین معصوم بہنیں اپنی ماں کے ہاتھوں ماری گئیں! ​ایک عورت ماں سے قاتل کیسے بنی؟ ​عیشال فاطمہ کے المناک سانحے نے درد کے جو نقوش ہمارے ذہنوں پر ثبت کیے تھے وہ ابھی مٹے بھی نہ تھے کہ تین معصوم کلیاں اپنی ہی ماں کے ہاتھوں دریائے جہلم کی لہروں کی نذر ہو گئیں۔ دونوں سانحات کی نوعیت اگرچہ مختلف ہے لیکن ان کا دکھ اور سسکیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ خونِ ناحق کا تماشہ تو یہاں روز کا ہے😭 روح لرزتی ہے جو قاتل کی جگہ ماں دیکھوں 💔 ​جھنگ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور دریائے جہلم کے کنارے آباد گاؤں چانڈیہ نشیب کے رہائشی امیر خان کی بارہ سال قبل طاہرہ یاسمین سے شادی ہوئی۔ اس گلشن میں تین سالہ مریم، سات سالہ صدف اور دس سالہ صنم بی بی نے جنم لیا۔ معصوم بچیوں نے اپنی عمر کی قلیل بہاریں والدین کے سائے میں ہنستے کھیلتے گزاریں، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ۲۰ جون ان کے لیے دردناک دائمی جدائی کا دن بن کر طلوع ہوا ہے۔ ​امیر خان کا تعلق چانڈیہ بلوچ برادری سے ہے، وہ زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی زمیندار کے ہاں ملازمت بھی کرتا ہے۔ طاہرہ یاسمین طویل عرصے سے ہرنیہ کے مرض میں مبتلا تھی اور اپنے شوہر سے آپریشن کروانے کا تقاضا کر رہی تھی۔ ہفتے کے روز بھی اسی تلخ موضوع پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد امیر خان غصے میں گھر سے باہر چلا گیا۔ ممتا کے روپ میں چھپی مایوسی اور جنون نے طاہرہ کو گھیرا اور وہ تینوں بیٹیوں کو لے کر چھتہ بخشہ کے قریب پتن پر پہنچ گئی۔ ​خاندانی ذرائع کے مطابق طاہرہ نے جب اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کو جہلم کی بپھرتی لہروں کے حوالے کیا تو بڑی بیٹی صنم بی بی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگی۔ مگر افسوس! بے رحم لہروں سے پہلے ماں کے بے لچک ہاتھوں نے اسے دبوچ لیا اور اسے ساتھ لے کر دریا میں چھلانگ لگا دی۔ ایک مقامی شخص نے جب یہ خونی منظر دیکھا تو مقامی افراد کی مدد سے اس نے طاہرہ یاسمین کو تو زندہ نکال لیا مگر صنم بی بی اور اس کی بہنیں دریائی لہروں کی تاریکیوں میں کھو گئیں۔ ​واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچا اور لاشوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا تاہم ہفتے کی رات تک کوئی کامیابی نہ مل سکی جس کے باعث اندھیرے کی وجہ سے آپریشن اگلے روز تک ملتوی کر دیا گیا،اب دیکھیں لاشیں بھی مل پائیں گی یا نہیں - دوسری جانب، تھانہ قادر پور کی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس بدنصیب ماں کو حراست میں لے لیا اور شوہر کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر کے اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ ​ ​یہ اندوہناک واقعہ صرف ایک خاندانی جھگڑے کا شاخسانہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ایک ماں، جسے کائنات کا سب سے محفوظ ترین سایہ مانا جاتا ہے، اس کا قاتل بن جانا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں معاشی تنگدستی، طبی سہولیات کا نہ ہونا اور ذہنی تناؤ کس حد تک ناسور بن چکے ہیں۔ معمولی بیماری کے آپریشن کا خرچ نہ اٹھا پانا اور پھر اس پر پیدا ہونے والی مایوسی نے ایک ہنستے کھیلتے گھر کو اجاڑ دیا۔ یہ سانحہ حکومت اور اربابِ اختیار کے لیے ایک لمحہ فکر ہے کہ جب تک نچلے طبقے کو سستی طبی سہولیات اور ذہنی صحت کی کونسلنگ فراہم نہیں کی جائے گی تب تک ایسے دل دہلا دینے والے واقعات معاشرتی ضمیر کو جھنجھوڑتے رہیں گے۔

About