@fallou_vision: #mouride_sadikh_officiell #fallou_vision #khassidayi #mouride #viralvideos

𝔽𝔸𝕃𝕃𝕆𝕌 𝕍𝕀𝕊𝕀𝕆ℕ ✪
𝔽𝔸𝕃𝕃𝕆𝕌 𝕍𝕀𝕊𝕀𝕆ℕ ✪
Open In TikTok:
Region: SN
Tuesday 16 June 2026 12:31:37 GMT
11004
3549
31
40

Music

Download

Comments

b233....56zou34bi
Le Discret❤️ :
Tieuy liiii yemeii naaaaa😭😭😭😭😭😭
2026-06-16 12:49:27
4
femme.de.laye
Amin❤️❤️❤️ :
2026-06-16 21:16:13
3
awa.samb303
fallou 3354 :
santé siergne touba
2026-06-17 00:39:03
0
thiam.fallou599
Thiam Fallou :
2026-06-16 21:59:24
0
loufaboutalfa0
loufaboutalfa0 :
🥰🥰🥰
2026-06-16 16:13:34
1
user8157322950753
bb fa12 :
♥️♥️♥️
2026-06-17 00:37:58
0
usera688037832
user237906a7388 :
❤️❤️❤️
2026-06-16 23:38:44
0
abdourahmanemben1
abdourahmanemben1 :
🥰🥰🥰
2026-06-16 23:05:32
0
elh.sall
Elh Sall :
🥰🥰🥰
2026-06-16 22:27:54
0
moukhamed839
Moukhamed :
🤲🤲🤲
2026-06-16 22:09:16
0
pape.ndiaye4921
PAPE Ndiaye. Man City 💙💙👑 :
🥰🥰🥰🥰🥰
2026-06-16 21:21:11
0
user3038576110337
mame. Rane. Laye 🤍🤍 :
❤️❤️❤️
2026-06-16 21:16:33
0
user9325611810803
user9325611810803 :
🥰🥰🥰
2026-06-16 20:05:47
0
tyma.33
Tyma 33 :
🙏🙏🙏
2026-06-16 19:55:52
0
gorrattvhiamseul
gorra thiam :
🥰🥰🥰
2026-06-16 18:51:47
0
seck4697
seck :
🥰🥰🥰
2026-06-16 16:41:51
0
loufaboutalfa0
loufaboutalfa0 :
🙏🙏🙏
2026-06-16 16:13:36
0
faye200428
Faye2004@ :
🥰🥰🥰
2026-06-16 16:13:05
0
user020019949aliou
Aliou Thiaw :
❤️❤️❤️
2026-06-16 16:05:47
0
ndeyematytalla
ndeyematy talla :
🥰🥰🥰
2026-06-16 15:48:05
0
khadim.diop3726
Khadim Diop :
🥰🥰🥰
2026-06-16 15:09:50
0
tonslephilosophe
Le philosophe 🧠 :
🥰🥰🥰
2026-06-16 14:07:12
0
mamistah.baby
mamistah baby💕 :
🥰🥰🥰
2026-06-16 13:41:42
0
modoudiouf7777
modoudiouf7777 :
🥰🥰🥰
2026-06-16 13:27:19
0
ndiremoussaliou
souper une salle :
❤️❤️❤️
2026-06-16 12:35:03
0
To see more videos from user @fallou_vision, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وہ بیٹھا سوچ رہا تھا رب کہاں ہے ؟ وہ جس نے مجھے بنایا ، مجھے تخلیق کیا جس کو میری نگاہ تلاشتی ہے آخر کہاں ملے گا وہ مجھے ؟ بڑے سجدے کیے ، بڑے وظیفے کیے ، بڑا ماتھا رگڑا مگر مراد بر نہیں آئی ۔ اک روز تنہائی میں بیٹھا ہلکان ہو رہا تھا تو شیطان اور نفس نے مل کے وار کیا اور جال بنا پھر ذہن میں ڈال دیا کہ اتنا تلاشا ہے کوئی جواب نہیں آیا جانے ہے بھی کہ نہیں نہ تو دیکھا ہے اور نہ کبھی سنا ہے وگرنہ کتنے ہی پیچھے گزرے ہیں کہ جنہیں کبھی پیغام آیا کہ رب نے سلام بھیجا ہے تو وہ بشر حافی ہو گیا ، کسی کو مسجد میں پاؤں پھیلا کر بیٹھے پایا تو غیب سے آواز آئی جس پر اس کا نام سفیان ثوری پڑ گیا ۔ میں بھی تو اسی کا بندہ ہوں چلو گناہگار ہی سہی ، بدکار ہی سہی پر ہوں تو اس کا اپنا ہی میری طرف بھی توجہ کرے نہ ۔ نفس و شیطان حاوی کیسے ہوتے کیونکہ ان کی رسائی فقط دماغ تک ہے یا دل کے کسی اوپرے کنارے پر مگر دل کے اندر سے آواز آئی یہ کیا ظلم کر رہا ہے وہ رب ہے تیرا رب جس سے محبت کرتا ہے اسی کے بارے میں اتنا غلط گمان کچھ حیاء کر ۔ بس پھر سجدے میں گر گیا کیا بولتا جب کہ وہ تو دلوں کی سرگوشیاں بھی جانتا ہے ۔ کہا اے میری جاں کے مالک اگر تیری چاہ کر ہی لی ہے تو یوں خود سے محروم نہ کر ، تجھ سے محبت کا دعویٰ کر ہی بیٹھا ہوں تو یہ ہجر کی آگ کو ہوا نہ دے ، گناہگار ہوں مگر تجھے راضی کرنا چاہتا ہوں مجھے خود سے محروم نہ کر میرے رب محروم نہ کر ، سسکیاں بندھ گئیں ، سر سجدے میں ہے اور آنکھیں بہہ رہی ہیں ۔ بس پھر کرم ہو گیا ، رحمت جوش میں آ گئی ، دل کے کسی کونے سے صدا آئی ، آگ جو بھرے بیٹھا تھا اندر بھڑک اٹھی دل جلال میں آ گیا اور بولا جاہل کس کی طلب میں ہلکان ہو رہا ہے ؟ وہ جس نے کہا تیری ہی ذات میں بستا ہے وہ ، کس کی دید میں مر رہا ہے ؟ وہ جو الست بربکم کا پردہ گرا تھا وہاں کس کی دید پر حامی بھری تھی ، کس کی ملاقات میں کافر ہوا جا رہا ہے ؟ جس نے خود کو تیری ہی شاہ رگ سے زیادہ قریب رکھا ہے ۔۔۔ ہوش کر کہاں تلاشتا پھر رہا ہے وہ تجھ میں ہے ۔ اس نے رو کر کہا مجھے پردے کے اس پار جانا ہے اے دل تو دل نرم پڑ گیا بھلا وہ تجھ سے پرده داری کیوں رکھے گا ناسمجھ خود پہ غور کر اور دیکھ اپنے آس پاس کوئی فرق نظر آتا ہے کہ نہیں ؟ جب دل نے یہ کہا تو اس نے دیکھا اور جب دیکھا تو شرم سے پانی پانی ہو گیا ، ہچکیاں لیتے ہوئے سر پھر سجدے میں رکھ دیا اور اپنے رب سے اپنی غفلت کی معافی مانگی کہ وہ رب سے ملاقات کے لیے رب کے بلاوے سے پہلے حاضر ہو جاتا ہے ، اس کی زبان پر اپنے محبوب کا ذکر رکھا ہے ، جب سارا جہاں سو رہا ہوتا ہے تو اسے اپنی رحمت میں ڈھانپ کر اس کے سارے دکھ سنتا ہے اور بڑے پیار سے فرماتا ہے تو مانگتا جا بس دینا میرا کام ہے اسے سمجھ آ گئی کہ رب اس کے بڑا ہی قریب ہے اور ہر گھڑی اس کے ساتھ ہے بس وہ خود ہی کم عقل تھا مگر جس دل میں عشق بھرا ہے اس نے ملا دیا ۔
وہ بیٹھا سوچ رہا تھا رب کہاں ہے ؟ وہ جس نے مجھے بنایا ، مجھے تخلیق کیا جس کو میری نگاہ تلاشتی ہے آخر کہاں ملے گا وہ مجھے ؟ بڑے سجدے کیے ، بڑے وظیفے کیے ، بڑا ماتھا رگڑا مگر مراد بر نہیں آئی ۔ اک روز تنہائی میں بیٹھا ہلکان ہو رہا تھا تو شیطان اور نفس نے مل کے وار کیا اور جال بنا پھر ذہن میں ڈال دیا کہ اتنا تلاشا ہے کوئی جواب نہیں آیا جانے ہے بھی کہ نہیں نہ تو دیکھا ہے اور نہ کبھی سنا ہے وگرنہ کتنے ہی پیچھے گزرے ہیں کہ جنہیں کبھی پیغام آیا کہ رب نے سلام بھیجا ہے تو وہ بشر حافی ہو گیا ، کسی کو مسجد میں پاؤں پھیلا کر بیٹھے پایا تو غیب سے آواز آئی جس پر اس کا نام سفیان ثوری پڑ گیا ۔ میں بھی تو اسی کا بندہ ہوں چلو گناہگار ہی سہی ، بدکار ہی سہی پر ہوں تو اس کا اپنا ہی میری طرف بھی توجہ کرے نہ ۔ نفس و شیطان حاوی کیسے ہوتے کیونکہ ان کی رسائی فقط دماغ تک ہے یا دل کے کسی اوپرے کنارے پر مگر دل کے اندر سے آواز آئی یہ کیا ظلم کر رہا ہے وہ رب ہے تیرا رب جس سے محبت کرتا ہے اسی کے بارے میں اتنا غلط گمان کچھ حیاء کر ۔ بس پھر سجدے میں گر گیا کیا بولتا جب کہ وہ تو دلوں کی سرگوشیاں بھی جانتا ہے ۔ کہا اے میری جاں کے مالک اگر تیری چاہ کر ہی لی ہے تو یوں خود سے محروم نہ کر ، تجھ سے محبت کا دعویٰ کر ہی بیٹھا ہوں تو یہ ہجر کی آگ کو ہوا نہ دے ، گناہگار ہوں مگر تجھے راضی کرنا چاہتا ہوں مجھے خود سے محروم نہ کر میرے رب محروم نہ کر ، سسکیاں بندھ گئیں ، سر سجدے میں ہے اور آنکھیں بہہ رہی ہیں ۔ بس پھر کرم ہو گیا ، رحمت جوش میں آ گئی ، دل کے کسی کونے سے صدا آئی ، آگ جو بھرے بیٹھا تھا اندر بھڑک اٹھی دل جلال میں آ گیا اور بولا جاہل کس کی طلب میں ہلکان ہو رہا ہے ؟ وہ جس نے کہا تیری ہی ذات میں بستا ہے وہ ، کس کی دید میں مر رہا ہے ؟ وہ جو الست بربکم کا پردہ گرا تھا وہاں کس کی دید پر حامی بھری تھی ، کس کی ملاقات میں کافر ہوا جا رہا ہے ؟ جس نے خود کو تیری ہی شاہ رگ سے زیادہ قریب رکھا ہے ۔۔۔ ہوش کر کہاں تلاشتا پھر رہا ہے وہ تجھ میں ہے ۔ اس نے رو کر کہا مجھے پردے کے اس پار جانا ہے اے دل تو دل نرم پڑ گیا بھلا وہ تجھ سے پرده داری کیوں رکھے گا ناسمجھ خود پہ غور کر اور دیکھ اپنے آس پاس کوئی فرق نظر آتا ہے کہ نہیں ؟ جب دل نے یہ کہا تو اس نے دیکھا اور جب دیکھا تو شرم سے پانی پانی ہو گیا ، ہچکیاں لیتے ہوئے سر پھر سجدے میں رکھ دیا اور اپنے رب سے اپنی غفلت کی معافی مانگی کہ وہ رب سے ملاقات کے لیے رب کے بلاوے سے پہلے حاضر ہو جاتا ہے ، اس کی زبان پر اپنے محبوب کا ذکر رکھا ہے ، جب سارا جہاں سو رہا ہوتا ہے تو اسے اپنی رحمت میں ڈھانپ کر اس کے سارے دکھ سنتا ہے اور بڑے پیار سے فرماتا ہے تو مانگتا جا بس دینا میرا کام ہے اسے سمجھ آ گئی کہ رب اس کے بڑا ہی قریب ہے اور ہر گھڑی اس کے ساتھ ہے بس وہ خود ہی کم عقل تھا مگر جس دل میں عشق بھرا ہے اس نے ملا دیا ۔

About