@ya.t28:

YAZAN.28
YAZAN.28
Open In TikTok:
Region: IL
Wednesday 17 June 2026 10:11:03 GMT
18385
292
12
39

Music

Download

Comments

al.arzz
al arzz :
2026-06-26 08:53:31
0
asefa.alamal
عازفة الامل :
اغنية الجلماوي وحافظ موسى حداية
2026-06-19 20:42:36
2
david.tcheishvili
🇬🇪DAVID TCHEISHVILI-77🇬🇪 :
2026-06-22 20:00:41
1
powerley4
N.h :
2026-06-25 09:05:09
0
slonek7
Vladimir :
👍👍👍
2026-06-17 17:29:24
2
habeebabdallah1
habeebabdallah1 :
❤️❤️❤️
2026-06-18 19:55:56
1
user84993206596773
ام جنى🇵🇸🇵🇸 :
🥰🥰🥰🥰
2026-06-18 19:02:55
1
waseemhassouna1
وسيم حسونة :
😎😎😎😎😎😎😎😎😎😎😎😎🙄
2026-06-18 16:05:04
1
ayna00932
Eneş Durdymova :
👍👍👍😜
2026-06-27 08:02:45
0
To see more videos from user @ya.t28, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

امن دشمن تنظیمیں بی ایل اے  اور بلوچستان لبریشن فرنٹ  کے حملوں کی حقیقت عیاں ہو چکی ہے۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف پاکستان بالخصوص بلوچستان کی ترقی کی دشمن ہیں، 9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ حملے میں شہید ہونے والے 2 معصوم شہریوں کے بھائیوں کی آہ و پکار اور دل دہلا دینے والے حقائق منظر عام پر آگئے۔29 ستمبر 2023ء کو مستونگ حملے میں 50 سے زائد افراد شہید ہوئے جو کہ ایک مسجد کے قریب ہوا، مستونگ حملے میں شہید ہونے والی ایک کمسن بچی کا والد اپنی معصوم بچی کی تصویر لئے غم سے نڈھال ہے، بی ایل اے کے دل دہلا دینے والے حملوں کی ذمے داری خود بی ایل اے نے قبول کی۔ گزشتہ برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے 33 معصوم بلوچوں کو شہید کیا، بلوچ عوام، طلبہ اور روتی ہوئی ماؤں نے ان دہشت گردوں کی درندگی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور گھناؤنی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔4 جنوری 2025ء کو تربت بس حملے میں شہید ہونے والے نوجوان کی والدہ نے چیخ چیخ کر سوال کیا کہ ’’بی ایل اے کے دہشت گردوں نے اس کے بیٹے کو بے دردی سے کیوں مارا؟‘‘، اس حملے کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی۔ کئی حملوں میں ملوث بی ایل اے کے بشیر نامی گرفتار دہشت گرد نے بی ایل اے کی حقیقت کو کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا۔اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلعت عزیز نامی بلوچ طالبعلم کو بھی بی ایل اے دہشت گرد جھانسا دے کر پہاڑوں میں لے گئے، 11 جنوری 2025ء کو بی ایل اے نے تمپ میں 2 بے گناہ معصوم شہریوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ #BLA #BLF #SecurityReality #TBT #thebluetruthpakistan
امن دشمن تنظیمیں بی ایل اے اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے حملوں کی حقیقت عیاں ہو چکی ہے۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف پاکستان بالخصوص بلوچستان کی ترقی کی دشمن ہیں، 9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ حملے میں شہید ہونے والے 2 معصوم شہریوں کے بھائیوں کی آہ و پکار اور دل دہلا دینے والے حقائق منظر عام پر آگئے۔29 ستمبر 2023ء کو مستونگ حملے میں 50 سے زائد افراد شہید ہوئے جو کہ ایک مسجد کے قریب ہوا، مستونگ حملے میں شہید ہونے والی ایک کمسن بچی کا والد اپنی معصوم بچی کی تصویر لئے غم سے نڈھال ہے، بی ایل اے کے دل دہلا دینے والے حملوں کی ذمے داری خود بی ایل اے نے قبول کی۔ گزشتہ برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے 33 معصوم بلوچوں کو شہید کیا، بلوچ عوام، طلبہ اور روتی ہوئی ماؤں نے ان دہشت گردوں کی درندگی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور گھناؤنی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔4 جنوری 2025ء کو تربت بس حملے میں شہید ہونے والے نوجوان کی والدہ نے چیخ چیخ کر سوال کیا کہ ’’بی ایل اے کے دہشت گردوں نے اس کے بیٹے کو بے دردی سے کیوں مارا؟‘‘، اس حملے کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی۔ کئی حملوں میں ملوث بی ایل اے کے بشیر نامی گرفتار دہشت گرد نے بی ایل اے کی حقیقت کو کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا۔اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلعت عزیز نامی بلوچ طالبعلم کو بھی بی ایل اے دہشت گرد جھانسا دے کر پہاڑوں میں لے گئے، 11 جنوری 2025ء کو بی ایل اے نے تمپ میں 2 بے گناہ معصوم شہریوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ #BLA #BLF #SecurityReality #TBT #thebluetruthpakistan

About