@sunnygirl012: #CapCut 18.6.26 Herr Backhaus lädt die Helfer zu einer Dankesfeier ein. Es sollen auch Urkunden vergeben werden….#Rettung #feuerwehr #wal #feier Quelle: ndr

Flowerpower
Flowerpower
Open In TikTok:
Region: DE
Thursday 18 June 2026 11:27:34 GMT
401
2
1
1

Music

Download

Comments

pommernluder
Pommernluder :
wahrscheinlich was leckeres aus dem Meer was....oh man
2026-06-18 11:54:39
1
To see more videos from user @sunnygirl012, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایران نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قبر پر حملہ کیا، حالانکہ ان کا انتقال اس زمانے سے بہت پہلے ہو چکا تھا جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان واقعات پیش آئے۔ لہٰذا حضرت علیؓ کے نام پر کی جانے والی ان کی سیاست اور تجارت کو سچ نہ سمجھو؛ کیونکہ ان کی حقیقی انتقامی سوچ حضرت علیؓ کے لیے نہیں، بلکہ کسریٰ اور فارس کی سلطنت کے لیے ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کا انتقال 21 ہجری (642ء) میں ہوا، جو حضرت علیؓ کے منصبِ خلافت سنبھالنے سے تقریباً 16 سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس بنا پر حضرت خالد بن ولیدؓ نے نہ تو حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین ہونے والے فتنے کو پایا، اور نہ ہی وہ کسی ایک فریق کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ایرانیوں اور ایران کے پیروکاروں کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ صحابی حضرت خالد بن ولیدؓ ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اصل معاملہ کسریٰ کے تخت اور فارس کی اس سلطنت کا بدلہ ہے، جسے حضرت خالد بن ولیدؓ نے زوال سے دوچار کیا۔ اسی لیے میں دعوت دیتا ہوں کہ تاریخ کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھا جائے، اور ان فریب کاریوں سے متاثر نہ ہوا جائے جو فارسی عناصر اور ان کے حامی حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کے نام پر کرتے ہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کی شخصیت اس کی ایک واضح مثال ہے، اور ان کی وفات کا حضرت علیؓ و حضرت معاویہؓ کے فتنے سے سولہ سال پہلے ہونا، اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان کے دعووں میں تضاد اور نفاق پایا جاتا ہے۔ 2013ء میں ایران کی جانب سے حمص میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی مسجد اور مزار پر حملہ کرنا، پھر اس میں داخل ہو کر قبر کو نقصان پہنچانا، ان کے اسلام سے حقیقی عناد کی ایک دلیل ہے۔ اور یہی دشمنی ان کے پیروکاروں میں بھی منتقل ہو چکی ہے۔ چنانچہ جیسے ہی حضرت خالد بن ولیدؓ کا ذکر آتا ہے، ان میں تعصب بھڑک اٹھتا ہے—یہ تعصب نہ عراق، نہ عربیت اور نہ ہی اسلام کے لیے ہوتا ہے، بلکہ ایران کے لیے ہوتا ہے جسے وہ گویا اپنا مرکزِ عقیدت بنائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنے طرزِ عمل میں کبھی تبدیل نہیں ہوئے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہر دور میں یہ امت کے دشمنوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں—خواہ وہ عہدِ خلافتِ راشدہ ہو، بنو امیہ کا زمانہ ہو، بنو عباس کا دور ہو یا موجودہ زمانہ۔ حتیٰ کہ جب ہم معرکۂ ذی قار کا ذکر کرتے ہیں، تب بھی یہ لوگ کسریٰ فارس کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس نے عرب عورت کی عزت پامال کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے زمانے میں اپنی نصرت کا مشاہدہ کرایا۔ جس طرح حضرت خالد بن ولیدؓ نے 15 ہجری (636ء) میں شام کو رومیوں سے آزاد کرایا تھا، اسی طرح 1446 ہجری (2024ء) میں ان کی اولاد نے شام کو فارسی مجوس اور ان کے حامیوں اور روسیوں سے آزاد کرایا۔ 🎯 ✍️ تحریر: مؤرخ تامر الزغاری
ایران نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قبر پر حملہ کیا، حالانکہ ان کا انتقال اس زمانے سے بہت پہلے ہو چکا تھا جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان واقعات پیش آئے۔ لہٰذا حضرت علیؓ کے نام پر کی جانے والی ان کی سیاست اور تجارت کو سچ نہ سمجھو؛ کیونکہ ان کی حقیقی انتقامی سوچ حضرت علیؓ کے لیے نہیں، بلکہ کسریٰ اور فارس کی سلطنت کے لیے ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کا انتقال 21 ہجری (642ء) میں ہوا، جو حضرت علیؓ کے منصبِ خلافت سنبھالنے سے تقریباً 16 سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس بنا پر حضرت خالد بن ولیدؓ نے نہ تو حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین ہونے والے فتنے کو پایا، اور نہ ہی وہ کسی ایک فریق کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ایرانیوں اور ایران کے پیروکاروں کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ صحابی حضرت خالد بن ولیدؓ ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اصل معاملہ کسریٰ کے تخت اور فارس کی اس سلطنت کا بدلہ ہے، جسے حضرت خالد بن ولیدؓ نے زوال سے دوچار کیا۔ اسی لیے میں دعوت دیتا ہوں کہ تاریخ کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھا جائے، اور ان فریب کاریوں سے متاثر نہ ہوا جائے جو فارسی عناصر اور ان کے حامی حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کے نام پر کرتے ہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کی شخصیت اس کی ایک واضح مثال ہے، اور ان کی وفات کا حضرت علیؓ و حضرت معاویہؓ کے فتنے سے سولہ سال پہلے ہونا، اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان کے دعووں میں تضاد اور نفاق پایا جاتا ہے۔ 2013ء میں ایران کی جانب سے حمص میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی مسجد اور مزار پر حملہ کرنا، پھر اس میں داخل ہو کر قبر کو نقصان پہنچانا، ان کے اسلام سے حقیقی عناد کی ایک دلیل ہے۔ اور یہی دشمنی ان کے پیروکاروں میں بھی منتقل ہو چکی ہے۔ چنانچہ جیسے ہی حضرت خالد بن ولیدؓ کا ذکر آتا ہے، ان میں تعصب بھڑک اٹھتا ہے—یہ تعصب نہ عراق، نہ عربیت اور نہ ہی اسلام کے لیے ہوتا ہے، بلکہ ایران کے لیے ہوتا ہے جسے وہ گویا اپنا مرکزِ عقیدت بنائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنے طرزِ عمل میں کبھی تبدیل نہیں ہوئے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہر دور میں یہ امت کے دشمنوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں—خواہ وہ عہدِ خلافتِ راشدہ ہو، بنو امیہ کا زمانہ ہو، بنو عباس کا دور ہو یا موجودہ زمانہ۔ حتیٰ کہ جب ہم معرکۂ ذی قار کا ذکر کرتے ہیں، تب بھی یہ لوگ کسریٰ فارس کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس نے عرب عورت کی عزت پامال کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے زمانے میں اپنی نصرت کا مشاہدہ کرایا۔ جس طرح حضرت خالد بن ولیدؓ نے 15 ہجری (636ء) میں شام کو رومیوں سے آزاد کرایا تھا، اسی طرح 1446 ہجری (2024ء) میں ان کی اولاد نے شام کو فارسی مجوس اور ان کے حامیوں اور روسیوں سے آزاد کرایا۔ 🎯 ✍️ تحریر: مؤرخ تامر الزغاری

About