@mr_teamz: Venom กินช็อกโกแลตแทนได้ไง ? #shorts

mrteamz
mrteamz
Open In TikTok:
Region: TH
Sunday 12 July 2026 12:00:00 GMT
44243
1113
10
55

Music

Download

Comments

billsaifar7
Thanapat Chearavanont :
เพราะช็อกโกเเลตมันหวานเหมือนสมองไงครับ เเต่ว่ามันทดเเทนกันไม่ได้ช็อกโกเเลตถึงจะหวานจริงเเต่ถ้าไม่กินสมองเลยร่างกายจะอ่อนลงเรื่อยๆ
2026-07-12 13:07:33
1
bugtan15
บักแทน :
เบียร์สิวะ เ
2026-07-12 13:21:52
0
user1866276022654
อาชิ :
เม้นเเรก
2026-07-12 12:02:54
0
tfr875
TFR :
ในสมองน่าจะมีสาร โดปามีน และ ช็อคโกแลตก็มีเหมือนกัน “น่าจะ”
2026-07-12 12:43:40
0
user1866276022654
อาชิ :
เม้นเเรก
2026-07-12 12:02:54
0
user1866276022654
อาชิ :
เม้นเเรก
2026-07-12 12:02:54
0
user1866276022654
อาชิ :
เม้นเเรก
2026-07-12 12:02:54
0
user3714819292130
ไดรฟ์ ณัตฐกิตต์ :
ทัน
2026-07-12 12:05:43
0
user1866276022654
อาชิ :
เม้นเเรก
2026-07-12 12:02:55
0
zen5555555555
G zen :
หัวไก่
2026-07-12 13:36:46
0
To see more videos from user @mr_teamz, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ جملہ ایک سخت فرقہ وارانہ اور جذباتی انداز میں کہا جاتا ہے، لیکن “حقیقت” سمجھنے کے لیے قرآن، حدیث اور اہلِ علم کی مکمل گفتگو دیکھنا ضروری ہے، نہ کہ صرف ایک نعرہ۔ اہلِ اسلام میں اس مسئلے پر دو بڑے نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں: 1. ایک گروہ کہتا ہے کہ “یا علی مدد” یا “یا غوث مدد” کہنا جائز نہیں، کیونکہ مدد حقیقی صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔ وہ آیات پیش کرتے ہیں جیسے: > “ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔” (سورۃ الفاتحہ 1:5) 2. دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اگر عقیدہ یہ ہو کہ اصل مددگار اللہ ہے، اور انبیاء یا اولیاء کو وسیلہ یا دعا کی درخواست کے طور پر پکارا جائے، تو یہ شرک نہیں۔ وہ وسیلہ اور شفاعت سے متعلق دلائل پیش کرتے ہیں۔ اصل فرق “الفاظ” سے زیادہ “عقیدے” میں ہوتا ہے: اگر کوئی یہ سمجھے کہ اللہ کے بغیر کوئی ہستی خود مختار طاقت رکھتی ہے، تو یہ اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔ لیکن اگر کوئی اللہ ہی کو اصل فاعل مانتے ہوئے کسی نیک ہستی کو وسیلہ سمجھے، تو بہت سے علماء اسے مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں اور اس پر صدیوں سے علمی اختلاف موجود ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کو فوراً “دجال کے پیچھے چلنے والا” یا گمراہ کہنا درست طرزِ گفتگو نہیں۔ دجال کے فتنے سے بچنے کا طریقہ: توحید مضبوط کرنا قرآن و صحیح حدیث سیکھنا جذباتی نعروں کے بجائے علم حاصل کرنا مسلمانوں کی تکفیر اور نفرت سے بچنا اہلِ علم کے اختلاف کو گالی، طعن یا خوف پھیلانے کے بجائے علم، ادب اور دلیل سے سمجھنا بہتر ہے۔#صدام_حسين_يا_صقر_العرب_الله_يرحمك #viralpicture #foryou #foryoupageofficiall
یہ جملہ ایک سخت فرقہ وارانہ اور جذباتی انداز میں کہا جاتا ہے، لیکن “حقیقت” سمجھنے کے لیے قرآن، حدیث اور اہلِ علم کی مکمل گفتگو دیکھنا ضروری ہے، نہ کہ صرف ایک نعرہ۔ اہلِ اسلام میں اس مسئلے پر دو بڑے نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں: 1. ایک گروہ کہتا ہے کہ “یا علی مدد” یا “یا غوث مدد” کہنا جائز نہیں، کیونکہ مدد حقیقی صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔ وہ آیات پیش کرتے ہیں جیسے: > “ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔” (سورۃ الفاتحہ 1:5) 2. دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اگر عقیدہ یہ ہو کہ اصل مددگار اللہ ہے، اور انبیاء یا اولیاء کو وسیلہ یا دعا کی درخواست کے طور پر پکارا جائے، تو یہ شرک نہیں۔ وہ وسیلہ اور شفاعت سے متعلق دلائل پیش کرتے ہیں۔ اصل فرق “الفاظ” سے زیادہ “عقیدے” میں ہوتا ہے: اگر کوئی یہ سمجھے کہ اللہ کے بغیر کوئی ہستی خود مختار طاقت رکھتی ہے، تو یہ اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔ لیکن اگر کوئی اللہ ہی کو اصل فاعل مانتے ہوئے کسی نیک ہستی کو وسیلہ سمجھے، تو بہت سے علماء اسے مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں اور اس پر صدیوں سے علمی اختلاف موجود ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کو فوراً “دجال کے پیچھے چلنے والا” یا گمراہ کہنا درست طرزِ گفتگو نہیں۔ دجال کے فتنے سے بچنے کا طریقہ: توحید مضبوط کرنا قرآن و صحیح حدیث سیکھنا جذباتی نعروں کے بجائے علم حاصل کرنا مسلمانوں کی تکفیر اور نفرت سے بچنا اہلِ علم کے اختلاف کو گالی، طعن یا خوف پھیلانے کے بجائے علم، ادب اور دلیل سے سمجھنا بہتر ہے۔#صدام_حسين_يا_صقر_العرب_الله_يرحمك #viralpicture #foryou #foryoupageofficiall

About