@neiynkhan: درد جب حد سے بڑھ جائے تو الفاظ خاموش ہونے لگتے ہیں اور روح کی چیخیں آسمان کا رخ کرتی ہیں، کبھی کبھی اداسی محض ایک احساس نہیں ہوتی، بلکہ ایک مکمل وجود بن کر انسان کے اندر ڈیرہ ڈال لیتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان ہجوم میں ہو کر بھی خود کو ایک ایسے جزیرے پر پاتا ہے جہاں دور دور تک صرف تنہائی کا شور سنائی دیتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "ہم بد نصیبوں نے رب سے ہم کلام ہونا ہے"، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب زمین والوں سے کوئی گلہ باقی نہیں رہا۔ جب دنیا کے کندھے بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیں، تو انسان اپنا سر خدا کے حضور جھکانے کے بجائے اس کے دامن میں چھپانے کی تڑپ رکھتا ہے۔ بد نصیبی کا سب سے بڑا دکھ یہ نہیں کہ کچھ ملا نہیں، بلکہ دکھ یہ ہے کہ جو اپنا تھا وہ بھی چھین لیا گیا۔ یہ تڑپ اس وقت جنم لیتی ہے جب تقدیر کے لکھے پر دل خون کے آنسو روتا ہے لیکوال زہ یم 😘❤️🩹۔