@user3765707097751: 67 Graffiti Backpack Set = Game Day MVP 🎮🎒 Insulated, durable, and *so* street art! #DealsforYouDays #RobloxStyle #BackpackGoals #StreetArtVibes #TikTokMadeMeBuyIt

liuxuehaa-shop
liuxuehaa-shop
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 30 June 2026 01:54:11 GMT
200
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @user3765707097751, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

غلام مصطفیٰ کھر نے سینکڑوں ایکڑ اراضی لیے بنائی؟ جی ٹی روڈ پر شاہدرہ اور امامیہ کالونی کے درمیان واقع سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف خاندان کے ملکیتی کارخانے اتفاق فونڈریز کی شمالی دیوار کے ساتھ ساتھ کالا خطائی روز نام کی ایک خستہ حال سڑک چلتی ہوئی جی ٹی روڈ کو ضلع شیخوپورہ کے ایک معروف علاقے نارنگ منڈی سے ملاقی ہے۔ کالا خطائی روڈ کی  شہرت کی خاص وجہ گزشتہ کئی برسوں سے اس سڑک کے ارد گرد دیہات میں پناہ گزین صوبے بھر کے پیشہ ور قاتل اور خطرناک ڈاکو تھے لیکن اب اس سڑک کی وجہ شہرت سابقہ گورنر پنجاب اور وفاقی وزیر  پانی اور بجلی ملک غلام مصطفی کھر کا سو سے زائد مربع اراضی پر موجود زرعی فارم ہے۔ اس کالا خطائی روڈ پر نارنگ منڈی کی طرف سفر کرتے ہوئے تقریباً ۳۰ کلومیٹر کے فاصلے پر سڑک کے بائیں کنارے اولیا شریف
غلام مصطفیٰ کھر نے سینکڑوں ایکڑ اراضی لیے بنائی؟ جی ٹی روڈ پر شاہدرہ اور امامیہ کالونی کے درمیان واقع سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف خاندان کے ملکیتی کارخانے اتفاق فونڈریز کی شمالی دیوار کے ساتھ ساتھ کالا خطائی روز نام کی ایک خستہ حال سڑک چلتی ہوئی جی ٹی روڈ کو ضلع شیخوپورہ کے ایک معروف علاقے نارنگ منڈی سے ملاقی ہے۔ کالا خطائی روڈ کی شہرت کی خاص وجہ گزشتہ کئی برسوں سے اس سڑک کے ارد گرد دیہات میں پناہ گزین صوبے بھر کے پیشہ ور قاتل اور خطرناک ڈاکو تھے لیکن اب اس سڑک کی وجہ شہرت سابقہ گورنر پنجاب اور وفاقی وزیر پانی اور بجلی ملک غلام مصطفی کھر کا سو سے زائد مربع اراضی پر موجود زرعی فارم ہے۔ اس کالا خطائی روڈ پر نارنگ منڈی کی طرف سفر کرتے ہوئے تقریباً ۳۰ کلومیٹر کے فاصلے پر سڑک کے بائیں کنارے اولیا شریف" نامی گاؤں کی تختی نصب ہے۔ یہ گاؤں مدت ہوئی دریا برد ہو چکا ہے اور اس کے باسی بھوک سے بچنے کے لیے شہروں کا رخ کر چکے ہیں۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مشہور بی۔ آر بی نہر بہتی ہے۔ یہیں سے جو سڑک جنوب کی طرف واقع دریائے راوی اور ہندوستانی سرحد کو ملتی ہے، کبھی یہ سڑک مدت سے دریا برد ہوئے گاؤں تلونڈی اور شیر خان کو کالائی خطائی روڈ سے جوڑتی تھی۔ غلام مصطفی کھر نے 93ء کے انتخابات کے بعد وفاقی وزیر بجلی و پانی کا عمدہ سنبھالتے ہی چھ کلومیٹر لمبی سڑک کو سطح زمین سے پانچ فٹ اونچی اور ۲۴ فٹ چوڑی کرانے کی منظوری حاصل کی۔ پہلے تو فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس سڑک کی تعمیر رکوانے کی کوشش کی کیونکہ اس ایجنسی کا خیال تھا کہ چونکہ یہ سڑک ہندوستانی سرحد کے بالکل قریب تک جاتی ہے لہذا یہ ملکی دفاع کے لیے خطر ناک ہے۔ لیکن طاقتور وفاقی وزیر نے یہ سڑک تعمیر کروائی۔ ملک غلام مصطفی کھر نے پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کی برطرفی کے دوران اپنے اہم "کام" کے عوض وزیر اعظم غلام مصطفی جتوئی کی حکومت سے سب سے بڑا فائدہ یہ اٹھایا کہ کالا خطائی روڈ پر 80 مربع اراضی خریدی۔ اس کے بعد غلام مصطفی کھر نے جلو پارک لاہور سے ملحق دو مربع رہائشی اراضی بھی خریدی۔ غلام مصطفی کھر نے اس کے بعد 32 مراع اراضی مزید کالا خطائی روڈ کے قریب خریدی۔ تین مختلف ذرائع سے غلام مصطفی کھر کی اراضی کے بارے میں متضاد اعداد و شمار سامنے آئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کھر تقریبا 100 مربع اراضی خرید چکے ہیں اور اتنی ہی اراضی پر قابض ہو چکے ہیں جو ان کی خرید کردہ اراضی سے ملحق ہے۔ اور علاقے کے جھوٹے زمیندار بڑے شہروں میں مزدور کے کام کرنے پہ مجبور ہیں۔ کھر کی زمینوں کے پٹواری شبیر نے بتایا کہ اس کے حلقے میں کھر نے چک دھیدو، تلونڈی، شیر خان ،اکرام پورہ اور کوٹلی بیراں ،کے دیہات میں 25 مربع اراضی (۲۵) خریدی ہے۔ ایک اور حلقہ کے پٹواری نذیر حسین شاہ نے بتایا کہ کھر نے اس ۔ علاقے میں موضع اولیا پور کی19 مربع اراضی (۳۷۵ ایکڑ) خریدی۔ بعض مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ غلام مصطفے کھر نے دریا برد ہونے والے گاؤں تلونڈی شیر خان کی کل اراضی ۵۵ مربع میں سے ۲۰ مربع اراضی خریدی اور باقی مانده ۳۵ مربع اراضی (۸۵۷) ایکٹر) پر قبضہ کر لیا۔ مذکورہ اراضی کے مالک چھوٹے چھوٹے زمینداروں کی ہمت نہیں کی وہ ملک نظام مصطفیٰ کھر سے ٹکر لے سکیں۔ مذکورہ بالا دریا برو اراضی کو قابل کاشت بنا سکیں، جس پر دریا بردگی کی وجہ سے ۳ سے ۵ فٹ تک مٹی ملی ریت چڑھ چکی ہے۔ کھر کی زمینوں واقع چک دھیدو، تلونڈی اکرام پورہ اور کوٹلی ہیراں کے حلقہ کے پٹواری نے مزید بتایا کہ ان کے پاس جو رجسٹریاں زمین کی خرید کی ہیں اور جو میرے پاس آئی ہیں ان میں 2 سے لے کر 3 روپے فی ایکڑ درج ہے۔ واضح رہے کہ زمین کا خریدار ہمیشہ حق شفع کی کاروائی سے بچنے کے لیے اصل رقم میں رجسٹری وغیرہ کا خرچ جمع کرنے کے علاوہ جان بوجھ کر زیادہ رقم ظاہر کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دفتری اخراجات شامل کر کے بھی رجسٹرحقداران میں قیمت صرف 2 سے 3 روپے فی اتک ہیں جبکہ ان کی اصل قیمت کیا ہوگی۔ بعض مقامی لوگوں کے مطابق کھر نے صرف کاغذی کارروائی کا بھرم رکھا ہے حقیقت میں وہ حیران کن حد تک تھوڑے پیسے خرچ کر کے لا محدود زمینوں پر قابض ہو گئے ہیں اور اب جن بد نصیبوں کی زمینیں کھر کی زمینوں سے ملحق ہیں وہ ساری زندگی اپنی زمین تلاش کرتے رہیں گے۔ #foryou #pakistan #England #germany #TikTok

About