@nifogo888: 【DealsForYouDays】Adjustable Weighted Rucking Vest for Men & Women, 8lbs-25lbs Weight Range, with Detachable Phone Pouch for Walking, Training #backpacks #workouttipsforwomen #weightedvests #weightedvestwalking #weightedvestworkout #fitnessfavorites #pilatesmusthaves #workoutmusthave #breathableworkoutclothes #youthfitness #DealsforYouDays #Weighted

Nifogo
Nifogo
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 02 July 2026 02:05:00 GMT
1582
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @nifogo888, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

​کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری شمسی سلطنت کے آخری کنارے پر ایک ایسی
​کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری شمسی سلطنت کے آخری کنارے پر ایک ایسی "دیوار" موجود ہے جس کا درجہ حرارت 17,000 سے 50,000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے؟ پہلی نظر میں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر لگتا ہے، لیکن یہ خلائی سائنس کی ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔ جب ناسا (NASA) کا تاریخی خلائی جہاز Voyager 1 زمین سے اربوں میل دور نظامِ شمسی کی آخری سرحد پر پہنچا، تو اس کا سامنا پلازما کے ایک ایسے خطے سے ہوا جو ناقابلِ یقین حد تک گرم تھا۔ سائنسی زبان میں اس گرم سرحدی خطے کو Heliosheath (شمسی غلاف کا بیرونی حصہ) کہا جاتا ہے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے سورج کی گرم ہوائیں باہر کی گہری اور ٹھنڈی کائنات کی ہواؤں سے ٹکراتی ہیں۔ یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہاں اتنی شدید گرمی تھی، تو وائجر پگھلا کیوں نہیں اور بحفاظت کیسے گزر گیا؟ اس کے پیچھے سائنس کا ایک دلچسپ اصول کام کر رہا تھا۔ دراصل خلا کے اس حصے میں درجہ حرارت تو بہت زیادہ ہے کیونکہ وہاں موجود ذرات بہت تیز رفتاری سے حرکت کر رہے ہیں، لیکن وہاں خلا اس قدر "خالی" ہے کہ ان گرم ذرات کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب گرم ذرات خلائی جہاز کی سطح سے ٹکرانے کے لیے موجود ہی نہیں تھے، تو حرارت خلائی جہاز تک منتقل ہی نہیں ہو سکی اور وائجر بغیر کسی نقصان کے اسے پار کر گیا۔ ​آج Voyager 1 زمین سے تقریباً 15 ارب میل کی دوری پر موجود انسان کا بنایا ہوا واحد سب سے دور دراز آبجیکٹ ہے۔ یہ اس "آگ کی دیوار" کو عبور کر کے اب ستاروں کے درمیان کی پراسرار جگہ (Interstellar Space) میں سفر کر رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سرحد کے پار کیا چھپا ہے؟ شمسی ہواؤں کی حد ختم ہونے کے باوجود، وائجر ابھی نظامِ شمسی کی ثقلی حد سے باہر نہیں نکلا کیونکہ آگے کھربوں برفیلی چٹانوں اور دُم دار ستاروں کا ایک وسیع گھیراؤ موجود ہے جسے اورٹ کلاؤڈ (Oort Cloud) کہتے ہیں، اور اسے مکمل پار کرنے میں وائجر کو مزید 30,000 سال لگیں گے۔ اس اندھیرے اور منجمد کر دینے والے خطے میں، جہاں درجہ حرارت منفی 260 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہے، سورج کی روشنی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہاں اربوں سال پہلے پھٹنے والے ستاروں کا غبار، گیسیں اور طاقتور کائناتی شعاعیں تیر رہی ہیں۔ کائنات کے اس دور دراز اندھیرے میں سفر کرتا ہوا وائجر 1 آج بھی انسانی تجسس اور علم کی پیاس کی ایک شاندار علامت بن کر آگے بڑھ رہا ہے۔🛰️✨ ​کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری شمسی سلطنت کے آخری کنارے پر ایک ایسی "دیوار" موجود ہے جس کا درجہ حرارت 17,000 سے 50,000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے؟ پہلی نظر میں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر لگتا ہے، لیکن یہ خلائی سائنس کی ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔ جب ناسا (NASA) کا تاریخی خلائی جہاز Voyager 1 زمین سے اربوں میل دور نظامِ شمسی کی آخری سرحد پر پہنچا، تو اس کا سامنا پلازما کے ایک ایسے خطے سے ہوا جو ناقابلِ یقین حد تک گرم تھا۔ سائنسی زبان میں اس گرم سرحدی خطے کو Heliosheath (شمسی غلاف کا بیرونی حصہ) کہا جاتا ہے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے سورج کی گرم ہوائیں باہر کی گہری اور ٹھنڈی کائنات کی ہواؤں سے ٹکراتی ہیں۔

About