یہاں سے لے کر بیرجند تک تین پہاڑی راستے ہیں؛
پہلا راستہ نقش و نگار سے بھرا ہوا ہے، دوسرے راستے پر میں مخمل کا لباس پہنوں گی،
اور تیسرا راستہ محبوب کے دیدار کا ہے۔ اے میرے زرد پھول، میں سرتاپا درد بن چکی ہوں، لیکن میں نے دنیا سے کبھی تیری جفاؤں کا شکوہ نہیں کیا۔ تم بس آ جاؤ تاکہ میں تمہارے صدقے واری جاؤں۔ اے میری جانِ جاں، اے میرے پیارے یار، یہ جوانی کا دور دوبارہ لوٹ کر نہیں آنے