@coreepoet: Goodbye❤️‍🩹 #poet #poetry #deepthoughts #phylosophy #Love

coreepoet
coreepoet
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 04 July 2026 17:56:16 GMT
843815
49534
211
8261

Music

Download

Comments

sssvvvprofil
sssvvvprofil :
ja nmg ovaj balkan comment section BAHAHAHAHA
2026-08-15 22:05:47
2062
anastasija.aja
анастасија :
Verovatno fejkuju kako bi saopštili veridbu ali ako je istina mnogo mi je žao
2026-08-15 09:27:19
1121
vukasin_lukic16
Vukašin :
Što je baka repostao ?!
2026-08-14 21:57:12
2868
elasuljic3
Ella❤️ :
me watching tat baka repost
2026-08-16 17:38:59
9
tad1ja1
Tad1ja🇵🇦 :
au nema ni jedan post sa njom i ne prati je na ig
2026-08-15 05:57:01
328
tessovicc
miinjjaa :
Bukv ne smeju da raskinu😭
2026-08-15 02:08:53
242
_joviicc69
_joviicc69 :
Lik je zaprosio i kao sad raskid uz to ovaj repost Xd
2026-08-15 13:33:26
408
chillguys456bark
zzakki456💦 • Following :
ja i baka smo raskinuli sa milenom
2026-08-15 10:03:55
196
nijeveljaa_
neko jaci :
2026-08-15 08:48:49
201
adoretimcobra
𝓃𝒾𝓈𝒾𝓃𝑜 𝓈𝓊𝓃𝒸𝑒☀️ :
Sta li muljaju
2026-08-15 13:01:10
305
iensoci
￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ :
ко је овде након што су се помирили?
2026-08-15 15:19:40
32
adri292154
vermil :
bako drzi se bato 🥀
2026-08-14 22:30:00
230
david_dimitrijevic7
~|DAVID|17|~ :
ovo je fake raskid ne palite se ljudi
2026-08-15 20:15:23
31
grrabez
тара :
Bukv ne smeju da raskinu😭
2026-08-16 08:33:58
25
_helena110
𝖍𝖉𝖑𝖉𝖓𝖆🐉 :
sta se koj kurac desava
2026-08-15 15:06:21
46
m4rtinoos
🥷🏿m4rtinoos :
dont care guys but... bakooo sta je bilo
2026-08-14 22:36:13
88
dela_nedela0
🗯 :
baka ne prati milenu na ig i na tt
2026-08-15 08:43:10
126
hermionexxmia765
hermionexxmia765 :
Watched it 3 times with my eyes full, I will miss the person I thought you were
2026-07-25 23:04:07
21
adrian.nvkvc
adrian.nvkvc 🇸🇮🇭🇷 :
Istina je ljudi. Milena je samnom sad.
2026-08-16 01:16:40
10
To see more videos from user @coreepoet, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کئی ہفتے وینٹیلیٹر پر رکھنے کے بعد گزشتہ رات  ڈاکٹرز نے فخر عباس کی طبعی موت کا اعلان کر دیا  اور وہ اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر ابدی منزل کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ آئیے دعا کریں  کہ اللہ پاک انہیں محبوب بندوں کی صف میں جگہ عنایت فرمائے۔ امین یہ  احباب اور لواحقین کے لئے کڑا وقت یے ۔  انا للہ و انا الیہ راجعون   فخر عباس کی نماز جنازہ آج ہی ،   بروز ہفتہ 29 اگست ڈیرہ معمورہ،  خانقاہ ڈوگراں ( پنجاب ، پاکستان) میں  دن گیارہ بجے ادا کر دی جائے گی۔   فخر عباس چلے گئے لیکن ان کا تذکرہ یہاں شاید ہمیشہ رہے۔  ایک تو لاہور کے حوالے سے  ان کا ایک شعر ضرب المثل بن چکا ہے  ان کی شخصیت کا دوسرا  ناقابل فراموش پہلو ان کا محبت آمیز طرز حیات تھا۔ ڈاکٹر تھے اور علامہ اقبال میڈیکل کالج سے وابستہ تھے۔ اس حیثیت میں سیکروں شعرا و ادبا اور مستحقین کی بے پناہ مدد کیا کرتے تھے لیکن اپنی جان لیوا بیماری سے دنیا  کو بے خبر  رکھا ہوا تھا۔24 جولائی 2026 کوانہوں نے پہلی بار  اپنی ٹائم لائن پر یہ  اشارہ دیا ہے پل بھر میں دنیا بھی اندھیر لگتی کہ بیمار پڑتے نہیں دیر لگتی   اس کے بعد وہ صرف چار ہفتے زندہ رہ پائے اور اس میں بھی بیشتر  وقت مصنوعی طبی آلات کے رہین منت ریے۔  فخر عباس کے  بارے میں مزید بتانے سے پہلے آپ کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ان کے بچے ابھی تک درمیانے درجے کے تعلیمی مراحل میں  ہیں۔ انہیں ہم سب کی  دعاؤں اور عملی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ فخر عباس 27  جنوری 1978 سرگودھا ( پاکستان  )  میں  پیدا ہوئے اور اٹھائیس اگست 2026 کو لاہور میں  وفات پائی ہائی۔   سنہ 2000 کے  بعد منظر پر  آنے والے شعرا میں ہلکی پھلکی رومانی  اور ظریفانہ شاعری کے امتزاج سے نمایاں ہو یے ۔ زیادہ تر غزل۔اور قطعہ کہتے تھے تاہم ان کے اشعار مقبول عام تھے۔   ان کے صرف دو شعری مجموعے چھپے اور وہ بھی بہت مقبول ہوئیں۔  لاہور کے حوالے سے کہا گیا  ان کا یہ شعر ان کی شناخت بنا یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے ان کے کچھ اور  عمدہ  اشعار  درج ذیل ہیں   دیکھا بس اک دفعہ اسے میں نے قریب سے  پھر اہل شہر نے مری آنکھیں نکال دیں  کچھ وہ بھی سمجھنے کا تکلف نہیں کرتے کچھ ہم نے زباں سے کبھی کہہ کر نہیں دیکھا جب سے اس کی آنکھ میں آنسو دیکھے ہیں تب سے مجھ کو پانی سے ڈر لگتا ہے میرا شعر چرا کر تم نے شعر کہا رشتے میں اب باپ تمہارا لگتا ہوں سر پر یہ جو چھت کا سایہ ہوتا ہے دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے شاید میری جیت اسی میں ہوتی ہے اس کے آگے ہارا ہارا لگتا ہوں نظم (یاد ) آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوں آج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہے آج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہے آج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہے یاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے امید قوی ہے کہ فخر اپنے کام کے باعث یاد د رکھے جائیں گے اگرچہ ان کا انکسار ،کشادہ دلی اور خدمت خلق بھی ناقابل فراموش ہیں۔ رحمان حفیظ . . . . . . . . #drfakharabbaspoetry #yejolahoresemohabbathai #ڈاکٹرفخرعباس💔 #todaytrendingpoetry #drfakharabbasdeath💔 . . . . . . 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔
کئی ہفتے وینٹیلیٹر پر رکھنے کے بعد گزشتہ رات ڈاکٹرز نے فخر عباس کی طبعی موت کا اعلان کر دیا اور وہ اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر ابدی منزل کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ آئیے دعا کریں کہ اللہ پاک انہیں محبوب بندوں کی صف میں جگہ عنایت فرمائے۔ امین یہ احباب اور لواحقین کے لئے کڑا وقت یے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون فخر عباس کی نماز جنازہ آج ہی ، بروز ہفتہ 29 اگست ڈیرہ معمورہ، خانقاہ ڈوگراں ( پنجاب ، پاکستان) میں دن گیارہ بجے ادا کر دی جائے گی۔ فخر عباس چلے گئے لیکن ان کا تذکرہ یہاں شاید ہمیشہ رہے۔ ایک تو لاہور کے حوالے سے ان کا ایک شعر ضرب المثل بن چکا ہے ان کی شخصیت کا دوسرا ناقابل فراموش پہلو ان کا محبت آمیز طرز حیات تھا۔ ڈاکٹر تھے اور علامہ اقبال میڈیکل کالج سے وابستہ تھے۔ اس حیثیت میں سیکروں شعرا و ادبا اور مستحقین کی بے پناہ مدد کیا کرتے تھے لیکن اپنی جان لیوا بیماری سے دنیا کو بے خبر رکھا ہوا تھا۔24 جولائی 2026 کوانہوں نے پہلی بار اپنی ٹائم لائن پر یہ اشارہ دیا ہے پل بھر میں دنیا بھی اندھیر لگتی کہ بیمار پڑتے نہیں دیر لگتی اس کے بعد وہ صرف چار ہفتے زندہ رہ پائے اور اس میں بھی بیشتر وقت مصنوعی طبی آلات کے رہین منت ریے۔ فخر عباس کے بارے میں مزید بتانے سے پہلے آپ کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ان کے بچے ابھی تک درمیانے درجے کے تعلیمی مراحل میں ہیں۔ انہیں ہم سب کی دعاؤں اور عملی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ فخر عباس 27 جنوری 1978 سرگودھا ( پاکستان ) میں پیدا ہوئے اور اٹھائیس اگست 2026 کو لاہور میں وفات پائی ہائی۔ سنہ 2000 کے بعد منظر پر آنے والے شعرا میں ہلکی پھلکی رومانی اور ظریفانہ شاعری کے امتزاج سے نمایاں ہو یے ۔ زیادہ تر غزل۔اور قطعہ کہتے تھے تاہم ان کے اشعار مقبول عام تھے۔ ان کے صرف دو شعری مجموعے چھپے اور وہ بھی بہت مقبول ہوئیں۔ لاہور کے حوالے سے کہا گیا ان کا یہ شعر ان کی شناخت بنا یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے ان کے کچھ اور عمدہ اشعار درج ذیل ہیں دیکھا بس اک دفعہ اسے میں نے قریب سے پھر اہل شہر نے مری آنکھیں نکال دیں کچھ وہ بھی سمجھنے کا تکلف نہیں کرتے کچھ ہم نے زباں سے کبھی کہہ کر نہیں دیکھا جب سے اس کی آنکھ میں آنسو دیکھے ہیں تب سے مجھ کو پانی سے ڈر لگتا ہے میرا شعر چرا کر تم نے شعر کہا رشتے میں اب باپ تمہارا لگتا ہوں سر پر یہ جو چھت کا سایہ ہوتا ہے دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے شاید میری جیت اسی میں ہوتی ہے اس کے آگے ہارا ہارا لگتا ہوں نظم (یاد ) آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوں آج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہے آج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہے آج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہے یاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے امید قوی ہے کہ فخر اپنے کام کے باعث یاد د رکھے جائیں گے اگرچہ ان کا انکسار ،کشادہ دلی اور خدمت خلق بھی ناقابل فراموش ہیں۔ رحمان حفیظ . . . . . . . . #drfakharabbaspoetry #yejolahoresemohabbathai #ڈاکٹرفخرعباس💔 #todaytrendingpoetry #drfakharabbasdeath💔 . . . . . . 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔

About