@scottatk03: Invited down to @United Vintage new warehouse in Manchester with @Evan Sellick @elscoaching.uk Code - SCOTT for a discount #vintageclothing #reseller #reselling

Scott Atkins
Scott Atkins
Open In TikTok:
Region: GB
Sunday 05 July 2026 21:05:38 GMT
1461
85
2
9

Music

Download

Comments

jk.0909
Jacob :
💪💪💪
2026-07-05 21:10:14
1
To see more videos from user @scottatk03, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اس وقت وائجر ون خلائی جہاز 25 ارب کلومیـــــٹر دوری پر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ 25 ارب کلومیــٹر اتنا بڑا عدد ہے کہ اگر ایک شخص گننے لگ جائے اور ہر سیـــکنڈ میں ایک نمبر گنے تو اسے گنتے گنتے 792 سال لگ جائیں گے جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔۔۔ وائجر ون خلائی جہاز پچھلے 49 سال سے مسلسل خلاء میں سفر کرتے ہوئے زمین سے تقریباً 25 ارب کلومیٹر دور جا چکا ہے، ان میں ناسا سائنس دانوں نے ایک گولڈن ڈسک لگایا ہے ان میں بہت سی زبانوں میں بشمـــول ہماری اردو اور پنجابی کے آڈیو پیغامات ریکارڈ کئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس ڈسک میں خاص قسم کا میٹریل استعمال کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ پیــغامات آنے والے لاکھوں اور کروڑوں سالوں تک محفوظ رہیں، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات اور معلومات اس مقصـد کے لئے ہیں کہ اگر یہ جہاز کبھی کسی خلائی مخلوق یعنی ایلیـــنز کے پاس پہنچ پائے تو وہ یہ جان لے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا بھی اس کائنات میں رہتا ہے۔ اب ظاہر بات ہے اپنے علاوہ کسی دوسری مخلــــــوق کا جان کر وہ ہماری زمین پر پہنچنے کی یا رابطہ کرنے کی کوشـــش ضرور کریں گے اور اگر کہیں وہ ہم سے بڑھ کر طاقتــور اور ذہین ہوئے تو زمین پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش کریں گے ناسا کے مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ اس چیز کے حق میں نہیں تھے کیونکہ وہ ڈرتے تھے ان خلائی جہاز پر آڈیو آوازوں کے ساتھ ساتھ ملکـــی وے کہکشاں میں ہمارے سولر سسٹم کو ڈھونڈنے کے لئے ایک نقـــــشہ بھی بنایا گیا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کا سادہ اور آسان مطلب یہ ہے کہ ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ وائجر ون خلائی جہاز کو ستمبر 1977 میں نظام شمسی سے جڑی کچھ جانکاریوں سے پردہ اٹھانے کے لئے امریکہ سے لانچ کیا گیا تھا۔ تقریباً 722 کلوگرام وزنی وائجر ون خلائی جہاز خود کار ســـسٹم سے آراستہ ہے، ہر سات دن بعد وائجر ون خود بخود ریسٹ ہوتا ہے اگر ان کا سسٹم خراب ہوگیا،،،،، تو سات دن بعد دوبارہ ریسٹ ہونے کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے یہ ناسا انجینئروں کا کمال ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وائجر ون باسٹھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہمارے نظام شمسی کے ہمــسایہ ستارہ ایلفا سینٹوری کے مخالف سمت میں مقـــجود ستاروں کے ایک جھرمٹ کی طرف بڑھ رہا ہے،،،،،،، یہ رفتار اس قدر تیز ہے کہ وائجر وَن صرف ایک دن میں زمین اور چاند کے درمیانی سفر کا تقریباً چار گنا فاصــــلہ طے کررہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ زمین اور چاند کا درمیانی فاصلہ تین لاکھ چوراسی ہزار چار سو کلومیٹر ہے اگر وائجر ون کی رفتار سے پوری دنیا کا ایک چکر لگایا جائے تو صرف چالیس منٹس ہی لگیں گے پوری دنیا کا ایک چکر کاٹنے میں۔۔۔۔ جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔۔۔۔ اگر ہم وائجر ون کے لیے کیلکولیشنز کرلیں تو کم و بیش 76000 سال بعد یہ خلائی جہاز ہمارے نــزدیک ترین ستارے ایلفا سینٹوری ستارے کے مخالف سمـــــت میں موجود ستاروں کے پاس پہنچے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایلفا سینٹوری سٹار سسٹم ہم سے کم و بیش ڈھائی سو کھرب میل دوری پر واقع ہے،، وائجر ون اس وقت سولر سسٹم کے بالکل آخری کنارے پر موجود ہے جہاں شدید اندھیرا اور بھلا کی ٹھنڈ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! #fyp  #fypシ  #foryou  #fypシ゚viral  #foryoupage
اس وقت وائجر ون خلائی جہاز 25 ارب کلومیـــــٹر دوری پر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ 25 ارب کلومیــٹر اتنا بڑا عدد ہے کہ اگر ایک شخص گننے لگ جائے اور ہر سیـــکنڈ میں ایک نمبر گنے تو اسے گنتے گنتے 792 سال لگ جائیں گے جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔۔۔ وائجر ون خلائی جہاز پچھلے 49 سال سے مسلسل خلاء میں سفر کرتے ہوئے زمین سے تقریباً 25 ارب کلومیٹر دور جا چکا ہے، ان میں ناسا سائنس دانوں نے ایک گولڈن ڈسک لگایا ہے ان میں بہت سی زبانوں میں بشمـــول ہماری اردو اور پنجابی کے آڈیو پیغامات ریکارڈ کئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس ڈسک میں خاص قسم کا میٹریل استعمال کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ پیــغامات آنے والے لاکھوں اور کروڑوں سالوں تک محفوظ رہیں، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات اور معلومات اس مقصـد کے لئے ہیں کہ اگر یہ جہاز کبھی کسی خلائی مخلوق یعنی ایلیـــنز کے پاس پہنچ پائے تو وہ یہ جان لے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا بھی اس کائنات میں رہتا ہے۔ اب ظاہر بات ہے اپنے علاوہ کسی دوسری مخلــــــوق کا جان کر وہ ہماری زمین پر پہنچنے کی یا رابطہ کرنے کی کوشـــش ضرور کریں گے اور اگر کہیں وہ ہم سے بڑھ کر طاقتــور اور ذہین ہوئے تو زمین پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش کریں گے ناسا کے مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ اس چیز کے حق میں نہیں تھے کیونکہ وہ ڈرتے تھے ان خلائی جہاز پر آڈیو آوازوں کے ساتھ ساتھ ملکـــی وے کہکشاں میں ہمارے سولر سسٹم کو ڈھونڈنے کے لئے ایک نقـــــشہ بھی بنایا گیا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کا سادہ اور آسان مطلب یہ ہے کہ ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ وائجر ون خلائی جہاز کو ستمبر 1977 میں نظام شمسی سے جڑی کچھ جانکاریوں سے پردہ اٹھانے کے لئے امریکہ سے لانچ کیا گیا تھا۔ تقریباً 722 کلوگرام وزنی وائجر ون خلائی جہاز خود کار ســـسٹم سے آراستہ ہے، ہر سات دن بعد وائجر ون خود بخود ریسٹ ہوتا ہے اگر ان کا سسٹم خراب ہوگیا،،،،، تو سات دن بعد دوبارہ ریسٹ ہونے کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے یہ ناسا انجینئروں کا کمال ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وائجر ون باسٹھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہمارے نظام شمسی کے ہمــسایہ ستارہ ایلفا سینٹوری کے مخالف سمت میں مقـــجود ستاروں کے ایک جھرمٹ کی طرف بڑھ رہا ہے،،،،،،، یہ رفتار اس قدر تیز ہے کہ وائجر وَن صرف ایک دن میں زمین اور چاند کے درمیانی سفر کا تقریباً چار گنا فاصــــلہ طے کررہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ زمین اور چاند کا درمیانی فاصلہ تین لاکھ چوراسی ہزار چار سو کلومیٹر ہے اگر وائجر ون کی رفتار سے پوری دنیا کا ایک چکر لگایا جائے تو صرف چالیس منٹس ہی لگیں گے پوری دنیا کا ایک چکر کاٹنے میں۔۔۔۔ جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔۔۔۔ اگر ہم وائجر ون کے لیے کیلکولیشنز کرلیں تو کم و بیش 76000 سال بعد یہ خلائی جہاز ہمارے نــزدیک ترین ستارے ایلفا سینٹوری ستارے کے مخالف سمـــــت میں موجود ستاروں کے پاس پہنچے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایلفا سینٹوری سٹار سسٹم ہم سے کم و بیش ڈھائی سو کھرب میل دوری پر واقع ہے،، وائجر ون اس وقت سولر سسٹم کے بالکل آخری کنارے پر موجود ہے جہاں شدید اندھیرا اور بھلا کی ٹھنڈ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! #fyp #fypシ #foryou #fypシ゚viral #foryoupage

About