@__beloft__: Ремонт квартир #гумор #ремонт #цьогодня

__Beloft__
__Beloft__
Open In TikTok:
Region: UA
Thursday 09 July 2026 09:12:25 GMT
229943
735
10
1464

Music

Download

Comments

ssd.profile
LTD AND :
пенопласт
2026-07-10 15:05:28
3
ora3396
ora3 :
2026-07-10 14:03:51
0
vitak.vit5
Vitak Vit :
у меня так было, накрылся термодатчик и паяльник потек
2026-07-10 17:51:44
1
sergantkorbin
korbin :
то буде добре
2026-07-10 19:17:11
1
user4011338486019
Бонд007 :
Колись мені зробили паяло і датчика не туди вставив, не знаю як😂 Зварився теж
2026-07-10 14:51:49
1
user9400619219004
Віхренко Руслан :
😂😂😂
2026-07-10 18:37:51
1
achibaiev
Artur :
👍
2026-07-10 15:05:03
1
excavator_pp
parkho_spetstekh :
🥰🥰🥰
2026-07-11 21:49:12
1
user1969771360571
Volodimer Izmailov :
🤣🤣🤣
2026-07-09 18:04:39
1
kovalserjtop1984
Сергій :
🤣
2026-07-12 04:19:16
1
To see more videos from user @__beloft__, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ترے خواب مجھ کو نگل گئے تری عادتیں مجھے کھا گئیں  یہ سنبھال اپنی محبتیں یہ محبتیں مجھے کھا گئیں تجھے لگ رہا ہے سخن وری بڑی چیز ہے مری جان پر مجھے میرے حرف نگل گئے مری شہرتیں مجھے کھا گئیں  میں وہ دشت ہوں جہاں دور تک کوئی آیا ہے نہ ہی آئے گا  مجھے میرے کرب نے ڈس لیا مری وحشتیں مجھے کھا گئیں یہ بجا کہ تیری زمین پر ہیں وجودِ زن سے ہی رونقیں  مرا دُکھ سمجھ مرے مالکا یہی صورتیں مجھے کھا گئیں ترے آندھیوں سے مزاج نے تجھے رکنے ہی نہ دیا کہیں  تجھے کچھ ہوا کہ نہیں ہوا تری عجلتیں مجھے کھا گئیں میں کِھلا تو کتنے تپاک سے مجھے دیکھتی رہی ہر نظر  یہ کسی پہ بھی نہیں کُھل سکا یہ ہری رُتیں مجھے کھا گئیں میں وہ عمر بھر کی مسافتوں کا تھکا مسافرِ بے اماں کبھی تھک کے ٹھہرا ذرا کہیں تو سکونتیں مجھے کھا گئیں میں بھی گھر سے نکلا تھا جن دِنوں تو میں اک وجیہ جوان تھا مجھے راستوں نے نگل لیا یہ مسافتیں مجھے کھا گئیں مری عمر بھر کی اذیتیں اسی ایک مصرعے میں بند ہیں  کئی حسرتوں کو میں کھا گیا کئی حسرتیں مجھے کھا گئیں 🪶
ترے خواب مجھ کو نگل گئے تری عادتیں مجھے کھا گئیں یہ سنبھال اپنی محبتیں یہ محبتیں مجھے کھا گئیں تجھے لگ رہا ہے سخن وری بڑی چیز ہے مری جان پر مجھے میرے حرف نگل گئے مری شہرتیں مجھے کھا گئیں میں وہ دشت ہوں جہاں دور تک کوئی آیا ہے نہ ہی آئے گا مجھے میرے کرب نے ڈس لیا مری وحشتیں مجھے کھا گئیں یہ بجا کہ تیری زمین پر ہیں وجودِ زن سے ہی رونقیں مرا دُکھ سمجھ مرے مالکا یہی صورتیں مجھے کھا گئیں ترے آندھیوں سے مزاج نے تجھے رکنے ہی نہ دیا کہیں تجھے کچھ ہوا کہ نہیں ہوا تری عجلتیں مجھے کھا گئیں میں کِھلا تو کتنے تپاک سے مجھے دیکھتی رہی ہر نظر یہ کسی پہ بھی نہیں کُھل سکا یہ ہری رُتیں مجھے کھا گئیں میں وہ عمر بھر کی مسافتوں کا تھکا مسافرِ بے اماں کبھی تھک کے ٹھہرا ذرا کہیں تو سکونتیں مجھے کھا گئیں میں بھی گھر سے نکلا تھا جن دِنوں تو میں اک وجیہ جوان تھا مجھے راستوں نے نگل لیا یہ مسافتیں مجھے کھا گئیں مری عمر بھر کی اذیتیں اسی ایک مصرعے میں بند ہیں کئی حسرتوں کو میں کھا گیا کئی حسرتیں مجھے کھا گئیں 🪶

About