@multimediostv: El fútbol se vive mejor cuando estás ahí. 🌎✈️ Descubre nuevos destinos con Viva

multimediostv
multimediostv
Open In TikTok:
Region: MX
Wednesday 15 July 2026 21:37:19 GMT
5867
105
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @multimediostv, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پھول بازار میں سجے ہوں گے، رنگ بکھرے ہوں گے، صدائیں ہوں گی، قیمتوں کے حساب ہوں گے مگر خوشبو کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ وہ جو شاخوں پہ خامشی اوڑھے، دھوپ، بارش، ہوا کو سہتا ہے، اپنی مٹی سے رشتہ رکھتا ہے تب کہیں جا کے گل مہکتا ہے۔ گل فروشوں کو کون سمجھائے؟ اس کی خوشبو اسی سے آتی ہے۔ جڑ سے کٹ کر تو حسن باقی ہے، پر وہ زندہ اثر کہاں باقی؟ رنگ آنکھوں کو بھا بھی جائے اگر روح کو وہ خبر کہاں باقی؟ ہر تعلق کی ایک مٹی ہے، ہر محبت کی ایک بنیاد، جو وفاؤں کی جڑ کاٹ دے اس کے حصے میں رہتی ہے فریاد۔ ہم نے دیکھا ہے وقت کے ہاتھوں کتنے چہروں کے رنگ ڈھلتے ہیں، جو اصولوں سے منہ موڑ لیتے ہیں، وہ بھی آخر کہیں بکھرتے ہیں۔ پھول صرف اک بدن نہیں ہوتا، اس میں موسم کی سانس رہتی ہے، ماں کی دعاؤں کی نمی ہوتی ہے، باپ کی محنت کی پیاس رہتی ہے۔ جس نے کانٹوں کو گلے لگایا ہو، صرف وہی گل کی قدر جانتا ہے، جس نے بچھڑنے کا دکھ سہا ہو، وصل کا لطف بھی وہی پاتا ہے۔ گل فروشوں کو کون سمجھائے؟ اس کی خوشبو اسی سے آتی ہے۔ خوشبو کو قید کر نہیں سکتے، عشق بیچا خرید نہیں سکتے، جو حقیقت سے رشتہ توڑ دے، وہ سکون پھر کبھی نہیں پاتا۔ یاد رکھنا، یہ پھول کہتے ہیں، اپنی مٹی سے جڑے رہنا، جڑ سلامت ہو تو خزاں میں بھی، امید کا اک چمن مہکتا ہے۔ ❤️🫂
پھول بازار میں سجے ہوں گے، رنگ بکھرے ہوں گے، صدائیں ہوں گی، قیمتوں کے حساب ہوں گے مگر خوشبو کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ وہ جو شاخوں پہ خامشی اوڑھے، دھوپ، بارش، ہوا کو سہتا ہے، اپنی مٹی سے رشتہ رکھتا ہے تب کہیں جا کے گل مہکتا ہے۔ گل فروشوں کو کون سمجھائے؟ اس کی خوشبو اسی سے آتی ہے۔ جڑ سے کٹ کر تو حسن باقی ہے، پر وہ زندہ اثر کہاں باقی؟ رنگ آنکھوں کو بھا بھی جائے اگر روح کو وہ خبر کہاں باقی؟ ہر تعلق کی ایک مٹی ہے، ہر محبت کی ایک بنیاد، جو وفاؤں کی جڑ کاٹ دے اس کے حصے میں رہتی ہے فریاد۔ ہم نے دیکھا ہے وقت کے ہاتھوں کتنے چہروں کے رنگ ڈھلتے ہیں، جو اصولوں سے منہ موڑ لیتے ہیں، وہ بھی آخر کہیں بکھرتے ہیں۔ پھول صرف اک بدن نہیں ہوتا، اس میں موسم کی سانس رہتی ہے، ماں کی دعاؤں کی نمی ہوتی ہے، باپ کی محنت کی پیاس رہتی ہے۔ جس نے کانٹوں کو گلے لگایا ہو، صرف وہی گل کی قدر جانتا ہے، جس نے بچھڑنے کا دکھ سہا ہو، وصل کا لطف بھی وہی پاتا ہے۔ گل فروشوں کو کون سمجھائے؟ اس کی خوشبو اسی سے آتی ہے۔ خوشبو کو قید کر نہیں سکتے، عشق بیچا خرید نہیں سکتے، جو حقیقت سے رشتہ توڑ دے، وہ سکون پھر کبھی نہیں پاتا۔ یاد رکھنا، یہ پھول کہتے ہیں، اپنی مٹی سے جڑے رہنا، جڑ سلامت ہو تو خزاں میں بھی، امید کا اک چمن مہکتا ہے۔ ❤️🫂

About