اپنی جگہ ارام فرما ہے یہ مزار ہے سیدنا غوث اعظم محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علی ہے کہ دو لخت جگر حضرت سید اسحاق شاہ اور حضرت سید یعقوب شاہ کا تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ 12ویں صدیقی کا ہے بغداد کے سلطان ولایت حضور غوث پاک کے یہ دو شہزادے دین اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے کفر کے اندھیروں میں علم حق بلند کرنے سرزمینی ہند کی طرف روانہ ہوئے کوہستانی نمک کا یہ پہاڑی سلسلہ اس وقت کفر اور شرک کا گڑھ تھا جہاں حق کی اواز پہنچانا اپنی جان ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف تھا لوحی مزار اور تاریخی روایات کے مطابق 586 ہجری میں کلر کہا کہ قریب جنگولہ کے مقام پر باطل قوتوں کے ساتھ ایک گھمسان کی جنگ ہوئی غوث پاک کے دونوں شہزادوں نے جوان مر دی سے لڑتے ہوئے اسی میدان میں جامع شہادت نوش کیا شہادت کے بعد عقیدت مندوں نے اس علاقے کے سب سے بلنڈ مقام یعنی اسی چھوٹی کا انتخاب کیا اور دونوں بھائیوں کو یہاں سپرٹ خاک کر دیا گیا جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک عظیم الشان مزار کی شکل اختیار کر گیا ان دونوں بزرگوں کو مقامی زبان اور روایات میں اہو باہو کے نام سے پکارا جاتا ہے اہو فارسی میں ہرن کو کہتے ہیں