@nyssaverse: 𝑢ℎ #codm #codmobile #callofdutymobile #codmclips #nyssa

𝑵𝒚𝒔𝒔𝒂
𝑵𝒚𝒔𝒔𝒂
Open In TikTok:
Region: GB
Monday 20 July 2026 19:48:23 GMT
12224
1660
54
45

Music

Download

Comments

ze.ptq
Migz :
high device always win
2026-07-24 03:48:54
14
eue.sx
𝑝𝑖𝑛𝑘 :
nyssa, miss u 😕
2026-08-09 16:06:46
2
tempest7813
RigBY :
Nyssa is so underrated 💯
2026-07-24 04:23:20
4
samxzyz7
⋆ 𝑺𝓪𝓶𝔁 :
2026-07-22 05:39:26
2
halilbr6
Halil :
Peak
2026-07-22 02:41:15
2
boyspekh
spekh :
OP Nyssa!
2026-07-25 09:19:54
1
shadows.codm
ShadowS :
😁
2026-07-22 13:59:20
1
_divinity
echo :
2026-07-20 22:34:17
2
To see more videos from user @nyssaverse, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک اعلیٰ ظرف اور خاندانی انسان کی سب سے بڑی پہچان اس کی احسان شناسی ہوتی ہے، جو کسی کے چھوٹے سے چھوٹے احسان، جیسے ایک گلاس پانی کو بھی عمر بھر نہیں بھولتا۔ ایسا شخص مشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کا ہمیشہ دل سے احترام کرتا ہے، اپنی وفاداری کو قائم رکھتا ہے اور موقع ملنے پر بڑھ چڑھ کر اس کا بدلہ چکانے کی کوشش کرتا ہے،  کیونکہ اس کا یہ رویہ اس کی بہترین خاندانی تربیت، اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ ضمیر کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔اس کے برعکس، ایک کم ظرف اور بد نسل انسان کا رویہ سراسر ناشکری اور احسان فراموشی پر مبنی ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ آپ جتنی بھی بڑی بھلائی کر لیں، یہاں تک کہ اسے خون کا عطیہ دے کر اس کی جان ہی کیوں نہ بچا لیں، وہ وقت نکلتے ہی نظریں پھیر لیتا ہے۔ ان کے اندر ظرف کی اتنی کمی ہوتی ہے کہ وہ اکثر اپنے محسن کو ہی اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق صرف اپنے ذاتی مفاد تک محدود ہوتا ہے اور مقصد پورا ہوتے ہی وہ پچھلی تمام قربانیاں بھلا دیتے ہیں۔ یہ جملہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے مال و دولت یا حسب نسب سے زیادہ اس کے ظرف اور اخلاق سے ہوتی ہے، اس لیے کسی کے ساتھ بھی بھلائی کرتے وقت ہمیشہ اللہ کی رضا پیشِ نظر ہونی چاہیے کیونکہ انسان اکثر احسان بھول جاتے ہیں لیکن خالق کائنات ہر نیکی کا اجر محفوظ رکھتا ہے
ایک اعلیٰ ظرف اور خاندانی انسان کی سب سے بڑی پہچان اس کی احسان شناسی ہوتی ہے، جو کسی کے چھوٹے سے چھوٹے احسان، جیسے ایک گلاس پانی کو بھی عمر بھر نہیں بھولتا۔ ایسا شخص مشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کا ہمیشہ دل سے احترام کرتا ہے، اپنی وفاداری کو قائم رکھتا ہے اور موقع ملنے پر بڑھ چڑھ کر اس کا بدلہ چکانے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اس کا یہ رویہ اس کی بہترین خاندانی تربیت، اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ ضمیر کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔اس کے برعکس، ایک کم ظرف اور بد نسل انسان کا رویہ سراسر ناشکری اور احسان فراموشی پر مبنی ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ آپ جتنی بھی بڑی بھلائی کر لیں، یہاں تک کہ اسے خون کا عطیہ دے کر اس کی جان ہی کیوں نہ بچا لیں، وہ وقت نکلتے ہی نظریں پھیر لیتا ہے۔ ان کے اندر ظرف کی اتنی کمی ہوتی ہے کہ وہ اکثر اپنے محسن کو ہی اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق صرف اپنے ذاتی مفاد تک محدود ہوتا ہے اور مقصد پورا ہوتے ہی وہ پچھلی تمام قربانیاں بھلا دیتے ہیں۔ یہ جملہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے مال و دولت یا حسب نسب سے زیادہ اس کے ظرف اور اخلاق سے ہوتی ہے، اس لیے کسی کے ساتھ بھی بھلائی کرتے وقت ہمیشہ اللہ کی رضا پیشِ نظر ہونی چاہیے کیونکہ انسان اکثر احسان بھول جاتے ہیں لیکن خالق کائنات ہر نیکی کا اجر محفوظ رکھتا ہے

About