@rj_typist2: یہ میری آنکھوں کے گرد سیاہ دائرے پھیل چکے ہیں یہ " اندر مر جانے والے خوابوں کا سوگ ہے۔ میں روز جیا روز مرا اور روز اپنے ہی ہاتھوں اپنی امیدوں کا جنازہ اٹھایا۔ جب اندر کا شور حد سے بڑھ گیا، تو وہ خاموشی بن کر میری آنکھوں کے نیچے جم گیا۔ دنيا سمجھتی ہے میں سنبھل گیا ہوں، کیونکہ میں نے ہنسنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ پر کوئی اس آئینے سے پوچھے جو ہر صبح میری روح کی دھجیاں اڑتے دیکھتا ہے۔ میں خود ہی اپنی عدالت کا وہ مجرم ہوں جسے عمر قید بھی ملی اور روز جینے کی سزا بھی۔ اب تو نیند سے بھی خوف آتا ہے کہ وہاں بھی وہی ادھورے خواب نوچنے آتے ہیں اور جاگنا تو ویسے ہی ایک لامتناہی عذاب ہے۔ ۔ یہ سیاہ حلقے اب مٹ نہیں سکتے، کیونکہ یہ ان راتوں کا سود ہیں جو میں نے اپنی زندگی بیچ کر خریدی تھیں۔ میں ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہوں، جہاں جیت جانا بھی ہار جانے "جیسا ہی ہے۔