@rosillir1: сассикча #rek #fyp #llr8 #recommendations

llr8_______
llr8_______
Open In TikTok:
Region: FR
Saturday 01 August 2026 22:07:44 GMT
138
16
7
1

Music

Download

Comments

kkyumva
￴ :
pupsechkaaaa
2026-08-01 22:18:14
0
kkyumva
￴ :
samaya samayaaaa
2026-08-01 22:18:06
0
kkyumva
￴ :
zaykammm
2026-08-01 22:17:55
0
kkyumva
￴ :
😍😍😍
2026-08-01 22:17:56
0
_dilnuram_
_dilnuram_ :
😍
2026-08-01 23:33:58
0
To see more videos from user @rosillir1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کراچی کھارادر میں واقع کتیانہ میمن ہسپتال نے غریبوں کے ساتھ لوٹ مار  کا بازار گرم کردیا  اسپتال کے نام پر کسائی کھانا قائم کھلے عام دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار  ویلفئر کے نام سے قائم ہسپتال صرف پیسے کمانے کی مشین بن گئی    کراچی کے علاقے کھارادر میں قائم کتیانہ میمن اسپتال ایک بار پھر سنگین الزامات کی زد میں آ گیا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مریضہ سمیہ کے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ علاج کے نام پر ان سے لاکھوں روپے وصول کیے جانے کے باوجود مزید رقم طلب کی گئی، جبکہ اضافی ادائیگی نہ کرنے پر مریضہ کو جناح اسپتال یا سول اسپتال منتقل کرنے کا کہا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق مریضہ کے علاج کی مد میں اب تک 2 لاکھ 20 ہزار روپے اسپتال انتظامیہ کو ادا کیے جا چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود مزید رقم کا مطالبہ سامنے آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باعث وہ اضافی رقم ادا کرنے سے قاصر تھے، جس پر انہیں علاج جاری رکھنے کے بجائے مریضہ کو دوسرے سرکاری اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ لواحقین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی ادارہ ویلفیئر اور عوامی خدمت کے دعوے کرتا ہے تو وہاں مستحق اور غریب مریضوں کو مالی دباؤ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ان کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ نہ صرف انسانی ہمدردی بلکہ طبی اخلاقیات کے حوالے سے بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ متاثرہ خاندان نے وزیرِ صحت سندھ، سیکریٹری صحت اور انسانی حقوق کے اداروں اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہو تو قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے
کراچی کھارادر میں واقع کتیانہ میمن ہسپتال نے غریبوں کے ساتھ لوٹ مار کا بازار گرم کردیا اسپتال کے نام پر کسائی کھانا قائم کھلے عام دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار ویلفئر کے نام سے قائم ہسپتال صرف پیسے کمانے کی مشین بن گئی کراچی کے علاقے کھارادر میں قائم کتیانہ میمن اسپتال ایک بار پھر سنگین الزامات کی زد میں آ گیا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مریضہ سمیہ کے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ علاج کے نام پر ان سے لاکھوں روپے وصول کیے جانے کے باوجود مزید رقم طلب کی گئی، جبکہ اضافی ادائیگی نہ کرنے پر مریضہ کو جناح اسپتال یا سول اسپتال منتقل کرنے کا کہا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق مریضہ کے علاج کی مد میں اب تک 2 لاکھ 20 ہزار روپے اسپتال انتظامیہ کو ادا کیے جا چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود مزید رقم کا مطالبہ سامنے آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باعث وہ اضافی رقم ادا کرنے سے قاصر تھے، جس پر انہیں علاج جاری رکھنے کے بجائے مریضہ کو دوسرے سرکاری اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ لواحقین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی ادارہ ویلفیئر اور عوامی خدمت کے دعوے کرتا ہے تو وہاں مستحق اور غریب مریضوں کو مالی دباؤ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ان کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ نہ صرف انسانی ہمدردی بلکہ طبی اخلاقیات کے حوالے سے بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ متاثرہ خاندان نے وزیرِ صحت سندھ، سیکریٹری صحت اور انسانی حقوق کے اداروں اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہو تو قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے

About