@pukhtoon.student: پاکستان ازاد ہونے کے ایک سال بعد ۱۲ اگست ۱۹۴۸ کوچارسدہ کے علاقے بابڑہ میں قیوم خان نے نہتے اور پر امن خدائی خدمتگاروں پر گولیاں برسائی گئی جو کہ قیامت نما منظر تھا جس میں ۷۰۰ خدائی خدمتگار شہید ہوئے ،۱۲۰۰ کے قریب زخمی ہوئے اور جو لوگ شہید ہوئے ان پر قیوم خان سرکار نے ۵۰ روپے جرمانہ عائد کیا اور جو زخمی ہوئے ان پر ۱۰۰ روپے جرمانہ عائد کیا اور جواز یہ پیش کیا گیا کہ ان لوگوں پر ریاست کی گولیاں ضائع ہوئی ( ایک کتاب جس کا نام خانیازم ہے اس میں قیوم خان نے اس بات کا اعتراف خود کیا ہے میں نے یہ گولیا قائداعظم کے کہنے پے چلائی تھی )