@buttershort1: Mareas de Salvador EP2

butter short
butter short
Open In TikTok:
Region: MX
Tuesday 18 August 2026 03:03:05 GMT
3370
53
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @buttershort1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک بات اُن لوگوں کے لیے جو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ہمیشہ دوسروں کو بناتے ہیں۔ کچھ لوگ بزنس میں آتے ہیں، ایک دو ہفتے محنت کرتے ہیں، لیکن جب مارکیٹ میں جدوجہد کرنی پڑتی ہے، لوگوں کے انکار سننے پڑتے ہیں، بار بار Rejection کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور فوری رزلٹ نہیں ملتا، تو وہ محنت چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر اپنی ناکامی کی وجہ تلاش کرنے کے بجائے کہتے ہیں: “سسٹم خراب ہے، کمپنی اچھی نہیں، کام میں فائدہ نہیں، لوگوں نے ساتھ نہیں دیا۔” لیکن کبھی انسان کو چند لمحے رک کر اپنے آپ سے بھی سوال کرنا چاہیے: کیا میں نے واقعی پوری محنت کی تھی؟ کیا میں نے مسلسل سیکھا تھا؟ کیا میں نے Rejection کے بعد دوبارہ کوشش کی تھی؟ کیا میں نے اپنے Skills اور Communication پر کام کیا تھا؟ کیونکہ اگر ہم اپنی ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال دیں گے، تو ہم اپنی غلطی سے کبھی نہیں سیکھ سکیں گے۔ یاد رکھیں! شکست دے کے زمانہ مجھے گرا نہ سکا، میں اپنی کمزوریوں سے ہارا تو ہارا۔ اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں: جو شخص محنت سے جی چراتا ہے، وہ اکثر قسمت کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ میں نے بھی اسی سسٹم میں کام کیا ہے۔ میں نے بھی مشکلات دیکھی ہیں، Rejection برداشت کی ہے، لوگوں کے سوالات سنے ہیں اور کئی مرتبہ خود کو دوبارہ کھڑا کیا ہے۔ آج اگر میں اس مقام پر ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میرے لیے راستہ آسان تھا؛ بلکہ میں نے مشکل راستے پر چلنا نہیں چھوڑا۔ اس لیے دوسروں کو قصوروار ٹھہرانے سے پہلے اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کریں: “میں نے اپنی کامیابی کے لیے حقیقت میں کتنا دیا؟” کیونکہ… منزل انہیں ملتی ہے جن کے خوابوں میں جان ہوتی ہے، صرف پر نہیں ہوتے، حوصلوں میں اُڑان ہوتی ہے۔ محنت کریں، سیکھیں، برداشت کریں، خود کو بہتر بنائیں—پھر فیصلہ کریں کہ سسٹم ناکام ہے یا ہماری کوشش کم تھی۔ 🔥
ایک بات اُن لوگوں کے لیے جو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ہمیشہ دوسروں کو بناتے ہیں۔ کچھ لوگ بزنس میں آتے ہیں، ایک دو ہفتے محنت کرتے ہیں، لیکن جب مارکیٹ میں جدوجہد کرنی پڑتی ہے، لوگوں کے انکار سننے پڑتے ہیں، بار بار Rejection کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور فوری رزلٹ نہیں ملتا، تو وہ محنت چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر اپنی ناکامی کی وجہ تلاش کرنے کے بجائے کہتے ہیں: “سسٹم خراب ہے، کمپنی اچھی نہیں، کام میں فائدہ نہیں، لوگوں نے ساتھ نہیں دیا۔” لیکن کبھی انسان کو چند لمحے رک کر اپنے آپ سے بھی سوال کرنا چاہیے: کیا میں نے واقعی پوری محنت کی تھی؟ کیا میں نے مسلسل سیکھا تھا؟ کیا میں نے Rejection کے بعد دوبارہ کوشش کی تھی؟ کیا میں نے اپنے Skills اور Communication پر کام کیا تھا؟ کیونکہ اگر ہم اپنی ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال دیں گے، تو ہم اپنی غلطی سے کبھی نہیں سیکھ سکیں گے۔ یاد رکھیں! شکست دے کے زمانہ مجھے گرا نہ سکا، میں اپنی کمزوریوں سے ہارا تو ہارا۔ اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں: جو شخص محنت سے جی چراتا ہے، وہ اکثر قسمت کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ میں نے بھی اسی سسٹم میں کام کیا ہے۔ میں نے بھی مشکلات دیکھی ہیں، Rejection برداشت کی ہے، لوگوں کے سوالات سنے ہیں اور کئی مرتبہ خود کو دوبارہ کھڑا کیا ہے۔ آج اگر میں اس مقام پر ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میرے لیے راستہ آسان تھا؛ بلکہ میں نے مشکل راستے پر چلنا نہیں چھوڑا۔ اس لیے دوسروں کو قصوروار ٹھہرانے سے پہلے اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کریں: “میں نے اپنی کامیابی کے لیے حقیقت میں کتنا دیا؟” کیونکہ… منزل انہیں ملتی ہے جن کے خوابوں میں جان ہوتی ہے، صرف پر نہیں ہوتے، حوصلوں میں اُڑان ہوتی ہے۔ محنت کریں، سیکھیں، برداشت کریں، خود کو بہتر بنائیں—پھر فیصلہ کریں کہ سسٹم ناکام ہے یا ہماری کوشش کم تھی۔ 🔥

About