@lamin.toumik:

سعودي سعودي وأفتخر
سعودي سعودي وأفتخر
Open In TikTok:
Region: DZ
Wednesday 19 August 2026 02:03:08 GMT
4521
271
11
16

Music

Download

Comments

moh33mohamd29
Om Mohamd :
وين ؟
2026-08-21 10:03:25
0
user7092575547916a
user7092575547916abdotam11 :
❤️❤️❤️
2026-08-19 19:29:12
0
karima.bent.abdel
Karima Bent Abdellah Sahki :
❤️❤️❤️
2026-08-19 18:59:46
0
3rdof37
قد بن إتغ راسا :
🥰🥰🥰
2026-08-19 17:40:53
0
user5744952136256
سليمان كحلا :
🥰🥰🥰
2026-08-19 15:22:37
0
.doss5
ayoub tadjmart :
🫡🫡
2026-08-19 13:50:31
0
user3668730335391
user46506419286 :
🥰🥰🥰
2026-08-19 13:31:25
0
user95000181232152
عأشق اسرهو :
💙💙💙
2026-08-19 12:41:40
0
j___a_m_o_l
باي بيكه :
🥰🥰🥰
2026-08-19 07:44:15
0
karim95722
a...n....r...n.. tomas :
🥰🥰🥰
2026-08-19 06:23:09
0
wamanes8
WAMANES.....😒 :
🥰🥰🥰
2026-08-20 10:47:43
0
To see more videos from user @lamin.toumik, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے وہ ادب کی کتاب جیسا تھا جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا دل کے خیمے میں رات کرتا تھا رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے بولتا تھا زبان خوشبو کی لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے ساری آنکھیں تھیں آئنیے اُس کے سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا ایک دریا نما سراب تھا وہ خواب یہ ہے کہ وہ حقیقت تھا یہ حقیقت ہے کوئی خواب تھا وہ دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہوئیں میں نے پایا تھا رت جگوں میں اُُسے یہ مگر دیر کی کہانی ہے یہ مگر دور کا فسانہ ہے اُس کے میرے ملاپ میں حائل اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟ میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا محسن نقوی #sufi #sahibzadaasimmaharvi #Dervaish #travelling #poetry
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے وہ ادب کی کتاب جیسا تھا جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا دل کے خیمے میں رات کرتا تھا رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے بولتا تھا زبان خوشبو کی لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے ساری آنکھیں تھیں آئنیے اُس کے سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا ایک دریا نما سراب تھا وہ خواب یہ ہے کہ وہ حقیقت تھا یہ حقیقت ہے کوئی خواب تھا وہ دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہوئیں میں نے پایا تھا رت جگوں میں اُُسے یہ مگر دیر کی کہانی ہے یہ مگر دور کا فسانہ ہے اُس کے میرے ملاپ میں حائل اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟ میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا محسن نقوی #sufi #sahibzadaasimmaharvi #Dervaish #travelling #poetry

About