@captainali92: اگر دروازہ پتھر کا ہو تو دستک دینے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر دروازے کے پیچھے پتھر ہو تو دستک دینا بے وقوفی ہوتی ہے۔ اپنی اہمیت جان لینے کے بعد بھی کسی کے ساتھ لٹکے رہنا بے وقوفی ہوتی ہے۔ نفسیات کہتی ہے کہ انسان وہاں زیادہ دیر رکتا ہے جہاں اسے محبت کم اور امید زیادہ ہو۔ وہ چند اچھے لمحوں کے سہارے برسوں کی بے قدری برداشت کرتا رہتا ہے۔ ہر سرد رویے کے بعد وہ خود کو یہ یقین دلاتا ہے کہ شاید کل سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یاد رکھیے کہ جو لوگ آپ کی قدر نہیں جانتے، ان کے لیے اپنا وقت ضائع مت کریں۔ جہاں آپ کی محبت کو معمول سمجھ لیا جائے، وہاں رکنا چھوڑ دیجیے۔ قیمتی چیزیں اپنی قیمت بتانے کے لیے خود شور نہیں کرتی، پہچاننے والے انہیں خود ڈھونڈ لیتے ہیں۔ سیلف ریسپیکٹ کے ساتھ کیا گیا فیصلہ، بے عزتی کے ساتھ نبھائے گئے تعلق سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ کومل جوئیہ کا شعر ہے: "انا پہ وار کے پھینکے ہیں ایسے ویسے بہت میرا غرور سلامت رہے ۔ 💔