@rio._.s041677: それっぽい風 #dance @ATEEZ_Official

酒井理央
酒井理央
Open In TikTok:
Region: JP
Sunday 23 August 2026 08:50:32 GMT
598886
43057
309
294

Music

Download

Comments

igarashi_reen
五十嵐 蓮(いがらしれん) :
まあいいんじゃない?
2026-08-23 12:28:57
2439
user4260071129804
あいす :
えダンス上達してる!! というかうますぎんんん??
2026-08-23 09:53:59
399
koha6641
koha :
これ踊れるの!?ゆうかちゃんも踊ってみてほしい笑笑
2026-08-23 08:54:00
636
yuut.tw_8
yuttto☆ :
圭佑と同じ服!?
2026-08-23 09:10:51
68
kaiseinotricot
かりん :
早いかも、でも遅い気が、
2026-08-23 08:53:20
186
ru_lx416
ruri :
ダンスめっちゃ上手😭
2026-08-23 09:01:41
5
haru32998
୨୧ :
待って上手い笑笑笑笑りおくんのよさがにじみ出てる
2026-08-23 10:45:02
51
an71211075
Anna :
真顔なのやばい
2026-08-24 12:15:39
57
user429876582608
中村くん :
け、結構踊れてるガチで、
2026-08-23 09:01:40
12
oshi__melo416
ゆかりおの虜♡ :
コメ返コメハ基準なんなのー?🥹コメ返ほしいなっー!!
2026-08-23 09:19:06
20
su_zu384
すず :
結構うまい笑
2026-08-23 09:02:25
6
an39261388374234
あん🎐🐈‍⬛ :
イッツミーの時よりダンス上手くなった気がする笑笑✨
2026-08-23 09:34:11
67
runa08181popo
るー :
めちゃめちゃそれっぽい
2026-08-23 09:36:40
5
yuna27391
♪YUNA♪ :
ダンス上手∟(^ω^)」
2026-08-23 09:21:57
14
rio46271
Rio :
またゆうかちゃんとダンス対決的なことして〜!
2026-08-23 09:14:06
20
ichiri96
いちりん♡ :
えかっこいい
2026-08-23 09:28:36
8
user9821912729873
⭐️せなざる⭐️ちか推し❤️ :
顔真剣なのウケる笑笑
2026-08-23 12:27:11
14
ru_lx416
ruri :
るり習い事なにしてたと思うーー???!😏
2026-08-23 09:05:42
5
yqr0ua
岩井 陽大 /いわい ようた :
ダンスうますぎるよ
2026-08-23 09:47:32
5
aya_529no
ꉂ🤣𐤔 :
全部タイプ
2026-08-23 12:01:05
19
ru_lx416
ruri :
ダンスバトルリアタイしてた時お母さんもりおくん褒めてたな😻
2026-08-23 09:01:08
6
mari_na080711
まり :
ゆうかちゃんと一緒に踊ってほしい
2026-08-23 09:22:28
5
so029493
そうや sabu :
けいすけくんとおなじ服じゃね?!!
2026-08-23 09:18:25
20
user26087185617022
みおみお✨🌸 :
好きな食べ物何ー
2026-08-23 09:20:09
5
mekfbvkuiyy
あいす :
ずっと目合ってる笑笑笑笑笑笑
2026-08-23 09:20:29
5
To see more videos from user @rio._.s041677, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آن لائن جہاز گیم، آخر یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟ ✍️ ممتاز احمد راجپوت صدر عوامی پریس کلب رجسٹرڈ چکوال بورے والا میں پیٹرولنگ پولیس کے ایک کانسٹیبل کی مبینہ خودکشی کی خبر سامنے آئی تو اس کے ساتھ ایک بار پھر آن لائن جہاز گیم Aviator کا نام بھی سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق علی حسن ڈوگر پیٹرولنگ چیک پوسٹ پکھی موڑ پر بطور محرر تعینات تھا اور مبینہ طور پر کافی عرصے سے یہ آن لائن گیم کھیل رہا تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ علی حسن کو گیم میں بھاری مالی نقصان ہوا تھا۔ یہاں تک بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر اپنی تنخواہ کے علاوہ عزیز و اقارب سے لی گئی ادھار رقم بھی اس گیم میں ہار چکا تھا اور گزشتہ کچھ عرصے سے پریشان تھا۔ بعد ازاں اس نے مبینہ طور پر سرکاری بندوق سے خود کو گولی مار لی۔ یہ تمام باتیں فی الحال ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ واقعے کی اصل وجہ کیا بنی اور حالات یہاں تک کیسے پہنچے، اس کا تعین پولیس تحقیقات کے بعد ہی ہونا چاہیے۔ لیکن اس واقعے سے ہٹ کر بھی ایک مسئلہ ایسا ہے جس پر اب کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ Aviator یا عام زبان میں جسے لوگ جہاز گیم کہتے ہیں، اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ چکوال سمیت چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں بھی نوجوان اس طرف آ رہے ہیں۔ محفلوں میں بیٹھیں تو کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور مل جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ فلاں نے اتنے پیسے بنا لیے یا فلاں نے اتنے ہزار جیت لیے۔ لیکن جو لوگ ہزاروں اور لاکھوں روپے ہار جاتے ہیں ان کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔ مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ شروع میں بندہ پانچ سو یا ہزار روپے لگا لیتا ہے۔ کبھی رقم بن جائے تو اسے لگتا ہے کہ طریقہ ہاتھ آگیا ہے۔ پھر رقم بڑھتی جاتی ہے۔ ایک دن بڑا نقصان ہوجائے تو بندہ گیم چھوڑنے کے بجائے یہی سوچتا ہے کہ جو پیسے گئے ہیں وہ واپس نکالنے ہیں۔ پھر دوبارہ رقم لگتی ہے اور اکثر نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔ اپنی رقم ختم ہونے کے بعد اگر کوئی شخص ادھار لے کر بھی یہی کام شروع کر دے تو معاملہ بہت خراب ہو جاتا ہے۔ قرض الگ سر پر کھڑا ہوتا ہے، گھر والوں سے رقم چھپانے کی پریشانی الگ اور ہاری ہوئی رقم واپس حاصل کرنے کی فکر الگ۔ یہ بات خاص طور پر نوجوانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر اس گیم میں آپ کے بیس ہزار، پچاس ہزار یا ایک لاکھ روپے چلے گئے ہیں تو مزید رقم لگا کر ان کا پیچھا مت کریں۔ جو نقصان ہوگیا اسے وہیں روک دینا بہتر ہے۔ ادھار لے کر دوبارہ کھیلنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید نقصان کا راستہ بن سکتا ہے۔ اور اگر کسی پر قرض چڑھ گیا ہے تو گھر والوں سے بات کرے۔ والد، بھائی، دوست یا کسی ایسے شخص کو اعتماد میں لے جس پر بھروسہ ہو۔ رقم آج نہیں تو کل واپس ہوسکتی ہے۔ قرض بھی وقت کے ساتھ ادا ہوسکتا ہے۔ چند دن لوگوں کی باتیں بھی سننا پڑ سکتی ہیں۔ لیکن کسی مالی نقصان کی وجہ سے اپنی زندگی کے بارے میں انتہائی قدم اٹھانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس معاملے میں والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنا ہوگی۔ بچہ یا نوجوان بار بار پیسے کیوں مانگ رہا ہے؟ تنخواہ کہاں خرچ ہورہی ہے؟ اچانک قرض کیوں لے رہا ہے؟ موبائل پر رات گئے تک کیا چل رہا ہے؟ یہ سوال وقت پر پوچھ لیے جائیں تو شاید کسی بڑے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ آن لائن جوئے اور بیٹنگ کے خلاف صرف وقتی کارروائیوں کے بجائے مستقل بنیادوں پر کام کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر ایسی گیمز کی تشہیر اور لوگوں کو آسان پیسہ کمانے کے نام پر راغب کرنے والوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بورے والا کے واقعے کی حقیقت تحقیقات کے بعد سامنے آجائے گی، اس لیے علی حسن ڈوگر کی موت کو کسی ایک وجہ سے جوڑ کر حتمی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ ایک بات ہمارے سامنے موجود ہے کہ آن لائن جوئے کا بڑھتا ہوا رجحان معمولی مسئلہ نہیں رہا۔ آج کسی کی تنخواہ جارہی ہے، کسی کی جمع پونجی اور کوئی قرض لے کر کھیل رہا ہے۔ اگر بروقت اس طرف توجہ نہ دی گئی تو نقصان صرف بینک اکاؤنٹ تک محدود نہیں رہے گا، اس کی قیمت پورے گھر کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ جو رقم چلی گئی، اسے نقصان سمجھ کر وہیں رک جائیں۔ اسے واپس نکالنے کے چکر میں اپنی باقی جمع پونجی، گھر کا سکون اور زندگی داؤ پر مت لگائیں۔
آن لائن جہاز گیم، آخر یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟ ✍️ ممتاز احمد راجپوت صدر عوامی پریس کلب رجسٹرڈ چکوال بورے والا میں پیٹرولنگ پولیس کے ایک کانسٹیبل کی مبینہ خودکشی کی خبر سامنے آئی تو اس کے ساتھ ایک بار پھر آن لائن جہاز گیم Aviator کا نام بھی سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق علی حسن ڈوگر پیٹرولنگ چیک پوسٹ پکھی موڑ پر بطور محرر تعینات تھا اور مبینہ طور پر کافی عرصے سے یہ آن لائن گیم کھیل رہا تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ علی حسن کو گیم میں بھاری مالی نقصان ہوا تھا۔ یہاں تک بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر اپنی تنخواہ کے علاوہ عزیز و اقارب سے لی گئی ادھار رقم بھی اس گیم میں ہار چکا تھا اور گزشتہ کچھ عرصے سے پریشان تھا۔ بعد ازاں اس نے مبینہ طور پر سرکاری بندوق سے خود کو گولی مار لی۔ یہ تمام باتیں فی الحال ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ واقعے کی اصل وجہ کیا بنی اور حالات یہاں تک کیسے پہنچے، اس کا تعین پولیس تحقیقات کے بعد ہی ہونا چاہیے۔ لیکن اس واقعے سے ہٹ کر بھی ایک مسئلہ ایسا ہے جس پر اب کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ Aviator یا عام زبان میں جسے لوگ جہاز گیم کہتے ہیں، اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ چکوال سمیت چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں بھی نوجوان اس طرف آ رہے ہیں۔ محفلوں میں بیٹھیں تو کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور مل جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ فلاں نے اتنے پیسے بنا لیے یا فلاں نے اتنے ہزار جیت لیے۔ لیکن جو لوگ ہزاروں اور لاکھوں روپے ہار جاتے ہیں ان کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔ مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ شروع میں بندہ پانچ سو یا ہزار روپے لگا لیتا ہے۔ کبھی رقم بن جائے تو اسے لگتا ہے کہ طریقہ ہاتھ آگیا ہے۔ پھر رقم بڑھتی جاتی ہے۔ ایک دن بڑا نقصان ہوجائے تو بندہ گیم چھوڑنے کے بجائے یہی سوچتا ہے کہ جو پیسے گئے ہیں وہ واپس نکالنے ہیں۔ پھر دوبارہ رقم لگتی ہے اور اکثر نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔ اپنی رقم ختم ہونے کے بعد اگر کوئی شخص ادھار لے کر بھی یہی کام شروع کر دے تو معاملہ بہت خراب ہو جاتا ہے۔ قرض الگ سر پر کھڑا ہوتا ہے، گھر والوں سے رقم چھپانے کی پریشانی الگ اور ہاری ہوئی رقم واپس حاصل کرنے کی فکر الگ۔ یہ بات خاص طور پر نوجوانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر اس گیم میں آپ کے بیس ہزار، پچاس ہزار یا ایک لاکھ روپے چلے گئے ہیں تو مزید رقم لگا کر ان کا پیچھا مت کریں۔ جو نقصان ہوگیا اسے وہیں روک دینا بہتر ہے۔ ادھار لے کر دوبارہ کھیلنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید نقصان کا راستہ بن سکتا ہے۔ اور اگر کسی پر قرض چڑھ گیا ہے تو گھر والوں سے بات کرے۔ والد، بھائی، دوست یا کسی ایسے شخص کو اعتماد میں لے جس پر بھروسہ ہو۔ رقم آج نہیں تو کل واپس ہوسکتی ہے۔ قرض بھی وقت کے ساتھ ادا ہوسکتا ہے۔ چند دن لوگوں کی باتیں بھی سننا پڑ سکتی ہیں۔ لیکن کسی مالی نقصان کی وجہ سے اپنی زندگی کے بارے میں انتہائی قدم اٹھانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس معاملے میں والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنا ہوگی۔ بچہ یا نوجوان بار بار پیسے کیوں مانگ رہا ہے؟ تنخواہ کہاں خرچ ہورہی ہے؟ اچانک قرض کیوں لے رہا ہے؟ موبائل پر رات گئے تک کیا چل رہا ہے؟ یہ سوال وقت پر پوچھ لیے جائیں تو شاید کسی بڑے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ آن لائن جوئے اور بیٹنگ کے خلاف صرف وقتی کارروائیوں کے بجائے مستقل بنیادوں پر کام کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر ایسی گیمز کی تشہیر اور لوگوں کو آسان پیسہ کمانے کے نام پر راغب کرنے والوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بورے والا کے واقعے کی حقیقت تحقیقات کے بعد سامنے آجائے گی، اس لیے علی حسن ڈوگر کی موت کو کسی ایک وجہ سے جوڑ کر حتمی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ ایک بات ہمارے سامنے موجود ہے کہ آن لائن جوئے کا بڑھتا ہوا رجحان معمولی مسئلہ نہیں رہا۔ آج کسی کی تنخواہ جارہی ہے، کسی کی جمع پونجی اور کوئی قرض لے کر کھیل رہا ہے۔ اگر بروقت اس طرف توجہ نہ دی گئی تو نقصان صرف بینک اکاؤنٹ تک محدود نہیں رہے گا، اس کی قیمت پورے گھر کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ جو رقم چلی گئی، اسے نقصان سمجھ کر وہیں رک جائیں۔ اسے واپس نکالنے کے چکر میں اپنی باقی جمع پونجی، گھر کا سکون اور زندگی داؤ پر مت لگائیں۔

About