@acacia_digital: Located at Accra trade center ground floor shop G22#fyp #viral #fypシ゚viral

NEW DIGITAL ACCESSORIES
NEW DIGITAL ACCESSORIES
Open In TikTok:
Region: KE
Sunday 23 August 2026 09:37:16 GMT
5441
103
3
4

Music

Download

Comments

mhizricheal
Mhizricheal :
am I. Owerri hw much for waybill
2026-08-26 11:23:32
0
sh3______popcaan
🌏♧$¥ðęm♧🇯🇲💕 :
mkowapi
2026-08-23 10:37:24
1
doreennanjala
Doreen Nanjala :
😳😳😳
2026-08-28 18:51:18
0
To see more videos from user @acacia_digital, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم اس بدبخت معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بڑوں کی جہالت کو تسلیم کرنا ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ جہاں کسی بڑے کی غلط بات پر سوال اٹھانا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی غلطی کو نسل در نسل آگے پہنچانا روایت اور تربیت کا نام بن جاتا ہے۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ بڑوں کے سامنے زیادہ نہ بولو، سوال نہ کرو، اختلاف نہ کرو، بس سر جھکا کر بات مان لو۔ احترام اپنی جگہ بہت ضروری ہے، لیکن احترام کا مطلب یہ کب سے ہو گیا کہ انسان اپنی عقل بھی دوسروں کے حوالے کر دے؟ عمر یقیناً تجربہ دیتی ہے، مگر صرف عمر کسی انسان کو ہر معاملے میں درست نہیں بنا دیتی۔ ایک شخص ساٹھ سال کا ہو سکتا ہے اور پھر بھی کسی معاملے میں غلط ہو سکتا ہے، جبکہ ایک نوجوان کم عمر ہونے کے باوجود کسی بات کو زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔ علم عمر کی جاگیر نہیں، اور جہالت عمر دیکھ کر ختم نہیں ہوتی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بڑے غلطیاں کرتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کی غلطیوں کو سوال سے بالاتر بنا دیا ہے۔ اگر کوئی بڑا غلط بات کرے تو ہم دلیل سننے کے بجائے کہتے ہیں،
ہم اس بدبخت معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بڑوں کی جہالت کو تسلیم کرنا ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ جہاں کسی بڑے کی غلط بات پر سوال اٹھانا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی غلطی کو نسل در نسل آگے پہنچانا روایت اور تربیت کا نام بن جاتا ہے۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ بڑوں کے سامنے زیادہ نہ بولو، سوال نہ کرو، اختلاف نہ کرو، بس سر جھکا کر بات مان لو۔ احترام اپنی جگہ بہت ضروری ہے، لیکن احترام کا مطلب یہ کب سے ہو گیا کہ انسان اپنی عقل بھی دوسروں کے حوالے کر دے؟ عمر یقیناً تجربہ دیتی ہے، مگر صرف عمر کسی انسان کو ہر معاملے میں درست نہیں بنا دیتی۔ ایک شخص ساٹھ سال کا ہو سکتا ہے اور پھر بھی کسی معاملے میں غلط ہو سکتا ہے، جبکہ ایک نوجوان کم عمر ہونے کے باوجود کسی بات کو زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔ علم عمر کی جاگیر نہیں، اور جہالت عمر دیکھ کر ختم نہیں ہوتی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بڑے غلطیاں کرتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کی غلطیوں کو سوال سے بالاتر بنا دیا ہے۔ اگر کوئی بڑا غلط بات کرے تو ہم دلیل سننے کے بجائے کہتے ہیں، "یہ تم سے بڑے ہیں، ادب کرو۔" اگر کوئی پرانی سوچ پر سوال کرے تو اسے نافرمان کہہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی نئی بات پیش کرے تو اسے "آج کل کے بچوں" کے طعنے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یوں ایک نسل اپنی غلطیوں کو اگلی نسل کے لیے اصول بنا دیتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ادب اور اندھی اطاعت دو الگ چیزیں ہیں۔ آپ کسی سے اختلاف کرتے ہوئے بھی باادب رہ سکتے ہیں۔ آپ کسی بڑے کی بات سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس کی بے عزتی کیے بغیر۔ آپ سوال کر سکتے ہیں، مگر بدتمیزی کیے بغیر۔ آپ کسی روایت کو غلط سمجھ سکتے ہیں، مگر اپنے بڑوں کی تضحیک کیے بغیر۔ اصل تربیت شاید یہی ہے کہ بچوں کو صرف بڑوں کا احترام کرنا نہ سکھایا جائے، بلکہ بڑوں کو بھی بچوں کے سوالات کا احترام کرنا سکھایا جائے۔ کیونکہ جو بچہ سوال نہیں کرتا، ضروری نہیں کہ وہ بہت فرمانبردار ہو؛ ممکن ہے وہ صرف ڈرتا ہو۔ اور جو نوجوان ہر پرانی بات پر سوال اٹھاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ بدتمیز ہو؛ ممکن ہے وہ اپنے زمانے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ معاشرے تب ترقی کرتے ہیں جب سوال پوچھنے والے لوگوں کو خاموش نہیں کیا جاتا۔ جب استاد سے سوال کیا جا سکتا ہے، والدین سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، روایت کو پرکھا جا سکتا ہے اور کسی بات کو صرف اس لیے درست نہیں مانا جاتا کہ "ہمارے زمانے میں بھی یہی ہوتا تھا۔" ہر پرانی چیز غلط نہیں ہوتی، مگر ہر پرانی چیز صحیح بھی نہیں ہوتی۔ کچھ روایات ہمارے لیے قیمتی ہوتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جنہیں وقت کے ساتھ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل مند معاشرہ دونوں میں فرق کرنا سیکھتا ہے۔ ہمیں اپنے بڑوں سے محبت اور احترام ضرور رکھنا چاہیے، مگر ان کی ہر بات کو قانون سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح نئی نسل کو بھی اپنی آزادی کے نام پر ہر تجربے اور ہر مشورے کو رد نہیں کرنا چاہیے۔ اصل خوبصورتی وہاں ہے جہاں تجربہ اور سوال، روایت اور عقل، احترام اور اختلاف ایک ساتھ چل سکیں۔ کاش ہمارے گھروں میں ایسا ماحول ہو جہاں ایک بچہ اپنے والد سے کہہ سکے، "ابو، میں آپ کی عزت کرتا ہوں، لیکن اس بات سے اختلاف کرتا ہوں"، اور والد اسے بدتمیز کہنے کے بجائے پوچھے، "اچھا، مجھے سمجھاؤ کہ تم ایسا کیوں سوچتے ہو؟" شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جہاں ایک بہتر معاشرہ جنم لے گا۔ بڑوں کا احترام ضرور کریں، مگر جہالت کو صرف عمر کی وجہ سے علم کا درجہ نہ دیں۔ اور اختلاف کو بدتمیزی سمجھنے کے بجائے اسے سیکھنے اور بہتر ہونے کا موقع سمجھیں۔ 🤍🥀#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone

About