@nttl866: “Nếu sống mà cứ lo lắng không biết người khác nghĩ gì về mình và suốt ngày bị điều đó chi phối thì cuộc đời mình khác gì con ốc lúc nào cũng bị thiên hạ siết chặt.” #tamtrang #cuocsong #caption

M A Y L Y N
M A Y L Y N
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 23 August 2026 15:14:48 GMT
376
3
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @nttl866, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اس دنیا کے اصول بھی کتنے عجیب اور بے حس ہیں۔ جب کوئی مکان سڑک کے کنارے بنتا ہے تو اس کی قیمت کروڑوں میں چلی جاتی ہے، لوگ اس کی بولی لگاتے ہیں۔ جب کوئی کھیت روڈ پر آتا ہے تو اس کا مول آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے، خریداروں کی لائنیں لگ جاتی ہیں۔ لیکن اسی سڑک کے کنارے، اسی روڈ کے پتھروں پر جب کوئی مجبور اور لاچار انسان آ بیٹھتا ہے، تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ لوگ اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں، جیسے وہ کوئی بے جان یا فضول شے ہو۔  اس بزرگ کی جھریوں بھری پیشانی اور اداس آنکھیں پورے سماج کی بے حسی کا ماتم کر رہی ہیں۔ اس بوڑھے باپ نے کبھی اپنے بچوں کے لیے اپنے دن رات ایک کیے ہوں گے، ان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے سخت گرمی اور سردی سہی ہوگی۔ لیکن آج وہی باپ روڈ کے کنارے دھول اور گرد میں بیٹھ کر کسی کے رحم و کرم کا منتظر ہے۔ وہ چہرہ جو کبھی کسی گھر کی رونق تھا، آج سڑک کی بے لوث پتھریلی زمین پر اپنی مظلومیت کی داستان سنا رہا ہے۔ انسان جب بے بس ہو کر سڑک پر آتا ہے تو اس کی عزت، اس کی انا اور اس کا وجود سب کچھ پامال ہو جاتا ہے۔ پتھروں کی قیمت بڑھانے والے معاشرے میں زندہ انسان کی قدر ختم ہو چکی ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی بے بس انسان کا درد محسوس کیا ہے؟
اس دنیا کے اصول بھی کتنے عجیب اور بے حس ہیں۔ جب کوئی مکان سڑک کے کنارے بنتا ہے تو اس کی قیمت کروڑوں میں چلی جاتی ہے، لوگ اس کی بولی لگاتے ہیں۔ جب کوئی کھیت روڈ پر آتا ہے تو اس کا مول آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے، خریداروں کی لائنیں لگ جاتی ہیں۔ لیکن اسی سڑک کے کنارے، اسی روڈ کے پتھروں پر جب کوئی مجبور اور لاچار انسان آ بیٹھتا ہے، تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ لوگ اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں، جیسے وہ کوئی بے جان یا فضول شے ہو۔ اس بزرگ کی جھریوں بھری پیشانی اور اداس آنکھیں پورے سماج کی بے حسی کا ماتم کر رہی ہیں۔ اس بوڑھے باپ نے کبھی اپنے بچوں کے لیے اپنے دن رات ایک کیے ہوں گے، ان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے سخت گرمی اور سردی سہی ہوگی۔ لیکن آج وہی باپ روڈ کے کنارے دھول اور گرد میں بیٹھ کر کسی کے رحم و کرم کا منتظر ہے۔ وہ چہرہ جو کبھی کسی گھر کی رونق تھا، آج سڑک کی بے لوث پتھریلی زمین پر اپنی مظلومیت کی داستان سنا رہا ہے۔ انسان جب بے بس ہو کر سڑک پر آتا ہے تو اس کی عزت، اس کی انا اور اس کا وجود سب کچھ پامال ہو جاتا ہے۔ پتھروں کی قیمت بڑھانے والے معاشرے میں زندہ انسان کی قدر ختم ہو چکی ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی بے بس انسان کا درد محسوس کیا ہے؟

About