Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@funny.cliupss585: #LIVEIncentiveProgram #LIVEFEST2026 #MakeLIVECount #PaidPartnership
Funny clips 😂 585
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 26 August 2026 14:31:38 GMT
60507
394
4
14
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.86MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.19MB
)
Watermark .mp4 (
1.01MB
)
Music .mp3
Comments
Prince Mandere :
ai
2026-08-27 09:56:36
0
MOYO DEHWA :
hy
2026-08-27 11:59:08
0
MOYO DEHWA :
2026-08-27 11:59:12
0
Abdirahman Abdirahman :
😃
2026-08-27 05:40:26
0
To see more videos from user @funny.cliupss585, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
۔ مقصد یہ تھا کہ پشتون اپنی مادری زبان اور تعلیم سے دور ہو جائیں۔ یہ پشتون دھرتی اور ثقافت کو کچلنے کا ایک منظم برطانوی منصوبہ تھا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق، 1901ء میں جب پشتونخوا الگ صوبہ بنا، تو پہلے چیف کمشنر سر ہیرالڈ ڈین نے وائسرائے کو خفیہ خط لکھا: "اگر ان افغانوں کو پشتو میں تعلیم دی گئی، تو ان کا قومی فخر کبھی ختم نہیں ہوگا اور یہ ہمارے لیے خطرہ رہیں گے۔ ان پر قابو پانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پشتو کو اسکولوں اور سرکاری دفاتر سے نکال دیا جائے۔" اس چال کے تحت پشتو کے بجائے اردو کو زبردستی اسکولوں کی زبان بنا دیا گیا، جبکہ اس وقت وہاں اردو کوئی نہیں جانتا تھا۔ انگریز نے ایک طرف عام پشتونوں کے لیے تعلیم کا راستہ روکا، اور دوسری طرف اپنے وفادار خان بہادروں کے بچوں کے لیے ایڈورڈز اور اسلامیہ کالج بنا کر انگریزی نافذ کر دی۔ یہ بالکل ویسا ہی وار تھا جیسا 1849ء میں پنجاب پر قبضے کے بعد وہاں کے مقامی تعلیمی نظام کو مٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔ جب انگریز کی اس سازش نے پشتونوں کو ان پڑھ بنانا شروع کیا، تو خان عبدالغفار خان (باچا خان) نے اس خطرے کو بھانپ لیا۔ انہوں نے 1921ء میں پورے صوبے میں "آزاد اسکول" کھولے، جہاں بچوں کو ان کی مادری زبان پشتو میں پڑھایا جانے لگا۔ بالکل اسی وقت جنوبی پشتونخوا (بلوچستان) میں خان عبدالصمد خان اچکزئی (خانِ شہید) نے بھی یہی کام شروع کیا اور پشتونوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم، املا اور بیداری سے جوڑا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جو قوم اپنی زبان بھول جائے، وہ اپنی غیرت اور تاریخ بھی کھو دیتی ہے۔ انگریز سرکار اس بیداری سے اتنی ڈر گئی کہ اسکول بند کر دیے، اساتذہ کو جیلوں میں ڈالا اور ان رہنماؤں کو سخت قید کی سزا دی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 1947ء میں انگریز کے جانے کے بعد بھی یہ پالیسی نہیں بدلی اور پنجابی مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) نے اسی طریقے کو جاری رکھا۔ "ایک زبان، ایک قوم" کے زبردستی نفاذ کے لیے پشتو، سندھی اور بلوچی کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج کا پشتون بچہ گھر میں پشتو بولتا ہے، اسکول میں اردو پڑھتا ہے اور نوکری کے لیے انگریزی کا محتاج ہے۔ اسی لسانی ظلم نے پشتونوں کو اپنی ہی دھرتی پر اجنبی اور مقتدرہ کا دستِ نگر بنا دیا ہے۔ آج اگر پشتو زبان زندہ سلامت ہم تک پہنچی ہے، تو یہ ان عظیم پشتون رہنماؤں، شاعروں اور ادیبوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے تمام خطروں، ریاستی سختیوں اور جیلوں کے باوجود اس کا وجود برقرار رکھا۔ ہم دل سے شکرگزار ہیں باچا خان، خان شہید عبدالصمد خان اور قاضی عطا اللہ کی تعلیمی محنتوں کے، حمزہ بابا کی لافانی غزلوں کے، غنی خان کے انقلابی فلسفے کے، قلندر مومند کی علمی تحقیق کے، اجمل خٹک کی لرزہ خیز نظموں کے، اور جنوبی پشتونخوا میں سائیں کمال خان شیرانی کی انتھک فکری جدوجہد کے۔ ان سب محسنوں نے انگریز اور (پنجابی) مقتدرہ کے لسانی ظلم کے خلاف اپنے قلم کو مورچہ بنائے رکھا۔ سلامِ عقیدت ان تمام اساتذہ اور ادیبوں کو جنہوں نے پشتو زبان کو مٹنے نہیں دیا۔ #foryoupage❤️❤️ #ilyaskhankp #walikhan #bachakhan #ANP @Aimal Wali Khan @Nisar Baaz 🦅
happy saturday
FAROOQ AHMAD YT RIP 🥺🫶🏻#foryoupage #pubgmobile #farooqahmadyt
work day
w cat #yuihirasawa #azusanakano #k_on #funny #keion
HLV Malaysia tuyên chiến đội tuyển Việt Nam trước thềm bán kết #Vietnam #Malaysia #Football #Viral #FYP
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy