@ti.lc.may.mn75: #cops #copsoftiktok

Lovebro
Lovebro
Open In TikTok:
Region: US
Friday 28 August 2026 16:50:07 GMT
8644
67
8
2

Music

Download

Comments

babs4926
Babs :
What was the reason for the stop?
2026-08-28 21:02:49
3
lloydlc
LloydLC :
The Man had 4 root canals. Im sure he got pain meds for it
2026-08-28 21:57:08
5
nancypowell1965
Nancy Johnson Powell :
dang why bother him some cops are assholes
2026-08-29 12:46:14
5
tonimontanax3
Toni Marie :
He literally had a dang root canal cut him some slack
2026-08-31 19:33:16
3
meat207
meat7024 :
Someone called to have him checked on, medically - they proceed to try to & find a reason to arrest him & put him in jail. We are so free. 😅
2026-08-30 22:43:34
3
donniegreen29
Donnie Green :
😂😂😂
2026-08-30 17:45:14
0
To see more videos from user @ti.lc.may.mn75, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

​کچھ دن کی بات ہے پھر شاید ہم کبھی اس بھیڑ میں ایک دوسرے کو اجنبیوں کی طرح ملیں گے یا شاید کبھی نہیں... وقت اور فاصلے اتنے سنگین ہو چکے ہیں کہ اب امید کا وہ چھوٹا سا دیا بھی بجھنے لگا ہے جو کبھی کچی سڑکوں پر ہمارے ملنے کا راستہ دکھاتا تھا۔ ​بات تو صرف اتنی سی ہے کہ جب اپنے راستے بدلنے ہوں، تو پرانے رشتوں کی گہرائی اور پرانی قسموں کا بھرم بھی ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے۔ کل تک جو سانسوں کی طرح لازم اور اس دنیا میں سب سے بڑھ کر تھے، آج ان کے پاس نظریں چرانے کے لیے ہزار بہانے اور نئے چہروں کی چمک ہے۔ ​اب سمجھ آیا ہے کہ اس دنیا میں چاہنے والوں کی کمی نہیں ہوتی، انسان کی ضرورت بدلتی ہے تو لوگ بھی بدل جاتے ہیں۔ کاش کوئی انہیں سمجھا سکے کہ جب اس دنیا میں کوئی ہاتھ تھامنے والا نہیں تھا، تب ہم ہی وہ واحد سایہ تھے جس پر انہوں نے اپنا سب کچھ وار دیا تھا۔ مگر خیر... وقت کے ساتھ سب بدل گئے، اور اب ہم بھی چپ چاپ اس بھیڑ سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جانے کا ارادہ کر چکے ہیں، تاکہ کسی کو ہماری موجودگی کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے
​کچھ دن کی بات ہے پھر شاید ہم کبھی اس بھیڑ میں ایک دوسرے کو اجنبیوں کی طرح ملیں گے یا شاید کبھی نہیں... وقت اور فاصلے اتنے سنگین ہو چکے ہیں کہ اب امید کا وہ چھوٹا سا دیا بھی بجھنے لگا ہے جو کبھی کچی سڑکوں پر ہمارے ملنے کا راستہ دکھاتا تھا۔ ​بات تو صرف اتنی سی ہے کہ جب اپنے راستے بدلنے ہوں، تو پرانے رشتوں کی گہرائی اور پرانی قسموں کا بھرم بھی ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے۔ کل تک جو سانسوں کی طرح لازم اور اس دنیا میں سب سے بڑھ کر تھے، آج ان کے پاس نظریں چرانے کے لیے ہزار بہانے اور نئے چہروں کی چمک ہے۔ ​اب سمجھ آیا ہے کہ اس دنیا میں چاہنے والوں کی کمی نہیں ہوتی، انسان کی ضرورت بدلتی ہے تو لوگ بھی بدل جاتے ہیں۔ کاش کوئی انہیں سمجھا سکے کہ جب اس دنیا میں کوئی ہاتھ تھامنے والا نہیں تھا، تب ہم ہی وہ واحد سایہ تھے جس پر انہوں نے اپنا سب کچھ وار دیا تھا۔ مگر خیر... وقت کے ساتھ سب بدل گئے، اور اب ہم بھی چپ چاپ اس بھیڑ سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جانے کا ارادہ کر چکے ہیں، تاکہ کسی کو ہماری موجودگی کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے

About