@zawekoko9809: အချစ်မခံရဘူးဆိုတာညာတာပါ #foryou #feelings #fouryourpage #viwe

မောင်...( စာတို )
မောင်...( စာတို )
Open In TikTok:
Region: TH
Saturday 29 August 2026 00:59:45 GMT
106876
13427
66
1322

Music

Download

Comments

mg_thoon
𝓜𝓰 𝓣𝓱𝓸𝓸𝓷 :
မပျော်တော့ဘူးဒါပဲတက်နေတာ
2026-08-29 09:08:58
1
2954k3
🍋🎀.Nan Lay.🎀🍋 :
အမှန်တွေပဲ အနာမှာချစ်ပေးမဲ့တဲ့သူရိုတယ် ဒါမဲ့သူကိုမချစ်ဖူး ကိုယ်ချစ်တဲ့သူကိုပဲချစ်ချင်တာ😌😌😌
2026-08-29 06:40:07
2
khinmyatnoeoo230
Khïñ ᥫ᭡(မိုးညိုသူ) :
မင်းကလဲ ကိုယ့်ဆို ခါးခါးသီးသီး💔
2026-08-29 12:43:10
2
cherry35113
🍒💕Cherry💕🍒 :
ဖျော်စရာရှိတာဖျော်လို့ပါးစပ်လေးပိတ်ပီးအေးဆေးနေပေးလို့မရဘူးလား🥺🥺
2026-08-29 03:55:15
2
user7542815182558
heinhtet :
များနေပီးဗျာအကိုတင်တာနင့်ကျနော်ဖစ်နေတာကတူနေတာ😌😌😌😌😌
2026-08-29 11:22:00
1
ye.ye3013
N.Y :
😂😂😂
2026-08-29 09:28:05
1
thaw_taroo
🎈 :
ဖောက်ပြန်ခံရတဲ့လူတွက်လုပ်ပေးပါ
2026-08-29 10:02:44
1
user587916170617
KYAW HTET1422000 :
☺️☺️☺️
2026-08-29 10:08:16
1
zue.zue2159
Sein Moh Moh :
🥰🥰🥰
2026-08-29 10:30:16
1
zin.min00359
𝖟𝖎𝖓𝖒𝖎𝖓 :
2026-08-29 10:52:20
0
nyo14nov92
NYO🇸🇬🇲🇲 :
မပြုံးပဲပြောပါ့လား
2026-08-29 11:02:02
1
chin.kaung.lay20
Chin Kaung Lay :
😥😥😥
2026-08-29 11:21:50
1
user1690713739
ဒဿ🤫💔💔💔💔🤫🌚🌞 :
🥰
2026-08-29 01:40:57
1
phyo76293
phyo :
ဆိုင်မာထိုင်ပီငိုချင်လို့ဆိုင်ဘယ်မာလဲဟင်🥹
2026-08-29 12:02:36
1
2002wuttyi
Wutt Yi🌷 :
😁😁😁
2026-08-29 13:05:03
1
maythanmyint771
May lay :
ထိရှပါတယ်
2026-08-29 13:15:10
1
num73204
Noon Noon💰I am sorry💵 :
အမှန်ပေါ့🥰
2026-08-29 13:27:54
1
tint.lwin166
Tint Lwin :
ကျန်နော်တို့ကချစ်ပေးနေရသူတေပါ🥺
2026-08-29 14:32:54
1
lulay9486
🙈ငလူ`🙉 :
@❣❣𝓚𝔂𝓾 𝓚𝔂𝓾❣❣ 🥺
2026-08-29 15:06:02
0
ngamoe645
ngamoe :
🥰🥰🥰😁
2026-08-29 01:09:04
1
eiphyu91335
Lily (လီလီ)🌸🌸🌸 official acc :
ဟုညာခဲ့တာ💔
2026-08-29 03:13:03
1
To see more videos from user @zawekoko9809, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کئی ہفتے وینٹیلیٹر پر رکھنے کے بعد گزشتہ رات  ڈاکٹرز نے فخر عباس کی طبعی موت کا اعلان کر دیا  اور وہ اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر ابدی منزل کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ آئیے دعا کریں  کہ اللہ پاک انہیں محبوب بندوں کی صف میں جگہ عنایت فرمائے۔ امین یہ  احباب اور لواحقین کے لئے کڑا وقت یے ۔  انا للہ و انا الیہ راجعون   فخر عباس کی نماز جنازہ آج ہی ،   بروز ہفتہ 29 اگست ڈیرہ معمورہ،  خانقاہ ڈوگراں ( پنجاب ، پاکستان) میں  دن گیارہ بجے ادا کر دی جائے گی۔   فخر عباس چلے گئے لیکن ان کا تذکرہ یہاں شاید ہمیشہ رہے۔  ایک تو لاہور کے حوالے سے  ان کا ایک شعر ضرب المثل بن چکا ہے  ان کی شخصیت کا دوسرا  ناقابل فراموش پہلو ان کا محبت آمیز طرز حیات تھا۔ ڈاکٹر تھے اور علامہ اقبال میڈیکل کالج سے وابستہ تھے۔ اس حیثیت میں سیکروں شعرا و ادبا اور مستحقین کی بے پناہ مدد کیا کرتے تھے لیکن اپنی جان لیوا بیماری سے دنیا  کو بے خبر  رکھا ہوا تھا۔24 جولائی 2026 کوانہوں نے پہلی بار  اپنی ٹائم لائن پر یہ  اشارہ دیا ہے پل بھر میں دنیا بھی اندھیر لگتی کہ بیمار پڑتے نہیں دیر لگتی   اس کے بعد وہ صرف چار ہفتے زندہ رہ پائے اور اس میں بھی بیشتر  وقت مصنوعی طبی آلات کے رہین منت ریے۔  فخر عباس کے  بارے میں مزید بتانے سے پہلے آپ کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ان کے بچے ابھی تک درمیانے درجے کے تعلیمی مراحل میں  ہیں۔ انہیں ہم سب کی  دعاؤں اور عملی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ فخر عباس 27  جنوری 1978 سرگودھا ( پاکستان  )  میں  پیدا ہوئے اور اٹھائیس اگست 2026 کو لاہور میں  وفات پائی ہائی۔   سنہ 2000 کے  بعد منظر پر  آنے والے شعرا میں ہلکی پھلکی رومانی  اور ظریفانہ شاعری کے امتزاج سے نمایاں ہو یے ۔ زیادہ تر غزل۔اور قطعہ کہتے تھے تاہم ان کے اشعار مقبول عام تھے۔   ان کے صرف دو شعری مجموعے چھپے اور وہ بھی بہت مقبول ہوئیں۔  لاہور کے حوالے سے کہا گیا  ان کا یہ شعر ان کی شناخت بنا یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے ان کے کچھ اور  عمدہ  اشعار  درج ذیل ہیں   دیکھا بس اک دفعہ اسے میں نے قریب سے  پھر اہل شہر نے مری آنکھیں نکال دیں  کچھ وہ بھی سمجھنے کا تکلف نہیں کرتے کچھ ہم نے زباں سے کبھی کہہ کر نہیں دیکھا جب سے اس کی آنکھ میں آنسو دیکھے ہیں تب سے مجھ کو پانی سے ڈر لگتا ہے میرا شعر چرا کر تم نے شعر کہا رشتے میں اب باپ تمہارا لگتا ہوں سر پر یہ جو چھت کا سایہ ہوتا ہے دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے شاید میری جیت اسی میں ہوتی ہے اس کے آگے ہارا ہارا لگتا ہوں نظم (یاد ) آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوں آج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہے آج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہے آج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہے یاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے امید قوی ہے کہ فخر اپنے کام کے باعث یاد د رکھے جائیں گے اگرچہ ان کا انکسار ،کشادہ دلی اور خدمت خلق بھی ناقابل فراموش ہیں۔ رحمان حفیظ . . . . . . . . #drfakharabbaspoetry #yejolahoresemohabbathai #ڈاکٹرفخرعباس💔 #todaytrendingpoetry #drfakharabbasdeath💔 . . . . . . 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔
کئی ہفتے وینٹیلیٹر پر رکھنے کے بعد گزشتہ رات ڈاکٹرز نے فخر عباس کی طبعی موت کا اعلان کر دیا اور وہ اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر ابدی منزل کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ آئیے دعا کریں کہ اللہ پاک انہیں محبوب بندوں کی صف میں جگہ عنایت فرمائے۔ امین یہ احباب اور لواحقین کے لئے کڑا وقت یے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون فخر عباس کی نماز جنازہ آج ہی ، بروز ہفتہ 29 اگست ڈیرہ معمورہ، خانقاہ ڈوگراں ( پنجاب ، پاکستان) میں دن گیارہ بجے ادا کر دی جائے گی۔ فخر عباس چلے گئے لیکن ان کا تذکرہ یہاں شاید ہمیشہ رہے۔ ایک تو لاہور کے حوالے سے ان کا ایک شعر ضرب المثل بن چکا ہے ان کی شخصیت کا دوسرا ناقابل فراموش پہلو ان کا محبت آمیز طرز حیات تھا۔ ڈاکٹر تھے اور علامہ اقبال میڈیکل کالج سے وابستہ تھے۔ اس حیثیت میں سیکروں شعرا و ادبا اور مستحقین کی بے پناہ مدد کیا کرتے تھے لیکن اپنی جان لیوا بیماری سے دنیا کو بے خبر رکھا ہوا تھا۔24 جولائی 2026 کوانہوں نے پہلی بار اپنی ٹائم لائن پر یہ اشارہ دیا ہے پل بھر میں دنیا بھی اندھیر لگتی کہ بیمار پڑتے نہیں دیر لگتی اس کے بعد وہ صرف چار ہفتے زندہ رہ پائے اور اس میں بھی بیشتر وقت مصنوعی طبی آلات کے رہین منت ریے۔ فخر عباس کے بارے میں مزید بتانے سے پہلے آپ کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ان کے بچے ابھی تک درمیانے درجے کے تعلیمی مراحل میں ہیں۔ انہیں ہم سب کی دعاؤں اور عملی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ فخر عباس 27 جنوری 1978 سرگودھا ( پاکستان ) میں پیدا ہوئے اور اٹھائیس اگست 2026 کو لاہور میں وفات پائی ہائی۔ سنہ 2000 کے بعد منظر پر آنے والے شعرا میں ہلکی پھلکی رومانی اور ظریفانہ شاعری کے امتزاج سے نمایاں ہو یے ۔ زیادہ تر غزل۔اور قطعہ کہتے تھے تاہم ان کے اشعار مقبول عام تھے۔ ان کے صرف دو شعری مجموعے چھپے اور وہ بھی بہت مقبول ہوئیں۔ لاہور کے حوالے سے کہا گیا ان کا یہ شعر ان کی شناخت بنا یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے ان کے کچھ اور عمدہ اشعار درج ذیل ہیں دیکھا بس اک دفعہ اسے میں نے قریب سے پھر اہل شہر نے مری آنکھیں نکال دیں کچھ وہ بھی سمجھنے کا تکلف نہیں کرتے کچھ ہم نے زباں سے کبھی کہہ کر نہیں دیکھا جب سے اس کی آنکھ میں آنسو دیکھے ہیں تب سے مجھ کو پانی سے ڈر لگتا ہے میرا شعر چرا کر تم نے شعر کہا رشتے میں اب باپ تمہارا لگتا ہوں سر پر یہ جو چھت کا سایہ ہوتا ہے دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے شاید میری جیت اسی میں ہوتی ہے اس کے آگے ہارا ہارا لگتا ہوں نظم (یاد ) آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوں آج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہے آج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہے آج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہے یاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے امید قوی ہے کہ فخر اپنے کام کے باعث یاد د رکھے جائیں گے اگرچہ ان کا انکسار ،کشادہ دلی اور خدمت خلق بھی ناقابل فراموش ہیں۔ رحمان حفیظ . . . . . . . . #drfakharabbaspoetry #yejolahoresemohabbathai #ڈاکٹرفخرعباس💔 #todaytrendingpoetry #drfakharabbasdeath💔 . . . . . . 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔

About