@itsjoshuabaraka: Gulu are you ready? B’rakaland pop up shows.🇺🇬💪🏾🔥

Joshua Baraka
Joshua Baraka
Open In TikTok:
Region: UG
Saturday 29 August 2026 08:33:41 GMT
38961
7526
102
24

Music

Download

Comments

winsletmutesa
WINSLET :
Uganda is gonna be on fire💯🥰❤️
2026-08-29 10:54:30
0
madimad408
Alawi Star boy :
baraka i want to thank u for ur good heart 😂😂😂 bro
2026-08-29 09:07:57
12
fatymzug1
Fa Tymz :
This is so genius 👏
2026-08-29 08:58:05
1
ismaelswaib0
Iam@isma :
can't wait to see u in Arua
2026-08-29 09:11:16
8
mickey256m
kido :
I'm first here
2026-08-29 08:36:02
1
nmn111111
huqriama🖤 :
Hu is here first😏😏😏. yoyo is my newest addiction 😁😁😁
2026-08-29 08:44:28
1
user449user44449u449
@.able. :
Yoyo bro
2026-08-29 08:37:57
3
s.y.256
Sande the great :
come we eat guys 🥰
2026-08-29 08:40:46
12
momolito.a
momolito.a :
You got a big heart God bless you 🥰
2026-08-29 08:42:11
9
zay...kal
zay...kal🧚🏻‍♀️🧚🏻‍♀️🧚🏻‍♀️ :
My king
2026-08-29 08:37:47
4
marvin.wick1
Marvin Wick :
we are awaiting... braka braka🔥🔥
2026-08-29 09:08:39
3
mbkimran0
Mbk✨ :
And Sunday 30th in Arua cityyyyyyyy🥳🥳🥳🥳🥳😅😅😅😅😅😅
2026-08-29 11:15:54
2
arsenalfootball60
Morgan mp3 :
2026-08-29 08:36:32
1
dollaz.collection
Dollaz collectionz💼 :
First here
2026-08-29 08:43:37
1
jayshaldon1
jay shaldon🪽🍒♍️ :
2026-08-29 08:40:15
0
successofficialo
SUCCESS OFFICIAL :
my one and only
2026-08-29 08:38:13
1
don.wils
Don wils :
Big up
2026-08-29 08:39:46
1
spears51461
spears 256🫶 :
very 💃🏽
2026-08-29 08:58:53
1
mayele776
pem :
Big up bro we waiting here in arua...
2026-08-29 08:48:45
1
policarpkali
Kali Policarp :
come to Lira as well
2026-08-29 08:54:28
1
ibobadboi
Ibobadboi❤️‍🩹 :
First comment
2026-08-29 08:39:54
1
brivon63
brivon⭐ :
Wajoli Gulu 🫶🏼
2026-08-29 08:42:19
1
brianpeter3
Brian 🤓 :
Badest 💫🙌
2026-08-29 08:36:07
1
To see more videos from user @itsjoshuabaraka, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

محترم غازی صلاح الدین صاحب آر پی او بہاولپور ،
 محترم عرفان علی سموں صاحب ڈی پی او رحیم یار خان
 محترم آغا انعام اللہ صاحب اے ایس پی صادق آباد -- 
 اسلام وعلیکم --- میں آپ کو صادق آباد کے ایک معمولی سے کیس کی سٹوری سُناتا ہوں اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ رحیم یارخان پولیس کے کچھ لوگ کس طرح کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں اور کس طرح اس کے متاثرین کی کہیں بھی رحیم یار خان میں شنوائی نہیں ہو رہی اور پورا سسٹم اپنے کرپٹ پولیس ملازمان کو سپورٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔
 مورخہ 17 اگست 2026 تقریبا چار بجے شام کو تھانہ منٹھار میں تعینات راشد گوندل ASI, عنصر گوندل حوالدار ایک پرائیویٹ کار پر اور ایک موٹر سائیکل پر سوار ملازمان کے ساتھ جن میں سے صرف ایک پولیس ملازم نے غلطی سے وردی پہنی ہوئی تھی کہ بقیہ سفید پارچات میں تھے۔
 چک 186 پی ( علاقہ تھانہ صدر صادق آباد) اشرف جٹ کے گھر پر ریڈ کر کے اس کے بیٹے عُمر کو گرفتار کر کے لے جانے لگتے ہیں۔ گھر کے اور ہمسایہ گان مردوں کے اور گھر کی عورتوں کے مزاحمت کرنے پر ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔
 لیکن گاوں کے لوگوں کے اکٹھا ہونے اور پوچھنے پر راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار فرماتے ہیں کہ عمر جس کو ہم نے پکڑا ہے اس کے کچے کے ڈاکووں کے ساتھ رابطے ہیں ہمارے پاس ثبوت موجود ہے۔ جب وہاں کچھ لوگ ثبوت مانگتے ہیں تو راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار فرماتے ہیں کہ عمر جٹ کے موبائل میں بھی ثبوت موجود ہیں۔ ہمیں اس کا موبائل لے جانے دیں ہم آپ کو اس کے کچے والوں سے روابط ثابت کر دیں گے۔
 لہذا عُمر جٹ کو چھوڑ کر موبائل لیکر پولیس کے جوانوں کی ٹیم روانہ ہوتی ہے۔ اور گاوں کے باہر جا کر درمیانی بندوں کو کال کرتی ہے کہ کچے والوں سے رابطے کے ثبوت تو نہیں ملے لیکن عُمر کے موبائل میں اسکی فیملی کی تصاویر ضرور مل گئیں ہیں ایک لاکھ لے دو نہیں تو ان کو کہو کہ ہم نے انکے گھر کی تصاویر وائرل کر دینی ہیں۔ معاملہ بیس ہزار میں طے ہوتا ہے۔ اور عمر جٹ کے بھنوئی عامر چیمہ جو کہ اسی گاوں کا رہائشی ہے کے ہاتھ سے بیس ہزار روپے لیکر گاوں کے باہر عنصر گوندل لو ڈیکر موبائل واپس لے آتا ہے۔
 عمر جٹ صبح اے ایس پی آفس صادق آباد اس بابت درخواست دیتا ہے تو اے ایس پی آفس میں موجود الزام علیہان کے رشتہ دار وہ درخواست غائب کر دیتے ہیں۔ اور راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار عمر جٹ اور اسکی فیملی کو خود اور لوکل چٹی دلالوں کے ذریعے اتنا براساں کرتے ہیں کہ عمر کے والد کو فالج کا اٹیک ہوتا ہے اور اسے Ryk ہسپتال علاج کے لئے داخل کروانا پڑتا ہے۔
 19 اگست 2026 کی رات عنصر گوندل حوالدار علاقے کے چٹی دلالوں کی ٹیم کے ہمراہ چک 186 الطاف باٹھ کے ڈیرے پر آتا ہے اور وہاں پر عامر چیمہ ( جو کہ عمر جٹ کا بھنوئی ہے) پر پیسے واپس لینے کے لئے زور دیتا ہے کہ تم یہ بیس ہزار واپس لے لو ہم نے تو تمہارے ہاتھ سے پیسے پکڑے تھے ہم کہیں بات ہوئی تو قسم اٹھا لیں گے لیکن عامر چیمہ کے پیسے واپس ناں لینے پر عنصر گوندل حوالدار وہ پیسے الطاف باٹھ کے ڈیرے پر پھینک جاتے ہیں جو کہ مقامی افراد اٹھا لیتے ہیں۔
 عمر جٹ اور عامر چیمہ کے پیسے مقامی لوگوں سے واپس ناں لینے کی پاداش میں صبح شام ان کو کبھی ہاف فرائی کرنے کی دھمکیاں جاری ہیں اور کبھی سی ڈی کے ہاتھوں اٹھوانے کی۔
 کچھ ویڈیوز اور الطاف باٹھ کے ڈیرے پر پیسے واپس کرنے کی عنصر حوالدار کی آڈیو بطور ثبوت لگا رہا ہوں۔ سُن کر فیصلہ کر لیں کہ وہ ملازم جنہوں نے بغیر کسی جواز کے کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ایک شریف شہری کے گھر ریڈکیا ، گاوں والوں کی اور ان کی عورتوں کی تضلیل کی موبائل واپس کرنے کے لئے رشوت لی ، متاثرہ شخص کی درخواست Asp آفس میں غائب کر دی گئی۔ متاثرہ فیملی کا سربراہ اس فرمائشی ریڈ کے صدمے کی وجہ دے ہسپتال داخل ہے۔ پیسے لینے اور واپس کرنے کی آڈیو تک موجود ہے
 وہ پولیس ملازمان کلوز ٹو لائن ہونے والے 21 پولیس ملازمان میں شامل نہیں ہیں۔
 میری آر پی او بہاولپور، ڈی پی او صاحب اور اے ایس پی صاحب سے گزارش ہےکہ وزیر اعلی پنجاب کے وژن کے مطابق محکمہ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کا احتساب کیا جائے۔
 
 ---
محترم غازی صلاح الدین صاحب آر پی او بہاولپور ، محترم عرفان علی سموں صاحب ڈی پی او رحیم یار خان محترم آغا انعام اللہ صاحب اے ایس پی صادق آباد -- اسلام وعلیکم --- میں آپ کو صادق آباد کے ایک معمولی سے کیس کی سٹوری سُناتا ہوں اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ رحیم یارخان پولیس کے کچھ لوگ کس طرح کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں اور کس طرح اس کے متاثرین کی کہیں بھی رحیم یار خان میں شنوائی نہیں ہو رہی اور پورا سسٹم اپنے کرپٹ پولیس ملازمان کو سپورٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ مورخہ 17 اگست 2026 تقریبا چار بجے شام کو تھانہ منٹھار میں تعینات راشد گوندل ASI, عنصر گوندل حوالدار ایک پرائیویٹ کار پر اور ایک موٹر سائیکل پر سوار ملازمان کے ساتھ جن میں سے صرف ایک پولیس ملازم نے غلطی سے وردی پہنی ہوئی تھی کہ بقیہ سفید پارچات میں تھے۔ چک 186 پی ( علاقہ تھانہ صدر صادق آباد) اشرف جٹ کے گھر پر ریڈ کر کے اس کے بیٹے عُمر کو گرفتار کر کے لے جانے لگتے ہیں۔ گھر کے اور ہمسایہ گان مردوں کے اور گھر کی عورتوں کے مزاحمت کرنے پر ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔ لیکن گاوں کے لوگوں کے اکٹھا ہونے اور پوچھنے پر راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار فرماتے ہیں کہ عمر جس کو ہم نے پکڑا ہے اس کے کچے کے ڈاکووں کے ساتھ رابطے ہیں ہمارے پاس ثبوت موجود ہے۔ جب وہاں کچھ لوگ ثبوت مانگتے ہیں تو راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار فرماتے ہیں کہ عمر جٹ کے موبائل میں بھی ثبوت موجود ہیں۔ ہمیں اس کا موبائل لے جانے دیں ہم آپ کو اس کے کچے والوں سے روابط ثابت کر دیں گے۔ لہذا عُمر جٹ کو چھوڑ کر موبائل لیکر پولیس کے جوانوں کی ٹیم روانہ ہوتی ہے۔ اور گاوں کے باہر جا کر درمیانی بندوں کو کال کرتی ہے کہ کچے والوں سے رابطے کے ثبوت تو نہیں ملے لیکن عُمر کے موبائل میں اسکی فیملی کی تصاویر ضرور مل گئیں ہیں ایک لاکھ لے دو نہیں تو ان کو کہو کہ ہم نے انکے گھر کی تصاویر وائرل کر دینی ہیں۔ معاملہ بیس ہزار میں طے ہوتا ہے۔ اور عمر جٹ کے بھنوئی عامر چیمہ جو کہ اسی گاوں کا رہائشی ہے کے ہاتھ سے بیس ہزار روپے لیکر گاوں کے باہر عنصر گوندل لو ڈیکر موبائل واپس لے آتا ہے۔ عمر جٹ صبح اے ایس پی آفس صادق آباد اس بابت درخواست دیتا ہے تو اے ایس پی آفس میں موجود الزام علیہان کے رشتہ دار وہ درخواست غائب کر دیتے ہیں۔ اور راشد گوندل ASI اور عنصر گوندل حوالدار عمر جٹ اور اسکی فیملی کو خود اور لوکل چٹی دلالوں کے ذریعے اتنا براساں کرتے ہیں کہ عمر کے والد کو فالج کا اٹیک ہوتا ہے اور اسے Ryk ہسپتال علاج کے لئے داخل کروانا پڑتا ہے۔ 19 اگست 2026 کی رات عنصر گوندل حوالدار علاقے کے چٹی دلالوں کی ٹیم کے ہمراہ چک 186 الطاف باٹھ کے ڈیرے پر آتا ہے اور وہاں پر عامر چیمہ ( جو کہ عمر جٹ کا بھنوئی ہے) پر پیسے واپس لینے کے لئے زور دیتا ہے کہ تم یہ بیس ہزار واپس لے لو ہم نے تو تمہارے ہاتھ سے پیسے پکڑے تھے ہم کہیں بات ہوئی تو قسم اٹھا لیں گے لیکن عامر چیمہ کے پیسے واپس ناں لینے پر عنصر گوندل حوالدار وہ پیسے الطاف باٹھ کے ڈیرے پر پھینک جاتے ہیں جو کہ مقامی افراد اٹھا لیتے ہیں۔ عمر جٹ اور عامر چیمہ کے پیسے مقامی لوگوں سے واپس ناں لینے کی پاداش میں صبح شام ان کو کبھی ہاف فرائی کرنے کی دھمکیاں جاری ہیں اور کبھی سی ڈی کے ہاتھوں اٹھوانے کی۔ کچھ ویڈیوز اور الطاف باٹھ کے ڈیرے پر پیسے واپس کرنے کی عنصر حوالدار کی آڈیو بطور ثبوت لگا رہا ہوں۔ سُن کر فیصلہ کر لیں کہ وہ ملازم جنہوں نے بغیر کسی جواز کے کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ایک شریف شہری کے گھر ریڈکیا ، گاوں والوں کی اور ان کی عورتوں کی تضلیل کی موبائل واپس کرنے کے لئے رشوت لی ، متاثرہ شخص کی درخواست Asp آفس میں غائب کر دی گئی۔ متاثرہ فیملی کا سربراہ اس فرمائشی ریڈ کے صدمے کی وجہ دے ہسپتال داخل ہے۔ پیسے لینے اور واپس کرنے کی آڈیو تک موجود ہے وہ پولیس ملازمان کلوز ٹو لائن ہونے والے 21 پولیس ملازمان میں شامل نہیں ہیں۔ میری آر پی او بہاولپور، ڈی پی او صاحب اور اے ایس پی صاحب سے گزارش ہےکہ وزیر اعلی پنجاب کے وژن کے مطابق محکمہ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کا احتساب کیا جائے۔ ---

About