Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@nada_clay: للطلب الرقم والمتجر بلبايو #اكواب_ندى #اكواب_خزفيه #خزفيات_ندى #قهوة_ندى #اكسلبور
nada_clay
Open In TikTok:
Region: SA
Wednesday 02 September 2026 19:45:08 GMT
30623
407
11
54
Music
Download
No Watermark .mp4 (
2.26MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
2.21MB
)
Watermark .mp4 (
3.88MB
)
Music .mp3
Comments
سعد | Saad :
ليه السعر كذا 👀
2026-09-14 00:52:01
0
Fatimah :
هل يمدي تسوين مق من الفخار بتصميم رياضي
2026-09-02 23:16:07
5
Maybe M 🇰🇼 :
في توصيل الكوويت
2026-09-11 08:06:22
0
M🌸 :
كم يوم الطلب؟
2026-09-18 21:59:57
0
A|💙 :
الرابط مايفتح
2026-09-03 04:29:06
0
Kh🇶🇦 :
وين مكان بحصل في الاحساء ؟
2026-09-14 01:24:34
0
سّـآرا💎. :
في توصيل البحرين؟
2026-09-07 15:48:38
0
نُــون✿ :
احلى وحده تنطق اسمي .. بجي احلى ايسبريسو فيه
2026-09-02 23:07:33
0
exr,x :
بالتوفيق
2026-09-02 20:02:37
1
سُميه |مرخصة إعلامياًTaif📸🎨 :
كفوو
2026-09-02 20:10:47
1
To see more videos from user @nada_clay, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
kangen sd
The GOAT Spider Man - Song: SENTADA FUNK #spiderman #peterparker #hq #edit #animation
چکوال کے گاؤں خیر پور کے 23 سالہ ملک حبیب کو تنہائی کا عفریت لاحق تھا۔ والدین کے درمیان علیحدگی بچوں کی زندگیاں برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ والدین کے درمیان علیحدگی ہوئی تو ملک حبیب بھی اپنی والدہ کے ساتھ اپنے ننھیال رہنے لگ پڑا۔ کچھ عرصہ بعد والدہ اس دنیا میں نہ رہیں۔ حبیب کا سہارا اس کی نانی اماں تھیں اور ہھر نانکا گھر تو نانی نانا کے دم سے ہی آباد ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل حبیب کی نانی اماں کا بھی انتقال ہو گیا۔ فیس بک پر اس نے لکھا ہوا ہے کہ "جو گزر گیا نانی کے ساتھ وہ وقت کمال تھا"۔ اٹھتی جوانی ہو، گھر ویران ہو، بے روزگاری ہو اور پھر انسان تنہائی کے عذاب کا شکار ہو، تو ایسے میں کوئی سوختہ دل دن رات کا کتنا بوجھ سہار سکتا ہے۔ ملک حبیب والی بال کھیلتا تھا، اپنے نام کے ساتھ سموٹ لکھتا تھا کہ تحصیل کلر سیداں کے گاؤں سموٹ کے مشہور کھلاڑی مرحوم چوہدری محسن فاروق سموٹ نے پوٹھوہار کے کئی نوجوانوں کو اپنے کھیل کی وجہ سے اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا۔ کچھ عرصہ قبل ملک حبیب نے ایک کنویں میں چھلانگ ماری لیکن پاس مویشی چراتے کسی شخص نے دیکھ لیا اور یوں اسے کنویں سے زندہ نکال لیا گیا۔ لیکن آج۔۔۔۔ آج ملک حبیب نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو لگائی۔ تین منٹ اور سینتیس سیکنڈ کی اس ویڈیو میں حبیب کہتا ہے کہ آج وہ زہر کھانے لگا ہے۔ اس کی وجہ تنہائی ہے۔ آٹھ دس ماہ سے دن رات اکیلا ہوں۔ اگر میرا کوئی بڑا بھائی ہوتا جس کے ساتھ میں دل کی بات کر لیتا تو شاید میں یہ قدم نہ اٹھاتا۔ رات کو گھر آ کر جب خود بلب جلاتا ہوں تو گھر میں اندھیرا نظر آتا ہے۔ دن کو گھر آؤں تب بھی گھر ویران ملتا ہے۔ سب کے پاس فیملی ہے، میرا کوئی نہیں۔ والد کو مخاطب کرتے ہوئے حبیب کہتا ہے کہ میری اپنے والد کے ساتھ کوئی سلام دعا نہیں ہے۔ میرے والد کو میری طرف آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے اپنی نانی سے بڑھ کر کوئی نہیں تھا لیکن میرے والد نے میری نانی کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔ وہ کہتا ہے کہ اس کے تین دوستوں نے ہر مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا ہے اور وہ مرتضیٰ، کاکا اور زین ہیں۔ باقی کسی رشتہ دار کو اس کی طرف آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی دوکاندار کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے کیونکہ میں نے گولیاں گاؤں سے نہیں لیں۔ ملک حبیب کو تشویش ناک حالت میں کلرکہار کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے اسے فوراً راولپنڈی ریفر کیا گیا۔ لیکن پنڈی پہنچنے سے پہلے ہی ملک حبیب کی سانس کی ڈوری ٹوٹ گئی۔ ملک حبیب کی ویڈیو دیکھتے ہوئے پتہ نہیں ذہن کے کس کونے سے مہدی حسن کی آواز گونج اٹھی، بھرے جہاں میں کوئی میرا یار تھا ہی نہیں کسی نظر کو میرا انتظار تھا ہی نہیں نبیل انور ڈھکو #چکوال #Chakwal #سنگت_ویڈیو_وائرل_کریسو_آپ_ہیں🥀🌼🙈✨🎇 #punjab #chakwalpunjab
Per approfondire: 📚 Diogene Laerzio, “Vite e dottrine dei più celebri filosofi”, VIII.34: «Aristotele nel suo trattato Sui Pitagorici dice che Pitagora consigliava di astenersi dalle fave perché sono simili sia ai genitali sia alle porte dell’Ade, in quanto solo la fava è una pianta senza nodi; sia perché consuma il fisico, sia perché è simile alla natura dell’universo, sia, ancora, perché non è conforme all’oligarchia, in quanto si vota per mezzo delle fave». 📚 Diogene Laerzio, “Vite e dottrine dei più celebri filosofi”, VIII.39: «Pitagora m0rì nel modo seguente. Mentre era seduto insieme con i suoi amici in casa dell’atleta Milone, accadde che la casa venisse incendiata, per invidia, da uno di quelli che non erano stati ritenuti degni di essere accolti alla sua presenza (altri, invece, sostengono che siano stati gli abitanti stessi di Crotone a fare questo, nel timore dell’instaurazione di una tirannide). Pitagora, allora, fu catturato mentre cercava di allontanarsi; giunto nei pressi di un campo pieno di fave, per non attraversarlo si fermò lì, dicendo che si sarebbe fatto catturare, piuttosto che camminarci dentro, e che si sarebbe lasciato ucc1dere, piuttosto che parlare; e perciò fu sg0zzat0 dagli inseguitori. E così furono eliminati anche la maggior parte dei suoi amici, che erano circa quaranta».
👶🏻🐶 @Puyy_faii
#moldova🇲🇩 #foryou #romania #citate #Badea_Vadim
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy