@user3d402xulfe:

ابن اليمن
ابن اليمن
Open In TikTok:
Region: SA
Tuesday 08 September 2026 18:47:33 GMT
8366
231
12
185

Music

Download

Comments

nabil.alghity
nabil alghity :
ياذوقك ياقلبي
2026-09-12 06:43:00
1
user4552277628360
user4552277628360 :
عسل
2026-09-10 20:16:15
1
user2042838722730
سراج ساري :
ياجماعه فن راقي
2026-09-18 05:40:32
1
user4410491920218
user4410491920218 :
الله يرحمه
2026-09-09 02:19:19
0
user8268827577338
حافظ على الصايدي :
قوه يا غالي
2026-09-12 04:56:03
0
muhammadalahmad632
محمد احمد ابوصقر :
فك التنزيل
2026-09-08 19:36:56
1
nabil.alghity
nabil alghity :
ياسلام سلم
2026-09-12 06:42:30
1
user4552277628360
user4552277628360 :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-09-10 20:26:21
0
fweo2
⚔️👑رؤؤؤح 👑❤️👑الحياااة👑⚔️ :
🌹🌹🌹🌹
2026-09-08 21:28:01
0
user3d402xulfe
ابن اليمن :
💙💙💙💙💙
2026-09-08 20:37:36
0
dy8clpse6k53
ابن اليمن 3 :
❤️❤️❤️
2026-09-08 20:13:04
0
user14671080344814
احمد سليماني :
🥰🥰
2026-09-11 12:00:45
0
To see more videos from user @user3d402xulfe, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے وہ ادب کی کتاب جیسا تھا جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا دل کے خیمے میں رات کرتا تھا رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے بولتا تھا زبان خوشبو کی لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے ساری آنکھیں تھیں آئنیے اُس کے سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا ایک دریا نما سراب تھا وہ خواب یہ ہے کہ وہ حقیقت تھا یہ حقیقت ہے کوئی خواب تھا وہ دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہوئیں میں نے پایا تھا رت جگوں میں اُُسے یہ مگر دیر کی کہانی ہے یہ مگر دور کا فسانہ ہے اُس کے میرے ملاپ میں حائل اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟ میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا محسن نقوی #sufi #sahibzadaasimmaharvi #Dervaish #travelling #poetry
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے وہ ادب کی کتاب جیسا تھا جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا دل کے خیمے میں رات کرتا تھا رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے بولتا تھا زبان خوشبو کی لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے ساری آنکھیں تھیں آئنیے اُس کے سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا ایک دریا نما سراب تھا وہ خواب یہ ہے کہ وہ حقیقت تھا یہ حقیقت ہے کوئی خواب تھا وہ دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہوئیں میں نے پایا تھا رت جگوں میں اُُسے یہ مگر دیر کی کہانی ہے یہ مگر دور کا فسانہ ہے اُس کے میرے ملاپ میں حائل اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟ میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا محسن نقوی #sufi #sahibzadaasimmaharvi #Dervaish #travelling #poetry

About