@nghe_art_bridal_shoes: Mong manh như giọt sương và đảm bảo lúc nào cũng thoáng chân, không lo hầm bí! #NgheArt #weddingshoes #giaycuoi #ngheartbridalshoes #wedding

Giày Cưới Nghé Art
Giày Cưới Nghé Art
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 09 September 2026 11:19:00 GMT
8068
100
9
46

Music

Download

Comments

hh.trangne
𝕽𝖔𝖘𝖊_𝕿𝖗𝖆𝖓𝖌 ꫂ ၴႅၴ :
Xin giá mẫu này ạ
2026-09-17 12:15:15
1
miin_0299
Miin 🌻 :
em xin shippe của shop ạ
2026-09-12 11:41:29
1
chipoanh2
sunshine :
Xin giá đôi đánh dấu ạ có 9cm k ạ
2026-09-15 18:46:55
1
To see more videos from user @nghe_art_bridal_shoes, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور بی ار ٹی کی نئی ہائبرڈ بسوں، پنک بس سروس، چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن اور مال آف حیات آباد ڈپو کا افتتاح کر دیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے  افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے عوام کے ساتھ بی آر ٹی بس میں سفر کیا۔ وزیراعلیٰ نے بی آر ٹی اسٹیشن پر عام مسافروں کی طرح بس کا انتظار کیا اور اپنا ٹکٹ خود خریدا۔ بی آر ٹی روزانہ 2.5 لاکھ مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کر رہی ہے، جن میں 30 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ سالانہ 30 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی ہو رہی ہے۔ بی آر ٹی میں مزید 52 نئی بسیں شامل کی جا رہی ہیں، جس سے مجموعی تعداد 296 ہو جائے گی۔ نئی بسوں سے مزید روٹس کھولنے اور موجودہ روٹس پر مسافروں کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ خواتین کی خصوصی ضروریات کے پیش نظر پنک بس سروس بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ چمکنی ڈپو میں 1 میگاواٹ کا سولر سسٹم مکمل کر لیا گیا ہے، جو سالانہ 14 لاکھ 40 ہزار یونٹس بجلی پیدا کرے گا اور 7 کروڑ 60 لاکھ روپے سالانہ بچت ہوگی۔ بی آر ٹی کی مکمل سولرائزیشن کے لیے 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے بجلی کے اخراجات مزید کم ہوں گے۔ مزید 50 بسوں اور 6.2 ارب روپے کی لاگت سے نئے ڈپو کی خریداری و تعمیر کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید 50 بسیں موجودہ اے ڈی پی میں شامل کی گئی ہیں، جن پر 5 ارب روپے لاگت آئے گی۔ پاکستان میں اس وقت مکمل طور پر الیکٹرک بس سروس موجود نہیں، جبکہ بی آر ٹی نے یہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ #CMKPK #Sohail_Afridi #imrankhan #pti #peshawar
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور بی ار ٹی کی نئی ہائبرڈ بسوں، پنک بس سروس، چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن اور مال آف حیات آباد ڈپو کا افتتاح کر دیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے عوام کے ساتھ بی آر ٹی بس میں سفر کیا۔ وزیراعلیٰ نے بی آر ٹی اسٹیشن پر عام مسافروں کی طرح بس کا انتظار کیا اور اپنا ٹکٹ خود خریدا۔ بی آر ٹی روزانہ 2.5 لاکھ مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کر رہی ہے، جن میں 30 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ سالانہ 30 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی ہو رہی ہے۔ بی آر ٹی میں مزید 52 نئی بسیں شامل کی جا رہی ہیں، جس سے مجموعی تعداد 296 ہو جائے گی۔ نئی بسوں سے مزید روٹس کھولنے اور موجودہ روٹس پر مسافروں کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ خواتین کی خصوصی ضروریات کے پیش نظر پنک بس سروس بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ چمکنی ڈپو میں 1 میگاواٹ کا سولر سسٹم مکمل کر لیا گیا ہے، جو سالانہ 14 لاکھ 40 ہزار یونٹس بجلی پیدا کرے گا اور 7 کروڑ 60 لاکھ روپے سالانہ بچت ہوگی۔ بی آر ٹی کی مکمل سولرائزیشن کے لیے 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے بجلی کے اخراجات مزید کم ہوں گے۔ مزید 50 بسوں اور 6.2 ارب روپے کی لاگت سے نئے ڈپو کی خریداری و تعمیر کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید 50 بسیں موجودہ اے ڈی پی میں شامل کی گئی ہیں، جن پر 5 ارب روپے لاگت آئے گی۔ پاکستان میں اس وقت مکمل طور پر الیکٹرک بس سروس موجود نہیں، جبکہ بی آر ٹی نے یہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ #CMKPK #Sohail_Afridi #imrankhan #pti #peshawar
伊勢神宮は、最初から伊勢にあったわけではありません。 皇室の祖神・天照大御神を祀り、日本でも特別な存在とされてきた伊勢神宮。 では、なぜ最高神を祀る場所として「伊勢」が選ばれたのでしょうか。 その始まりについて、『日本書紀』には興味深い記述が残されています。 もともと天照大御神は、伊勢ではなく、天皇が暮らす宮中で祀られていたとされています。 ところが崇神天皇の時代、疫病や災害が相次ぎ、国が大きく乱れました。 そこで崇神天皇は、神との関係や祀り方に何か問題があるのではないかと考えます。 最高神である天照大御神を、自分が生活する宮中で一緒に祀り続けることを畏れ多いと感じ、宮中の外へ移すことを決めたのです。 その祭祀を任されたのが、皇女の豊鍬入姫命。 天照大御神はまず、「笠縫邑」と呼ばれる場所へ移されたとされています。 この笠縫邑が正確にどこだったのかは現在も分かっていませんが、奈良県桜井市にある檜原神社周辺を候補とする説があります。 こうした、伊勢神宮に鎮座する以前に天照大御神が祀られたと伝わる場所は、現在では**「元伊勢」**と呼ばれています。 しかし、不思議なのはここからです。 わざわざ宮中から笠縫邑へ移したにもかかわらず、そこが最終的な鎮座地にはなりませんでした。 動画で紹介している伝承では、伊勢へたどり着くまでのおよそ90年間に、天照大御神を祀る場所はさらに移されていったとされています。 なぜ一つの場所に定めず、これほど長い時間をかけて「新たな場所」を探す必要があったのでしょうか。 そして、その長い旅の末に選ばれたのが、なぜ伊勢だったのか。 現在の伊勢神宮へとつながる物語は、ここから始まります。 #神社 #歴史 #伊勢神宮
伊勢神宮は、最初から伊勢にあったわけではありません。 皇室の祖神・天照大御神を祀り、日本でも特別な存在とされてきた伊勢神宮。 では、なぜ最高神を祀る場所として「伊勢」が選ばれたのでしょうか。 その始まりについて、『日本書紀』には興味深い記述が残されています。 もともと天照大御神は、伊勢ではなく、天皇が暮らす宮中で祀られていたとされています。 ところが崇神天皇の時代、疫病や災害が相次ぎ、国が大きく乱れました。 そこで崇神天皇は、神との関係や祀り方に何か問題があるのではないかと考えます。 最高神である天照大御神を、自分が生活する宮中で一緒に祀り続けることを畏れ多いと感じ、宮中の外へ移すことを決めたのです。 その祭祀を任されたのが、皇女の豊鍬入姫命。 天照大御神はまず、「笠縫邑」と呼ばれる場所へ移されたとされています。 この笠縫邑が正確にどこだったのかは現在も分かっていませんが、奈良県桜井市にある檜原神社周辺を候補とする説があります。 こうした、伊勢神宮に鎮座する以前に天照大御神が祀られたと伝わる場所は、現在では**「元伊勢」**と呼ばれています。 しかし、不思議なのはここからです。 わざわざ宮中から笠縫邑へ移したにもかかわらず、そこが最終的な鎮座地にはなりませんでした。 動画で紹介している伝承では、伊勢へたどり着くまでのおよそ90年間に、天照大御神を祀る場所はさらに移されていったとされています。 なぜ一つの場所に定めず、これほど長い時間をかけて「新たな場所」を探す必要があったのでしょうか。 そして、その長い旅の末に選ばれたのが、なぜ伊勢だったのか。 現在の伊勢神宮へとつながる物語は、ここから始まります。 #神社 #歴史 #伊勢神宮

About