@metal.muscles4: Strength That Commands Attention. 💪 👉 Follow for more strong women & fitness motivation 💪 #strongwomen #fitnessmotivation #aestheticstrength #womenwholift #biceps #muscle #power #confidence #strengthenergy #legmuscles

Metal Muscles
Metal Muscles
Open In TikTok:
Region: DE
Friday 11 September 2026 16:30:00 GMT
2026
197
8
7

Music

Download

Comments

user8451275997977
Алекс :
это ии
2026-09-11 17:55:14
1
mario25616
Mario :
❤️❤️
2026-09-25 19:34:31
1
marcmurray9412
Marc Murray9412 :
little hottie🍑❤️
2026-09-14 15:13:04
1
ramkat479
Riaan :
very sexy muscles
2026-09-15 18:37:01
1
sudegs05
andrius :
🔥💪🔥
2026-09-11 17:01:37
2
azamat.erkabayew
@з@м@т :
💪❤️
2026-09-12 08:16:21
1
xaveroberhuber
xaver oberhuber :
💪💪💪💯%
2026-09-21 00:29:21
1
user1020479154630
Katy V.🇨🇿🏳️‍🌈 :
💪💪❤️👍👍💘🫶🫶🖐
2026-10-03 07:58:44
0
To see more videos from user @metal.muscles4, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لاہور کے رضوان کے ہاں شادی کے 13 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا، جو ابھی صرف تین ماہ کا تھا۔ 18 جولائی 2024ء کی رات رضوان اپنے بھائی مبین کے ہمراہ قصور فیروز پور روڈ سے لاہور آرہے تھے کہ تھانہ مصطفیٰ آباد (للیانی) کی پولیس نے انہیں ناکے پر روکا۔ پولیس سے انکی کچھ تلخ کلامی ہوئی تو پولیس ان دونوں بھائیوں کو تھانے لے آئی۔ یہ رات دس بجے کی بات ہے۔ تھانے لا کر پولیس نے رضوان پر پہلی FIR دس بجکر تیس منٹ پر ڈکیتی کی دی۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد ایک اور FIR رضوان پر دیدی گئی۔ ٹھیک تین گھنٹے بعد پولیس نے ایک اور سائنس لڑائی۔ اپنے ایک ٹاؤٹ سے ایک فیک 15 پر کال کروائی گئی کہ اسکے ساتھ ڈکیتی ہورہی ہے۔ بعد میں FIA انکوائری میں ثابت ہوا کہ اس کالر کی لوکیشن تھانے کے آس پاس ہی پائی گئی اور یہ اپنے دوسرے نمبر سے پولیس سے مسلسل رابطے میں تھا۔ چنانچہ رات گئے ایک تیسری FIR بھی دیدی گئی۔ اس FIR کے سلسلے میں پولیس رضوان کو تھانے سے باہر لے کر گئی اور اسکی پنڈلی پر گولی ماری۔ جس کو یہ نام دیا گیا کہ رضوان ڈکیتی کررہا تھا۔ پولیس 15 کال کے ریسپانس میں وہاں پہنچی تو رضوان اپنے ایک صابر نامی ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوا پڑا تھا (حالانکہ رضوان رات دس بجے کا پولیس حراست میں تھا)۔ پولیس کئی گھنٹے زخمی رضوان کو ٹانگ سے شدید بہتے خون کے ساتھ ادھر ادھر گھماتی رہی اور بالآخر وہ انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ دونوں بھائیوں کے اہلخانہ کو ان کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ اگلے روز پولیس نے انکے ایک بھائی عرفان کو کال کی کہ آپ کے بھائی کا انکاؤنٹر ہوگیا ہے۔ دوسرا بھائی زیرِ حراست ہے، اسے تب چھوڑیں گے جب آپ لکھ کردیں کہ پولیس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔ رضوان کے بھائی عرفان نے فی الوقت لاش لینے سے انکار کردیا اور مقامی مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ اسے سیف سٹی، تھانے اور ہسپتال کے کیمروں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے، جو لے لیا گیا۔ مقتول رضوان کا بھائی عرفان قانونی کارروائی کیلئے کافی عرصہ عدالتوں اور پولیس افسران کے دفاتر میں چکر کاٹتا رہا۔ بالآخر اس  نے
لاہور کے رضوان کے ہاں شادی کے 13 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا، جو ابھی صرف تین ماہ کا تھا۔ 18 جولائی 2024ء کی رات رضوان اپنے بھائی مبین کے ہمراہ قصور فیروز پور روڈ سے لاہور آرہے تھے کہ تھانہ مصطفیٰ آباد (للیانی) کی پولیس نے انہیں ناکے پر روکا۔ پولیس سے انکی کچھ تلخ کلامی ہوئی تو پولیس ان دونوں بھائیوں کو تھانے لے آئی۔ یہ رات دس بجے کی بات ہے۔ تھانے لا کر پولیس نے رضوان پر پہلی FIR دس بجکر تیس منٹ پر ڈکیتی کی دی۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد ایک اور FIR رضوان پر دیدی گئی۔ ٹھیک تین گھنٹے بعد پولیس نے ایک اور سائنس لڑائی۔ اپنے ایک ٹاؤٹ سے ایک فیک 15 پر کال کروائی گئی کہ اسکے ساتھ ڈکیتی ہورہی ہے۔ بعد میں FIA انکوائری میں ثابت ہوا کہ اس کالر کی لوکیشن تھانے کے آس پاس ہی پائی گئی اور یہ اپنے دوسرے نمبر سے پولیس سے مسلسل رابطے میں تھا۔ چنانچہ رات گئے ایک تیسری FIR بھی دیدی گئی۔ اس FIR کے سلسلے میں پولیس رضوان کو تھانے سے باہر لے کر گئی اور اسکی پنڈلی پر گولی ماری۔ جس کو یہ نام دیا گیا کہ رضوان ڈکیتی کررہا تھا۔ پولیس 15 کال کے ریسپانس میں وہاں پہنچی تو رضوان اپنے ایک صابر نامی ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوا پڑا تھا (حالانکہ رضوان رات دس بجے کا پولیس حراست میں تھا)۔ پولیس کئی گھنٹے زخمی رضوان کو ٹانگ سے شدید بہتے خون کے ساتھ ادھر ادھر گھماتی رہی اور بالآخر وہ انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ دونوں بھائیوں کے اہلخانہ کو ان کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ اگلے روز پولیس نے انکے ایک بھائی عرفان کو کال کی کہ آپ کے بھائی کا انکاؤنٹر ہوگیا ہے۔ دوسرا بھائی زیرِ حراست ہے، اسے تب چھوڑیں گے جب آپ لکھ کردیں کہ پولیس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔ رضوان کے بھائی عرفان نے فی الوقت لاش لینے سے انکار کردیا اور مقامی مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ اسے سیف سٹی، تھانے اور ہسپتال کے کیمروں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے، جو لے لیا گیا۔ مقتول رضوان کا بھائی عرفان قانونی کارروائی کیلئے کافی عرصہ عدالتوں اور پولیس افسران کے دفاتر میں چکر کاٹتا رہا۔ بالآخر اس نے "انسدادِ ٹارچر و قتل زیرِ حراست ملزمان قانون" کے تحت FIA کو درخواست دی کہ اسکے بھائی رضوان کا پولیس نے حراست کے دوران جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا ہے، FIR درج کی جائے۔ FIA نے پھر ٹال مٹول سے کام لیا۔ جس پر معاملہ ایک بار پھر سیشن کورٹ پہنچا تو عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا کہ ایک شہری جسکا سابقہ کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے، اس پر چند گھنٹوں میں تین تین FIR دے کر اسے ریکارڈ یافتہ ملزم بنا کر اسکا مبینہ جعلی پولیس مقابلہ کردیا گیا۔ ایف آئی اے نے FIR درج کرلی۔ دورانِ تفتیش جب ایف آئی اے لاہور کی جانبداری سامنے آئے تو عرفان نے مقدمہ کی تفتیش تبدیل کرنے کی درخواست دی۔ عدالت کے حکم پر تفتیش ایف آئی اے گوجرانوالہ کو سپرد کردی گئی۔ FIA نے تیسری FIR کو تفتیش کا محور بنایا، جس میں پولیس کے مطابق وقوعہ ساڑھے چار بجے کا ہے۔ جبکہ عرفان کی حاصل کردہ ہسپتال کی CCTV فوٹیجز میں نظر آرہا ہے کہ پولیس ساڑھے تین بجے سے پہلے ہی رضوان کو مردہ حالت میں ہسپتال لاچکی تھی۔ FIA نے ایس ایچ او حسن عمران سمیت 7 پولیس اہلکاران کو گناہگار ٹھہرایا۔ ان ملزمان نے قصور سیشن کورٹ سے گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانت قبل حاصل کررکھی تھی، جسے انہوں نے 9 ماہ لٹکائے رکھا۔ جب وہاں سے ضمانت خارج ہوئی تو ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت لے لی، جسے مزید کئی ماہ کھینچ کر گرفتاری سے بچتے رہے۔ بالآخر پچھلے ہفتے لاہور ہائیکورٹ نے انکی ضمانت خارج کی تو انہوں نے اپنے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ساتھیوں کی مدد سے وہاں سے فرار ہونا چاہا۔ لیکن وکلاء نے مداخلت سے یہ کوشش ناکام کرنا چاہی تو اس سے کچھ ہاتھا پائی کی افسوسناک صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ خیر، FIA نے ان تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ اگلے دن گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے انکو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر FIA کے حوالے کردیا اور آج ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ عرفان کہتے ہیں کہ میرا بھائی تو واپس نہیں آسکتا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کسی اور کا بھائی یوں بیگناہ نہ مارا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ☆ ایس ایچ او حسن عمران کو شاید اسی "کارکردگی" کی بنا پر بعد میں CCD میں بھی تعینات کیا گیا۔ مقتول رضوان کے بھائی عرفان ایک وکیل ہیں، وہ یہ تنِ تنہا دو سال سے زائد جدوجہد کرنے کے بعد آج ملزمان کو جیل بھجوا سکے ہیں۔ اندازہ کرلیں کہ اس طرح کتنے ہی بے گناہ رضوان جعلی مقابلوں کی بھینٹ چڑھ کر پولیس افسران کی شاباشی اور ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ایک عام آدمی کے لیے اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا کتنا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔

About