@frame.diceofficial: ✨🙏🏻#FRAMEtanannat #DICERED #fyp #DICE_SONRAY #อย่าปิดการมองเห็น

frame.diceofficial
frame.diceofficial
Open In TikTok:
Region: TH
Friday 11 September 2026 07:47:44 GMT
93668
24826
75
724

Music

Download

Comments

marchwazow
marchwazow :
เริ่ดดดดดดด✨
2026-09-11 12:41:31
256
mapsdddd
ITPINKMING :
ละเปลี่ยนรูปคิดว่าแอคแฟนคลับยัยน้อง5555
2026-09-11 08:55:48
76
woojubff
ro :
mister pretty omg
2026-09-11 13:58:02
2
thawewrow
Namfon :
เลยหรอคะ
2026-09-11 07:51:12
19
s.t150354
🫪 :
หลงหมดแล้วค่ะพี่เฟรม😭🫠
2026-09-11 08:22:10
8
tomatoface52
หน้ามะเขือเทศ🍅 :
งานสายตาดีมากคับบ
2026-09-14 11:34:48
1
badbutter2003
Butter.uncut :
สะกดมากกกก
2026-09-14 12:50:56
1
zimbimmass1
พี่ลูกซิมมมม :
ป้าด
2026-09-12 05:56:16
2
user92471976195688
fc bus dice เมนพี่...(ให้ทาย) :
ไม่ต้องเถียงกันนี่คนสุดท้าย🤣
2026-09-11 13:37:42
3
l.love.alie
รักพี่ลี่ :
Manifestทุกวันอ่ะ
2026-09-11 10:21:30
0
gigi119821
꩜* :
เปลี่ยนโปรไฟล์อีกและ
2026-09-12 03:52:24
0
kimmilee2
ซายุอยากสูง🍃 :
2026-09-11 15:07:20
0
ekrvhk
gris :
namamansin bato o hende
2026-09-12 03:53:35
0
btowtoy2
Btowtoy2 :
อยากโตใจจะขาดยัง5555
2026-09-11 22:23:05
0
eeeeeeeers0
èrs :
ตรายพี่ตราย
2026-09-11 16:27:06
0
senyaiaroimakk
𓇼 ⋆.˚ ⋆.˚ :
น้องเฟรมป้าแพ้ หล่อไปๆ
2026-09-11 15:21:46
0
bukan_gue
jujur gatau :
haii
2026-09-11 07:49:20
0
To see more videos from user @frame.diceofficial, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں آج دل کی گہرائیوں سے لاہوریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے تمام تر فسطائیت، جبر اور ظلم کا مقابلہ کیا اور عمران خان صاحب سے اپنی محبت کا اظہار کیا، میں آپ سب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ آج لاہور میں جس طرح کا کرفیو نافذ کیا گیا، جب قبائلی اضلاع میں فوجی آپریشن شروع ہوئے تھے تو ہمارے قبائلی اضلاع نے بھی ایسا بدترین کرفیو نہیں دیکھا تھا، جیسا آج مریم صفدر کی جعلی حکومت میں لاہور میں لگایا گیا۔ نامعلوم افراد بھی سادہ لباس میں گھوم رہے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ نامعلوم افراد کون ہوتے ہیں اور کہاں سے آتے ہیں۔ انہوں نے آج لاہور کی خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔  لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ لاہوریوں نے خوف کی بت توڑ دیے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، آپ نے اپنے اس جذبے اور جنون کو 27 ستمبر تک، بلکہ اس کے بعد بھی برقرار رکھنا ہے۔ یہ جذبہ کسی صورت کم نہیں ہونا چاہیے۔ لاہوریوں کو بھی معلوم ہے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، اور آج کرفیو لگانے والوں اور عوام کو روکنے والوں کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ لاہور کس کے ساتھ ہے۔ لیکن سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ کرفیو، پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کی پامالی اور اس طرح کے ظلم و جبر کے ذریعے خود کو دھوکہ دے رہے ہیں یا کسی اور کو؟ پہلے میں کہا کرتا تھا کہ پنجاب کا ماحول دیکھتے ہوئے اگر ہمیں ایک دن پہلے بھی بتا دیا جائے کہ جلسے کی اجازت ہے اور کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوگی، راستوں پر کرفیو نہیں ہوگا، تو ہم جلسہ کریں گے۔ لیکن آج جو حالات میں لاہور میں دیکھ رہا ہوں، اگر صرف تین گھنٹے کے لیے جلسے کی اجازت دے دی جائے، کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو اور راستے بند نہ کیے جائیں، تو صرف تین گھنٹوں میں لاہور کی اتنی عوام نکلے گی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہی وہ آزادی ہے جو عمران خان صاحب اپنی قوم کو دے چکے ہیں، اور اسی آزادی کے جذبے کے تحت آج لاہور کے عوام نے خوف کی تمام زنجیریں توڑ دی ہیں۔  میں ایک بار پھر تمام لاہوریوں کا دل سے شکر گزار ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، آج کی اسٹریٹ موومنٹ یہاں لاہور میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہم ان شاء اللہ باقی روٹ کی جانب جائیں گے،  ہمارے دو ہزار سے زائد ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کل جہاں ہمارے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام تھا، وہاں پنجاب پولیس کی غیرت دیکھیے کہ انہوں نے ٹینٹ تک اکھاڑ دیے اور اپنے ساتھ لے گئے۔ یہاں تک کہ مہمانوں کے لیے رکھا گیا کھانا بھی پنجاب پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ بہرحال، غیرت نام کی کوئی چیز ان میں باقی نہیں رہی۔ پنجاب کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ پنجاب کے عوام خود پنجاب پولیس کے رویے سے تنگ ہیں۔ پنجاب پولیس کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ہی ادارے کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ یہ لاوا ایک دن ضرور پھٹے گا، اور جب یہ پھٹے گا تو ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اللہ نہ کرے کہ وہ دن آئے۔ اللہ کرے کہ اس دن سے پہلے انہیں کچھ عقل آ جائے اور وہ ظلم و جبر کا راستہ چھوڑ دیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، کل ہمارا روٹ جہاں جہاں سے گزرے گا، وہاں کے عوام تیاری کریں۔ کل ان شاء اللہ آپ سے وہیں ملاقات ہوگی۔ شکریہ لاہور! وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی
میں آج دل کی گہرائیوں سے لاہوریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے تمام تر فسطائیت، جبر اور ظلم کا مقابلہ کیا اور عمران خان صاحب سے اپنی محبت کا اظہار کیا، میں آپ سب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ آج لاہور میں جس طرح کا کرفیو نافذ کیا گیا، جب قبائلی اضلاع میں فوجی آپریشن شروع ہوئے تھے تو ہمارے قبائلی اضلاع نے بھی ایسا بدترین کرفیو نہیں دیکھا تھا، جیسا آج مریم صفدر کی جعلی حکومت میں لاہور میں لگایا گیا۔ نامعلوم افراد بھی سادہ لباس میں گھوم رہے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ نامعلوم افراد کون ہوتے ہیں اور کہاں سے آتے ہیں۔ انہوں نے آج لاہور کی خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ لاہوریوں نے خوف کی بت توڑ دیے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، آپ نے اپنے اس جذبے اور جنون کو 27 ستمبر تک، بلکہ اس کے بعد بھی برقرار رکھنا ہے۔ یہ جذبہ کسی صورت کم نہیں ہونا چاہیے۔ لاہوریوں کو بھی معلوم ہے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، اور آج کرفیو لگانے والوں اور عوام کو روکنے والوں کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ لاہور کس کے ساتھ ہے۔ لیکن سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ کرفیو، پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کی پامالی اور اس طرح کے ظلم و جبر کے ذریعے خود کو دھوکہ دے رہے ہیں یا کسی اور کو؟ پہلے میں کہا کرتا تھا کہ پنجاب کا ماحول دیکھتے ہوئے اگر ہمیں ایک دن پہلے بھی بتا دیا جائے کہ جلسے کی اجازت ہے اور کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوگی، راستوں پر کرفیو نہیں ہوگا، تو ہم جلسہ کریں گے۔ لیکن آج جو حالات میں لاہور میں دیکھ رہا ہوں، اگر صرف تین گھنٹے کے لیے جلسے کی اجازت دے دی جائے، کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو اور راستے بند نہ کیے جائیں، تو صرف تین گھنٹوں میں لاہور کی اتنی عوام نکلے گی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہی وہ آزادی ہے جو عمران خان صاحب اپنی قوم کو دے چکے ہیں، اور اسی آزادی کے جذبے کے تحت آج لاہور کے عوام نے خوف کی تمام زنجیریں توڑ دی ہیں۔ میں ایک بار پھر تمام لاہوریوں کا دل سے شکر گزار ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، آج کی اسٹریٹ موومنٹ یہاں لاہور میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہم ان شاء اللہ باقی روٹ کی جانب جائیں گے، ہمارے دو ہزار سے زائد ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کل جہاں ہمارے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام تھا، وہاں پنجاب پولیس کی غیرت دیکھیے کہ انہوں نے ٹینٹ تک اکھاڑ دیے اور اپنے ساتھ لے گئے۔ یہاں تک کہ مہمانوں کے لیے رکھا گیا کھانا بھی پنجاب پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ بہرحال، غیرت نام کی کوئی چیز ان میں باقی نہیں رہی۔ پنجاب کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ پنجاب کے عوام خود پنجاب پولیس کے رویے سے تنگ ہیں۔ پنجاب پولیس کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ہی ادارے کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ یہ لاوا ایک دن ضرور پھٹے گا، اور جب یہ پھٹے گا تو ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اللہ نہ کرے کہ وہ دن آئے۔ اللہ کرے کہ اس دن سے پہلے انہیں کچھ عقل آ جائے اور وہ ظلم و جبر کا راستہ چھوڑ دیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، کل ہمارا روٹ جہاں جہاں سے گزرے گا، وہاں کے عوام تیاری کریں۔ کل ان شاء اللہ آپ سے وہیں ملاقات ہوگی۔ شکریہ لاہور! وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

About