@can.mia778:

আমার বাড়ি ময়মনসিংহ
আমার বাড়ি ময়মনসিংহ
Open In TikTok:
Region: BD
Saturday 12 September 2026 04:55:14 GMT
37
14
4
0

Music

Download

Comments

ruhul_amin_1.0
MD RUHUL AMIN ISLAM :
🥰🥰🥰
2026-09-12 06:54:11
0
user934152251
🚹⬛🟥🟩 ( MD Hasan ) 🟨⬜🟧🟨 :
🥰🥰🥰
2026-09-12 05:46:36
0
md.chanmia414
MD chanmia :
🥰🥰🥰
2026-09-12 04:59:58
0
mdabuhanif203
Md Abu Hanif :
❤️❤️❤️
2026-09-12 11:00:00
0
To see more videos from user @can.mia778, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک مڈل پاس شخص کی شادی ایسی عورت کے ساتھ ہوئی جس نے فلسفے میں M.phil کر رکھا تھا اور 17 گریڈ کی گورنمنٹ جاب بھی تھی۔ شوہر نے اپنی بیوی کا ATM کارڈ اور چیک بک اپنے پاس رکھ لی اور بیوی کی تنخواہ پر عیش کر کے الٹا اُسی بے چاری پر رعب جماتا اور جاہل ہونے کا طعنہ دیتا رہتا بچے جب بڑے ہوئے تو اپنے باپ کو عقل مند اور ماں کو جاہل سمجھتے تھے. خاتون کی گورنمنٹ سروس کے 25 سال مکمل ہوئے تو اس نے شوہر کو اس کی اوقات دکھانے کا فیصلہ کیا اور گھر سے غائب ہو گئی۔ بے مروت شوہر نے بیوی کو تلاش کرنے کی زحمت ہی نہ اور جب بیوی کی تنخواہ نکلوانے بینک پہنچا تب /بینک کا منیجر مسکرا کر اپنی کرسی سے اٹھا اور ایک موٹا لفافہ شوہر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا، *"30 سال پہلے جب میری شادی تم سے ہوئی، تو میں نے اپنے ایم فل اور 17 ویں گریڈ کے افسر ہونے کا غرور دروازے پر چھوڑ کر قدم رکھا تھا تاکہ ہمارا گھر بس سکے۔ میں نے سوچا تھا کہ محبت اور احترام سے تمہا کم علمی کا احساس دور کر دوں گی، لیکن تم نے میری شرافت کو میری کمزوری سمجھ لیا۔* > *تم نے سالہا سال میری محنت کی کمائی پر عیش کیا، میرا اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بک چھین کر مجھے ایک ایک روپے کا محتاج رکھا، اور پھر بھی مجھے 'جاہل' کا طعنہ دیتے رہے۔ میں خاموش رہی کیونکہ مجھے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا تھا اور میں ایک مضبوط ماں بن کر ان کی پرورش کرنا چاہتی تھی۔* > *لیکن تم نے میرے ہی بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی پڑھ لکھی ماں جاہل ہے اور تم دنیا کے سب سے عقل مند انسان ہو۔ فلسفہ مجھے یہ سکھاتا ہے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ہر ظلم کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ میری 25 سالہ سرکاری ملازمت مکمل ہو چکی ہے، میرے بچے اب اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور مجھے اب تمہاری یا تمہارے دیے ہوئے 'جاہل' کے تمغے کی ضرورت نہیں ہے۔* > *جس گھر کو تم اپنا کہتے ہو، وہ بھی میری تنخواہ کے اقساط سے بنا تھا۔ اب یہ گھر، یہ اے ٹی ایم کارڈ، اور یہ خاموشی تم مبارک ہو۔ میں اپنی زندگی کے باقی ایام ان لوگوں کے لیے وقف کر رہی ہوں جو علم اور عورت کی قدر جانتے ہیں۔"* > شوہر کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بدحواس ہو کر گھر پہنچا اور بچوں کو سارا واقعہ سنایا۔ بیٹے نے باپ کا اترا ہوا چہرہ دیکھا اور غصے سے بولا، "بابا! آپ تو کہتے تھے کہ امی کو کچھ نہیں آتا، وہ جاہل ہیں! لیکن آج معلوم ہوا کہ انہوں نے خاموشی سے اپنا سب کچھ ہم پر قربان کر دیا اور ہم اپ کی باتوں میں آ کر ان کی توہین کرتے رہے۔" بچوں نے اسی وقت اپنے باپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں کو تلاش کرنے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ وہ شخص اپنے خالی، اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھ گیا۔ اس کے پاس اب نہ تو بیوی کی تنخواہ تھی، نہ اس کا رعب و دبدبہ، اور نہ ہی وہ بچے جو اسے عقل مند سمجھتے تھے۔ جس اے ٹی ایم کارڈ پر وہ سالوں سے ناز کرتا تھا، وہ اب پلاسٹک کے ایک بے کار ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہ تھا—اور وہ شخص واقعی زندگی کے امتحان میں مکمل جاہل اور تنہا ثابت ہو چکا تھا۔" width="135" height="240">
ایک مڈل پاس شخص کی شادی ایسی عورت کے ساتھ ہوئی جس نے فلسفے میں M.phil کر رکھا تھا اور 17 گریڈ کی گورنمنٹ جاب بھی تھی۔ شوہر نے اپنی بیوی کا ATM کارڈ اور چیک بک اپنے پاس رکھ لی اور بیوی کی تنخواہ پر عیش کر کے الٹا اُسی بے چاری پر رعب جماتا اور جاہل ہونے کا طعنہ دیتا رہتا بچے جب بڑے ہوئے تو اپنے باپ کو عقل مند اور ماں کو جاہل سمجھتے تھے. خاتون کی گورنمنٹ سروس کے 25 سال مکمل ہوئے تو اس نے شوہر کو اس کی اوقات دکھانے کا فیصلہ کیا اور گھر سے غائب ہو گئی۔ بے مروت شوہر نے بیوی کو تلاش کرنے کی زحمت ہی نہ اور جب بیوی کی تنخواہ نکلوانے بینک پہنچا تب /بینک کا منیجر مسکرا کر اپنی کرسی سے اٹھا اور ایک موٹا لفافہ شوہر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا، "خان صاحب! آپ کی بیگم صاحبہ تین دن پہلے خود یہاں آئی تھیں۔ انہوں نے اپنی 25 سالہ سروس کے بعد قبل از وقت ریٹائرمنٹ (LPR) لے لی ہے اور اپنی ساری گریچوئٹی، پینشن اور جمع شدہ سرمائے کی رقم ایک نئے اکاؤنٹ میں منتقل کروا کر یہ اپنا پرانا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کروا چکی ہیں۔" شوہر کے ہاتھ سے وہ خالی چیک بک چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ اس کا رنگ زرد پڑ گیا اور گھبراہٹ میں بولا، "یہ... یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کی اجازت کے بغیر میرا گھر کیسے چلے گا؟ اس کا ATM کارڈ تو میرے پاس ہے!" منیجر نے سنجیدگی سے جواب دیا، "وہ ملک گیر سطح پر عورتوں کے حقوق اور مفت تعلیم کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او کی ڈائریکٹر مقرر ہو چکی ہیں اور اسلام آباد منتقل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے آپ کے لیے یہ ایک خط چھوڑا ہے۔" شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔ اندر ایک خط اور ایک چھوٹا سا لفافہ تھا جس پر بچوں کے نام لکھے تھے۔ خط میں لکھا تھا: > *"30 سال پہلے جب میری شادی تم سے ہوئی، تو میں نے اپنے ایم فل اور 17 ویں گریڈ کے افسر ہونے کا غرور دروازے پر چھوڑ کر قدم رکھا تھا تاکہ ہمارا گھر بس سکے۔ میں نے سوچا تھا کہ محبت اور احترام سے تمہا کم علمی کا احساس دور کر دوں گی، لیکن تم نے میری شرافت کو میری کمزوری سمجھ لیا۔* > *تم نے سالہا سال میری محنت کی کمائی پر عیش کیا، میرا اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بک چھین کر مجھے ایک ایک روپے کا محتاج رکھا، اور پھر بھی مجھے 'جاہل' کا طعنہ دیتے رہے۔ میں خاموش رہی کیونکہ مجھے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا تھا اور میں ایک مضبوط ماں بن کر ان کی پرورش کرنا چاہتی تھی۔* > *لیکن تم نے میرے ہی بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی پڑھ لکھی ماں جاہل ہے اور تم دنیا کے سب سے عقل مند انسان ہو۔ فلسفہ مجھے یہ سکھاتا ہے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ہر ظلم کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ میری 25 سالہ سرکاری ملازمت مکمل ہو چکی ہے، میرے بچے اب اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور مجھے اب تمہاری یا تمہارے دیے ہوئے 'جاہل' کے تمغے کی ضرورت نہیں ہے۔* > *جس گھر کو تم اپنا کہتے ہو، وہ بھی میری تنخواہ کے اقساط سے بنا تھا۔ اب یہ گھر، یہ اے ٹی ایم کارڈ، اور یہ خاموشی تم مبارک ہو۔ میں اپنی زندگی کے باقی ایام ان لوگوں کے لیے وقف کر رہی ہوں جو علم اور عورت کی قدر جانتے ہیں۔"* > شوہر کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بدحواس ہو کر گھر پہنچا اور بچوں کو سارا واقعہ سنایا۔ بیٹے نے باپ کا اترا ہوا چہرہ دیکھا اور غصے سے بولا، "بابا! آپ تو کہتے تھے کہ امی کو کچھ نہیں آتا، وہ جاہل ہیں! لیکن آج معلوم ہوا کہ انہوں نے خاموشی سے اپنا سب کچھ ہم پر قربان کر دیا اور ہم اپ کی باتوں میں آ کر ان کی توہین کرتے رہے۔" بچوں نے اسی وقت اپنے باپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں کو تلاش کرنے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ وہ شخص اپنے خالی، اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھ گیا۔ اس کے پاس اب نہ تو بیوی کی تنخواہ تھی، نہ اس کا رعب و دبدبہ، اور نہ ہی وہ بچے جو اسے عقل مند سمجھتے تھے۔ جس اے ٹی ایم کارڈ پر وہ سالوں سے ناز کرتا تھا، وہ اب پلاسٹک کے ایک بے کار ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہ تھا—اور وہ شخص واقعی زندگی کے امتحان میں مکمل جاہل اور تنہا ثابت ہو چکا تھا۔

About