@damian_seissiete2: #fyp #jasielnuñez #peroasialmenosnomehacesdaño

Dxlan$
Dxlan$
Open In TikTok:
Region: MX
Sunday 20 September 2026 04:39:51 GMT
129312
13416
131
383

Music

Download

Comments

samueli564
🐉صموئيل ديفيد :
mano como hago para la primera foto
2026-09-25 10:16:20
15
uriel._187
JYR07 :
Manito como le haces para que se ponga en fotos es que el mío siempre se pone en video
2026-10-03 03:07:01
2
jr.velazquez__g
GvJrrrr. :
Denle like al mío porfaa😪
2026-09-23 20:08:31
14
dlvx_25
𝕯𝖎𝖊𝖌𝖔⚡ :
pa q le pongo en "no molestar" si nadie me manda mensaje ajaj
2026-10-04 03:00:25
2
iker82721
𝘐𝘬𝘦𝘳 🥷🦁 :
Como pones el modo normal eque ño che 🥺😭
2026-09-24 06:29:18
4
yeffreycastellanos26
⋆˚࿔ Yeffrey 𝜗𝜚˚⋆ :
Yo hice uno me dan apoyo porfa 🙏 👍🙏🙏
2026-09-23 13:22:26
5
cano_142
𝕮𝖆𝖓𝖔 ➶ :
Me dolió ver la carta
2026-09-25 01:08:00
20
mateo_julian9o
Mateito G :
Pueden apoyar el mío
2026-09-23 21:00:48
3
dland742
😶‍🌫️_🌬️COCOMELON _😮‍💨 :
Que ase mi nombre ahi 😂
2026-09-24 22:52:25
9
carls_274
CL27 :
gracias hermano
2026-09-24 04:39:05
3
isathx_x67
𐌉𐌔𐌀𐌉🦇 :
w pinche dylan no se quien es pero lo amo ya me hizo llorar
2026-09-25 01:55:51
9
47soto_
47 :
me apoyan?
2026-09-23 16:53:31
2
juan_d.012
_juannzz :
“damian_seissiete2 a publicado un video”
2026-09-23 23:47:52
17
steven.sanchez.ro
𝓓𝔂𝓵𝓪𝓷 ! :
Yo q tenía q ver
2026-09-21 17:09:12
1
brandon_nkn
G :
apoyen el mío pofa
2026-09-24 02:39:09
3
elianismora2
𝐶𝑎𝑚𝑖𝑙𝑎 👸🏻 :
Apoyen el mío
2026-10-02 02:04:31
2
dany_sss1
🧟‍♂️ :
apoyen el mio✌️🙂
2026-09-23 20:15:24
2
11.11th0
Iܔܢܜ:••• :
apoyen el mío xfaa
2026-09-25 04:42:54
2
secrett_sebas.0
secrett_sebas.0 :
Apoyen el mío por favor
2026-09-24 02:18:06
3
abraham4827ebd
████████████ :
como isoste el video cada que lo intento se me ase video en vez de imagen por imagen da turotial plis
2026-09-28 11:18:25
1
dilanrios185
DILAN-RIOS/185⚡️ :
Bro mira el mío
2026-09-24 01:59:15
3
__nsanchezz0
𝓃. :
Apoyen el mioo
2026-09-25 19:38:47
2
To see more videos from user @damian_seissiete2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لبالب شیشۂ تہذیبِ حاضر ہے مئے ’لا‘ سے  مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ ’اِلّا‘ اس شعر میں علامہ اقبال نے اسلامی تصورِ توحید کے دو بنیادی اجزا ’’لا‘‘ اور ’’اِلّا‘‘ کو تہذیبِ حاضر کے فکری بحران کی علامت بنا کر پیش کیا ہے۔ ’’لا‘‘ سے مراد صرف سادہ انکار نہیں بلکہ باطل، جھوٹے معبودوں، مادی مرکزیت، فرسودہ تصورات اور ان تمام حاکمیتوں کی نفی ہے جو انسان کو حقیقتِ مطلقہ سے دور کرتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک جدید تہذیب میں یہ نفی بہت نمایاں ہے؛ اس نے روایت، مذہبی اتھارٹی اور قدیم اقدار پر سوال اٹھایا، بہت سی پرانی مرکزیتوں کو توڑا اور انسان کو فکری آزادی دی۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ تہذیبِ حاضر کا شیشہ ’’مئے لا‘‘ سے لبالب ہے۔ لیکن شعر کا اصل نکتہ اگلے مصرعے میں سامنے آتا ہے: ’’مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ اِلا‘‘۔ یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ جدید تہذیب نے انکار کیوں کیا، بلکہ یہ ہے کہ انکار کے بعد اس کے پاس اثبات میں کیا ہے؟ اس نے پرانے مرکز کو توڑ دیا، مگر اس کی جگہ وہ کون سا حتمی مرکز پیش کرتی ہے جو انسان کو معنی، مقصد، قدر اور زندگی کی آخری سمت فراہم کرے؟ یہاں ’’اِلّا‘‘ صرف مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ حقیقتِ مطلقہ، الٰہی مرکزیت اور ایک ایسے مثبت اثبات کی علامت ہے جو نفی کے بعد انسان کو سمت عطا کرتا ہے۔ اس اعتبار سے اقبال کا اعتراض یہ نہیں کہ جدید تہذیب کے پاس کوئی اقدار یا مثبت تصورات سرے سے موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بنیادی اثبات کی آخری بنیاد کیا ہے۔ ’’لا‘‘ انسان کو آزادی دے سکتی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ اسے سمت دیتی ہے؛ ’’لا‘‘ باطل کو توڑتی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ حق کو قائم کرتی ہے؛ ’’لا‘‘ نفی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ اس نفی کو معنی اور مقصد میں بدلنے والا اثبات ہے۔ چنانچہ اقبال کے نزدیک بحران خود انکار میں نہیں، بلکہ اس مقام پر رک جانے میں ہے جہاں ’’لا‘‘ کے بعد ’’اِلّا‘‘ آنا چاہیے تھا۔ جدید تہذیب نے بہت کچھ رد کیا، لیکن اقبال کے سوال کا مرکز یہ ہے کہ اس رد کے بعد انسان کو آخر کیا دیا گیا؟ یہی سوال اس شعر کو محض مغربی تہذیب کی مخالفت نہیں بلکہ نفی و اثبات، آزادی و مقصد، اور انسانی زندگی کے معنی کے بارے میں ایک گہری فلسفیانہ گفتگو بنا دیتا ہے۔ غزل: سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا کتاب: بالِ جبریل #UnfreezeYourAccount
لبالب شیشۂ تہذیبِ حاضر ہے مئے ’لا‘ سے مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ ’اِلّا‘ اس شعر میں علامہ اقبال نے اسلامی تصورِ توحید کے دو بنیادی اجزا ’’لا‘‘ اور ’’اِلّا‘‘ کو تہذیبِ حاضر کے فکری بحران کی علامت بنا کر پیش کیا ہے۔ ’’لا‘‘ سے مراد صرف سادہ انکار نہیں بلکہ باطل، جھوٹے معبودوں، مادی مرکزیت، فرسودہ تصورات اور ان تمام حاکمیتوں کی نفی ہے جو انسان کو حقیقتِ مطلقہ سے دور کرتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک جدید تہذیب میں یہ نفی بہت نمایاں ہے؛ اس نے روایت، مذہبی اتھارٹی اور قدیم اقدار پر سوال اٹھایا، بہت سی پرانی مرکزیتوں کو توڑا اور انسان کو فکری آزادی دی۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ تہذیبِ حاضر کا شیشہ ’’مئے لا‘‘ سے لبالب ہے۔ لیکن شعر کا اصل نکتہ اگلے مصرعے میں سامنے آتا ہے: ’’مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ اِلا‘‘۔ یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ جدید تہذیب نے انکار کیوں کیا، بلکہ یہ ہے کہ انکار کے بعد اس کے پاس اثبات میں کیا ہے؟ اس نے پرانے مرکز کو توڑ دیا، مگر اس کی جگہ وہ کون سا حتمی مرکز پیش کرتی ہے جو انسان کو معنی، مقصد، قدر اور زندگی کی آخری سمت فراہم کرے؟ یہاں ’’اِلّا‘‘ صرف مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ حقیقتِ مطلقہ، الٰہی مرکزیت اور ایک ایسے مثبت اثبات کی علامت ہے جو نفی کے بعد انسان کو سمت عطا کرتا ہے۔ اس اعتبار سے اقبال کا اعتراض یہ نہیں کہ جدید تہذیب کے پاس کوئی اقدار یا مثبت تصورات سرے سے موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بنیادی اثبات کی آخری بنیاد کیا ہے۔ ’’لا‘‘ انسان کو آزادی دے سکتی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ اسے سمت دیتی ہے؛ ’’لا‘‘ باطل کو توڑتی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ حق کو قائم کرتی ہے؛ ’’لا‘‘ نفی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ اس نفی کو معنی اور مقصد میں بدلنے والا اثبات ہے۔ چنانچہ اقبال کے نزدیک بحران خود انکار میں نہیں، بلکہ اس مقام پر رک جانے میں ہے جہاں ’’لا‘‘ کے بعد ’’اِلّا‘‘ آنا چاہیے تھا۔ جدید تہذیب نے بہت کچھ رد کیا، لیکن اقبال کے سوال کا مرکز یہ ہے کہ اس رد کے بعد انسان کو آخر کیا دیا گیا؟ یہی سوال اس شعر کو محض مغربی تہذیب کی مخالفت نہیں بلکہ نفی و اثبات، آزادی و مقصد، اور انسانی زندگی کے معنی کے بارے میں ایک گہری فلسفیانہ گفتگو بنا دیتا ہے۔ غزل: سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا کتاب: بالِ جبریل #UnfreezeYourAccount

About