@01_a_d_a_n_a_:

01_a_d_a_n_a_📌°
01_a_d_a_n_a_📌°
Open In TikTok:
Region: TR
Sunday 20 September 2026 23:42:42 GMT
1314
48
11
1

Music

Download

Comments

emirhan.kaplan75
Emirhan Kaplan :
altıncı bölüm ne zaman gelir
2026-09-21 08:20:18
1
devocann02
Y’ :
Yeni bölüm ne zaman
2026-09-21 09:35:47
1
furkancolak527
FURKAN_27 :
6 bölüm ne zaman gelir
2026-09-21 09:30:53
1
aliw.7q
aliw.7q :
Ne zaman gelcek 6ncı bölüm
2026-09-22 19:12:16
1
aliw.7q
aliw.7q :
Reis gelsin yeni bölüm
2026-09-22 10:23:51
1
user2590347784617
GÖKHAn :
yeni bölüm ne zaman
2026-09-22 13:12:45
1
furkancolak527
FURKAN_27 :
yeni bölüm 1 de dedin gelmedi daha
2026-09-22 10:06:59
1
To see more videos from user @01_a_d_a_n_a_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

غم ہائےروز گار میں الجھا ہوا ہوں میں اس پر ستم یہ ہے اسے یاد آ رہا ہوں میں ہاں اُس کے نام میں نے کوئی خط نہیں لکھا کیا اُس کو یہ لکھوں کہ لہو تھوکتا ہوں میں کرب غم شعور کا درماں نہیں شراب یہ زہر ہےاثر ہے اسے پی چکا ہوں میں اے زندگی بتا کہ سرِ جادہ ءِ شتاب یہ کون کھو گیا ہے کسے ڈھونڈتا ہوں میں اے وحشتو! مجھے اسی وادی میں لے چلو یہ کون لوگ ہیں، یہ کہاں آ گیا ہوں میں شعر و شعور اور یہ شہرِ شمار شور بس ایک قرض ہے جو ادا کر رہا ہوں میں یہ تلخیاں یہ زخم، یہ ناکامیاں یہ غم یہ کیا ستم کہ اب بھی ترا مدعا ہوں میں میں نے غم حیات میں تجھ کو بھلا دیا حسن وفا شعار، بہت بے وفا ہوں میں عشق ایک سچ تھا تجھ سے جو بولا نہیں کبھی عشق اب وہ جھوٹ ہے جو بہت بولتا ہوں میں معصوم کس قدر تھا میں آغازِ عشق میں اکثر تو اس کے سامنے شرما گیا ہوں میں دنیا میرے ہجوم کی آشوب گاہ ہے اور اپنے اس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوں میں وہ اہلِ شہر کون تھے وہ شہر تھا کہاں ان اہلِ شہر میں سے ہوں اس شہر کا ہوں میں!!  #search #foryou
غم ہائےروز گار میں الجھا ہوا ہوں میں اس پر ستم یہ ہے اسے یاد آ رہا ہوں میں ہاں اُس کے نام میں نے کوئی خط نہیں لکھا کیا اُس کو یہ لکھوں کہ لہو تھوکتا ہوں میں کرب غم شعور کا درماں نہیں شراب یہ زہر ہےاثر ہے اسے پی چکا ہوں میں اے زندگی بتا کہ سرِ جادہ ءِ شتاب یہ کون کھو گیا ہے کسے ڈھونڈتا ہوں میں اے وحشتو! مجھے اسی وادی میں لے چلو یہ کون لوگ ہیں، یہ کہاں آ گیا ہوں میں شعر و شعور اور یہ شہرِ شمار شور بس ایک قرض ہے جو ادا کر رہا ہوں میں یہ تلخیاں یہ زخم، یہ ناکامیاں یہ غم یہ کیا ستم کہ اب بھی ترا مدعا ہوں میں میں نے غم حیات میں تجھ کو بھلا دیا حسن وفا شعار، بہت بے وفا ہوں میں عشق ایک سچ تھا تجھ سے جو بولا نہیں کبھی عشق اب وہ جھوٹ ہے جو بہت بولتا ہوں میں معصوم کس قدر تھا میں آغازِ عشق میں اکثر تو اس کے سامنے شرما گیا ہوں میں دنیا میرے ہجوم کی آشوب گاہ ہے اور اپنے اس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوں میں وہ اہلِ شہر کون تھے وہ شہر تھا کہاں ان اہلِ شہر میں سے ہوں اس شہر کا ہوں میں!! #search #foryou

About