@samir.daaboush: #CapCut #صنعاء #حجه#تعز#ذمار_صنعاء__إب_تعز_اليمن_روحي

Samir Daaboush Al-Khamisi
Samir Daaboush Al-Khamisi
Open In TikTok:
Region: YE
Wednesday 23 September 2026 16:00:23 GMT
206
36
10
7

Music

Download

Comments

user8186169077075
أبو إياد الخميسي :
منورين ربي يسعدكم ويحفظكم ❤️
2026-09-23 21:17:22
1
njybdbwsh
.•’´*♫♪نجيےب دَ؏ﭜَوَشَ♫♪*`’•. :
الله يحفظك ياغالي
2026-09-23 21:34:26
1
user62444769910795
صدام قمري :
🥰منروين
2026-09-23 18:52:32
1
yufuhf2
لهفه¿ه♡لقى☆ :
منووورين حبايب القلب
2026-09-23 21:50:28
0
user62444769910795
صدام قمري :
🥰🥰🥰
2026-09-23 18:52:21
1
user5014012924682
الوادعي اون لاين :
🥰🥰🥰
2026-09-23 20:06:17
0
yufuhf2
لهفه¿ه♡لقى☆ :
🥰🥰🥰
2026-09-23 21:49:53
0
To see more videos from user @samir.daaboush, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایرک نیومن نے خبردار کیا تھا کہ اگر فن گرا ہوا ہے، تو ہم خود بھی گرے ہوئے ہیں۔ یہ بات آج کے خالی مواد پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔ جو فضول مواد ہم روزمرہ نگل رہے ہیں، اس نے وہ ذہن پیدا کر دیا ہے جو گہرائی سے بھاگتا ہے، معنی سے خوفزدہ ہے اور صرف سنسنی کا عادی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فن کا بیڑہ غرق ہو گیا۔   فن کبھی درد، سوال اور وجود کی کشمکش سے جنم لیتا تھا۔ اب توجہ کی معیشت نے اسے نمائش، ریل اور فوری لذت میں بدل دیا۔ جو چیز سوچنے پر مجبور کرے، وہ بوجھ لگتی ہے۔ جو خاموشی میں بیٹھے، وہ بوریت محسوس ہوتی ہے۔ ہم نے ایسا ذہن پال لیا ہے جو صرف سطح پر تیرتا ہے اور گہرائی کو دشمن سمجھتا ہے۔ نیومن جس
ایرک نیومن نے خبردار کیا تھا کہ اگر فن گرا ہوا ہے، تو ہم خود بھی گرے ہوئے ہیں۔ یہ بات آج کے خالی مواد پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔ جو فضول مواد ہم روزمرہ نگل رہے ہیں، اس نے وہ ذہن پیدا کر دیا ہے جو گہرائی سے بھاگتا ہے، معنی سے خوفزدہ ہے اور صرف سنسنی کا عادی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فن کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ فن کبھی درد، سوال اور وجود کی کشمکش سے جنم لیتا تھا۔ اب توجہ کی معیشت نے اسے نمائش، ریل اور فوری لذت میں بدل دیا۔ جو چیز سوچنے پر مجبور کرے، وہ بوجھ لگتی ہے۔ جو خاموشی میں بیٹھے، وہ بوریت محسوس ہوتی ہے۔ ہم نے ایسا ذہن پال لیا ہے جو صرف سطح پر تیرتا ہے اور گہرائی کو دشمن سمجھتا ہے۔ نیومن جس "بڑھتی ہوئی سیاہی" اور "نگلتا ہوا ڈریگن" کی بات کرتا ہے، وہ یہی اندھیرا ہے یعنی تنہائی، بیگانگی اور ثقافتی معیار کا ٹوٹنا۔ یہ زوال صرف مواد بنانے والوں کا نہیں۔ یہ ہمارا اجتماعی زوال ہے۔ جب ہم خالی چیزوں کو کامیابی مان لیتے ہیں، جب ہم فن کو صرف تفریح سمجھ لیتے ہیں، تو ہم خود اس گراوٹ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ فن تب مرے گا جب دیکھنے والا مر جائے اور آج دیکھنے والا ذہن مر رہا ہے۔ جو درد سے بھاگے، وہ حقیقت سے بھی بھاگے گا۔ اور جو حقیقت سے بھاگے، اس کے حصے میں صرف اندھیرا رہ جاتا ہے۔ . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PoliticalAwareness #exploremore

About