@negrunegru_777:

NEG 777
NEG 777
Open In TikTok:
Region: MD
Wednesday 23 September 2026 18:47:42 GMT
242666
18895
87
2572

Music

Download

Comments

ic3_oliwierek
ic3_oliwierek :
All that for it to be diesel
2026-09-25 14:24:39
0
dima_dmitriy_dimochka
dima_dmitriy_dimochka :
руки целовал хозяина
2026-09-24 13:21:23
74
vyan_36
Vyan :
M5 dials but 530d 💀😭
2026-09-24 23:08:14
7
v.dupnak
v.dupnak :
2026-09-23 20:52:08
33
fk03101972
СССР :
Е 46.👍
2026-09-24 16:08:22
0
vasille.s_s
Vasille.s_s :
Bratan cit ai dat pe retapitare salon?
2026-09-24 15:57:30
1
hakobyannnn__02
Hakobyannnn__ :
mator?
2026-09-24 16:29:54
0
serghei342oldcar
Serginho Live, OldCar :
Unde ai cusut salonu? Spune terog
2026-09-24 08:02:20
0
mad_horse_moto
MAD HORSE :
очень красиво
2026-09-25 23:45:32
0
userxjgjyfhsli
userxjgjyfhsli :
Торпеда из алькантары вообще не о чем а так прикольно
2026-09-25 03:58:09
4
nik_name520
nik_name :
Aici cred ca costa mai mult salonul decât mașina 😁 îi super 🥰
2026-09-24 16:01:58
1
kopacilemne
Skorpyon :
Frumos bravo 🔥💪
2026-09-23 20:00:51
0
ccccc1111780
Ccccc1111 :
Ах….нная тачка🔥🔥🔥🔥🔥
2026-09-25 17:49:53
0
izh_18bpan
Автозвук на труда 🔊izh18🔊 :
реально четка
2026-09-25 17:52:37
0
olympic_94
Olympic :
Круто смотрится салон и тачка на лютом стиле 🔥🔥🔥
2026-09-25 06:38:12
5
iisix666
IIsix :
сильно, автор можно узнать где салон сделать ?
2026-09-25 05:25:55
1
hemid_poladov
Həmid Poladov 062 :
задний банперский дифизор лишний
2026-09-24 12:16:27
2
net_yuza
A777MR 777 :
Все матовые элементы в глянец чёрный поставить бы ещё
2026-09-24 08:18:25
7
oleg.gangan
Oleg Gangan :
👏👏👏💪
2026-09-25 07:33:45
0
lary.mty
👑Lary Mty👑 :
Felicitări bro ‼️
2026-09-24 21:07:43
0
user1511598122090
Иваныч :
Хорошая 👍
2026-09-25 10:04:45
0
axax3a
Дмитро Чорногуз :
👍👍👍
2026-09-25 18:41:49
0
sho.t.t
Sho.t.t :
2026-09-25 05:03:45
0
ozkan16_bursa
ÖzkanEgeÖzgürEfe :
2026-09-25 13:42:47
0
auto.house3
AUTO HOUSE001 :
Top👍
2026-09-23 21:26:09
0
To see more videos from user @negrunegru_777, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں نے آج ڈرا کھولی تھی میڈیسن کو ڈھونڈنے کیلئے جسکی مجھے ضرورت تھی۔ مگر مجھے وہ میڈیسن ہی بھول گئی،جب ڈرا میں وہ تھرمامیٹر نظر آیا جو محمد عمر کیلئے اسکے آخری دنوں میں استعمال کیا تھا۔  وہ تھرمامیٹر ہاتھ میں آتے ہی مجھے بھول گیا کہ میں نے یہ ڈرا کیوں کھولی تھی۔ میں نے تھرمامیٹر آن کیا تو اس میں 104 درج تھا۔ 104 وہ آخری بخار،جو اترتا ہی نہیں تھا۔ 104،105 پٹیاں کرتے کرتے میرے ہاتھ شل ہو جاتے تھے۔ اسکا تکیہ بھیگ جاتا تھا،اسکا بستر بھیگ جاتا تھا،اور پھر میرا بچہ سردی سے کانپنے لگتا تھا۔
میں نے آج ڈرا کھولی تھی میڈیسن کو ڈھونڈنے کیلئے جسکی مجھے ضرورت تھی۔ مگر مجھے وہ میڈیسن ہی بھول گئی،جب ڈرا میں وہ تھرمامیٹر نظر آیا جو محمد عمر کیلئے اسکے آخری دنوں میں استعمال کیا تھا۔ وہ تھرمامیٹر ہاتھ میں آتے ہی مجھے بھول گیا کہ میں نے یہ ڈرا کیوں کھولی تھی۔ میں نے تھرمامیٹر آن کیا تو اس میں 104 درج تھا۔ 104 وہ آخری بخار،جو اترتا ہی نہیں تھا۔ 104،105 پٹیاں کرتے کرتے میرے ہاتھ شل ہو جاتے تھے۔ اسکا تکیہ بھیگ جاتا تھا،اسکا بستر بھیگ جاتا تھا،اور پھر میرا بچہ سردی سے کانپنے لگتا تھا۔ "سردی لگ رہی ہے" اور میں کہتی تھی "میرے بچے،میں آپکو یہ تکلیف نہیں دینا چاہتی۔مگر بخار نہیں اتر رہا نا آپکا،اسلیے یہ ضروری ہے۔" سردی سے اسکے دانت بجنے لگتے تھے۔ پھر میں اسکے اوپر کمبل ڈال دیتی تھی۔ وہ سر تک کمبل اوڑھنا چاہتا تھا اور میں کہتی نہیں بیٹے،بس ٹانگوں پر ڈال لو،پورے جسم پر ڈالو گے تو بخار اور تیز ہو جائے گا۔ میں کس قدر بے بس ماں تھی، میرا بچہ مجھ سے بھی زیادہ بے بس تھا۔ وہ صرف اس بات پر کچھ مطمئن ہو جاتا تھا کہ پٹیوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔ حالانکہ میں ایک چھوٹا سا ٹاول اسکے سر پر مستقل رکھتی تھی،اسلیے کہ اسکا سر کچھ ٹھنڈا رہے۔ پھر وہ کانپتا رہتا اور اسی تکلیف میں سو جاتا۔ کہتے ہیں نا نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے۔ وہ جب میری طرف دیکھتا تھا نا تو اسکی آنکھوں میں مجھے ایسی بے بسی نظر آتی تھی کہ میرا دل کانپ جاتا اور آج جب میں اسکی وہ آنکھیں یاد کرتی ہوں، تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ وہ محمد عمر تھا جب یہ پیدا ہوا تھا تو میں اسے رونے نہیں دیتی تھی۔ اسکی ٹانگوں پر مالش کرتی تو وہ خوش ہو کر ہنسنے لگتا تھا اور رونا بھول جاتا تھا۔ یہ وہ محمد عمر تھا، جسکے پیدا ہونے کے بعد میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر اسکی شکل دیکھتی تھی،اسکاچہرہ تکتی تھی۔ اسے اپنے ساتھ ایسے چھپا کر سوتی تھی جیسے کوئی مجھ سے اسے چھین کر لے جائے گا۔ مجھے وہم سا رہتا تھا کہ کہیں بلی اسے لے نہ جائے۔ یہ وہ محمد عمر تھا جسے میں نے جھولے میں نہیں ڈالا۔ اسکی ذرا سی جنبش پر فوراً اسے تھپکی دیتی اور سلا دیتی تھی۔ یہ وہ محمد عمر تھا جسکا سر بنانے کیلئے میں نے اسے کبھی اذیت نہیں دی۔ بس سیدھا لٹاتی،کبھی کروٹ پر،کبھی تکیے پر، میں نے اس پر کبھی ٹوٹکے نہیں آزمائے۔ یہ وہ محمد عمر تھا جسکے پاؤں سے میں جوتا اترنے نہیں دیتی تھی۔ جب وہ سونے کیلئے لیٹتا تھا تو اسکے جوتے اتار کر نیچے نہیں رکھتی تھی اپنی سائیڈ ٹیبل پر رکھتی تھی۔ مجھے اسکے جوتے بھی عزیز تھے۔ یہ وہ محمد عمر تھا جسے میں مٹی میں نہیں کھیلنے دیتی تھی۔ اور آج وہی محمد عمر مٹی اوڑھ کر سو رہا ہے۔ میرے بچے میں وہ بند و نسا کے رشتے تیری تربت کے سراہنے ہی توڑ آئی ھوں میں جو کہتی تھی مٹی سے نا کھیلا کرنا تم کو مٹی کے ڈھیر میں ہی چھوڑ آئی ھوں۔ 💔 اور میری سب سے بڑی بے بسی یہی تھی کہ اس وقت میرا بچہ میری طرف دیکھتا تھا، اور میں اسکی آنکھوں میں وہ سوال پڑھ لیتی تھی جو وہ اپنے درد کے باوجود لفظوں میں نہیں کہہ پاتا تھا۔ مما جانی یہ تکلیف کب ختم ہوگی؟ میں اسکی آنکھوں میں دیکھتی تھی میں چاہتی تھی اسکے درد کو اپنے ہاتھوں سے چھین لوں اسکا بخار اپنے جسم میں لے لوں اسکے کانپتے ہوئے جسم کی ہر کپکپاہٹ اپنے اندر اتار لوں اسکی ہر تکلیف کے بدلے اپنی پوری زندگی دے دوں۔ مگر ماں ہونے کے باوجود میں اپنے بچے کے درد کے سامنے بے بس تھی جسکے پاؤں میں کانٹا چبھنے کا خیال بھی مجھے ڈرا دیتا تھا، اسکے پورے جسم کو درد سہتے دیکھنا پڑا۔ جسکی ذرا سی چھینک پر میں کئی کئی کپڑے پہنا دیتی تھی، اسے آخری دنوں میں بخار سے کانپتے دیکھتی رہی۔ جسکے جوتے بھی میں اپنے پاس سنبھال کر رکھتی تھی، آج اسکے قدم ہی اس دنیا سے بہت دور جا چکے ہیں۔ جس بچے کو میں راتوں کو اپنے سینے سے لگا کر اس خوف سے سلاتی تھی کہ کہیں کوئی اسے مجھ سے چھین نہ لے آج اسے مجھ سے کوئی نہیں چھین کر لے گیا میں خود اسے اپنی آنکھوں کے سامنے مٹی کے حوالے کر آئی۔ محمد عمر تمہارے سر پر رکھے اس چھوٹے سے ٹاول میں میری محبت تھی۔ تمہیں کمبل اوڑھاتے ہوئے میرے ہاتھ کانپتے تھے۔ تمہیں کانپتا دیکھ کر میرا دل بھی کانپتا تھا۔ اور جب تم درد میں میری طرف دیکھتے تھے نا میرا دل چاہتا تھا میں تمہیں اپنے اندر چھپا لوں، بالکل ویسے ہی جیسے تمہیں پیدا ہونے کے بعد اپنے ساتھ چھپا کر سوتی تھی۔ کاش اس دن بھی میں ایسا کر سکتی۔ میں تمہیں اپنے سینے میں چھپا لیتی۔ دنیا کا کوئی درد تم تک نہ پہنچتا۔ کاش تمہارا ہر درد میرے حصے میں آ جاتا۔ لیکن ماؤں کی سب سے بڑی بے بسی یہی ہے وہ اپنے بچوں کیلئے ہر چیز کر سکتی ہیں، مگر موت سے اپنے بچے کونہیں بچا سکتی میرے بچے میں آج بھی اسی جگہ کھڑی ہوں جہاں تمہاری آخری تکلیف کے سامنے بے بس تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت تم میری آنکھوں کے سامنے تھے اب میری آنکھوں کے آنسوؤں میں۔ کاش میں تمہارا درد اپنے حصے میں لے سکتی 💔💔

About