@lij.zuzu2: #🥹 #🌸

Lij Zd🧕🏻📿
Lij Zd🧕🏻📿
Open In TikTok:
Region: SA
Friday 25 September 2026 12:46:12 GMT
20162
1329
9
1334

Music

Download

Comments

bulchaa.man2
Bulchaa man :
🥰🥰🥰
2026-09-26 04:25:33
0
user48112509574
የኔ እናት :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-09-25 23:26:32
0
abdi049418
ገንዘብ ያራዳ ልጅ☪️☪️🔐 :
🥰🥰🥰
2026-09-25 19:38:22
0
abush.memer
Abush Memer :
❤️❤️❤️
2026-09-25 19:06:16
0
shanbe628
shanbe :
🥰🥰🥰
2026-09-25 18:52:52
0
asuab3
asuab :
🥰🥰🥰🥰
2026-09-25 14:21:52
0
lij.ashenafi.debi
Lij Ashenafi Debiso :
❤️❤️❤️
2026-09-25 13:25:12
0
bereket.beka68
Bereket Tesfaye :
🥰🥰🥰
2026-09-25 12:56:31
0
qannoo40
𝘘𝘢𝘯𝘦𝘹 :
🥰🥰🥰
2026-09-26 05:51:30
0
To see more videos from user @lij.zuzu2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لاہور کا وہ چنگڑ جسے قدرت امریکہ لے آئی۔۔۔ سڑکوں پر کوڑا چننے والے نوجوان کی زندگی کی کہانی محمد صابر کا تعلق لاہور کے ایک ایسے چنگڑ خاندان سے تھا جو جھگی میں رہتا تھا اور اس خاندان کے تمام افراد، بشمول عورتیں اور بچے، سڑکوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے اپنی روزی روٹی تلاش کرتے تھے۔ بچپن کے ان دنوں میں صابر کو کوڑے سے ملنے والے اخبارات اور کتابیں پڑھنے کا شوق لگ گیا۔ اسے بچپن سے ہی کتابیں اچھی لگتی تھیں۔ کچھ عرصے بعد صابر نے ماں سے ضد کرکے ایک سرکاری اسکول میں داخلہ لے لیا۔ اسے اسکول میں چنگڑ اور مصلی کہہ کر پکارا جاتا، ہر کوئی اس کا مذاق اڑاتا، مگر صابر اپنی دھن میں لگا رہا۔ اس کی روٹین تھی کہ صبح پانچ بجے اٹھ کر سڑکوں پر کوڑا چننے چلا جاتا۔ 8 بجے واپس آکر کوڑا گھر میں رکھتا اور بستہ اٹھا کر اسکول چلا جاتا۔ پھر ظہر کے بعد گھر واپس آکر کھانا کھاتا، دوبارہ کوڑا چننے چلا جاتا اور رات کو ہوم ورک کرتا تھا۔ اس کی اس روٹین نے گھر کی مجموعی کمائی پر اثر نہ ڈالا، اس لیے اس کی تعلیم پر کسی کو اعتراض نہ تھا۔ پھر صابر نے آٹھویں کلاس کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرکے سب کو حیران کردیا اور اسے وظیفہ بھی ملا۔ میٹرک کا امتحان بھی صابر نے اچھے نمبروں سے پاس کیا تو اس کا رہن سہن بدلنے لگا۔ تب تک وہ کوڑا چننے کا کام کر رہا تھا۔ لیکن ایک روز صابر کی ماں، جو کسی کوٹھی میں کام کرتی تھی، ردی کتابوں کی ایک گٹھڑی گھر لے آئی کہ اگلے روز اسے ردی میں بیچے گی۔ مگر صابر کو ان کتابوں میں چارلس ڈکنز کا مشہور زمانہ ناول ’دی گریٹ ایکسپیکٹیشنز‘ مل گیا۔ اس نے اسے پڑھنا شروع کیا تو اس کی زندگی ہی بدل گئی۔ اب صابر نے کوڑا چننا چھوڑ کر گھروں میں اخبار پھینکنا شروع کردیے اور بازار میں چل پھر کر چیزیں بیچنے لگا۔ لیکن اس دوران وہ ہر قسم کی تعلیمی تقریبات اور سیمینارز میں بھی شرکت کرتا رہا، جبکہ اس نے تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ایف اے بھی اچھے نمبروں سے پاس کی تو کسی سیمینار میں اس کی ملاقات ایک امریکی خاتون سے ہوگئی جو لاہور میں امریکی سفارتخانے میں کام کرتی تھی۔ یہ خاتون صابر کی کہانی سن کر بہت متاثر ہوئی اور اس نے صابر کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے صابر کو ایک اسکالرشپ پروگرام کے بارے میں بتایا جس کی درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ قریب تھی۔ صابر نے اپنی درخواست جمع کروا دی اور اس خاتون نے خود صابر کا لیٹر آف ریکمنڈیشن بھی لکھ دیا۔ یہ صابر کی زندگی کا ایک انقلابی دن تھا۔ پورے پاکستان سے منتخب ہونے والے 15 طلبہ و طالبات میں صابر کا نام بھی آگیا۔ کچھ رقم گھر والوں سے لے کر اور کچھ اس نیک دل امریکی خاتون کی مالی مدد سے صابر امریکہ پہنچ گیا۔ یہ 2014 کی بات ہے۔ اس وقت اوباما کی الیکشن کمپین چل رہی تھی۔ صابر نے اپنی اسکالرشپ کی شرائط کے تحت خوب دل لگا کر کام کیا۔ وہ ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے پروگرام کا حصہ بنتا گیا۔ یہ حکومتی پروگرام لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے والے تھے۔ سب سے مزیدار اور حیران کن بات یہ ہے کہ صابر آج بھی امریکہ میں جدوجہد کر رہا ہے۔ ہر اہم پروگرام میں اسے ویلکم کیا جاتا ہے۔ وہ پیسے بھی کما رہا ہے، لیکن دوسروں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے اگر اسے پروگرام کی شرائط کے تحت امریکہ کی سڑکوں سے کوڑا چننا پڑے یا کوئی اور ایسا کام کرنا پڑے تو وہ بالکل شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ شوق سے سب کام کرتا ہے۔ صابر کا کہنا ہے کہ ٹھیک ہے، میں یہاں آکر ارب پتی نہیں بن سکا، لیکن مجھے اطمینان اور خوشی ہے کہ میں نے کامیابی حاصل کی ہے اور میں لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہوں۔ ہماری دعا ہے اللہ کریم صابر کو زندگی کے ہر موڑ پر کامیاب و کامران کرے۔ آمین۔ #SuccessStory #SuccessMindset #Pakistan Disclaimer: This content is shared for inspirational, educational, and public awareness purposes. The story and biographical details presented above are based on the information provided and have not been independently verified by us. Some details may reflect personal recollections or narrative accounts. This content is intended solely for informational and inspirational purposes.
لاہور کا وہ چنگڑ جسے قدرت امریکہ لے آئی۔۔۔ سڑکوں پر کوڑا چننے والے نوجوان کی زندگی کی کہانی محمد صابر کا تعلق لاہور کے ایک ایسے چنگڑ خاندان سے تھا جو جھگی میں رہتا تھا اور اس خاندان کے تمام افراد، بشمول عورتیں اور بچے، سڑکوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے اپنی روزی روٹی تلاش کرتے تھے۔ بچپن کے ان دنوں میں صابر کو کوڑے سے ملنے والے اخبارات اور کتابیں پڑھنے کا شوق لگ گیا۔ اسے بچپن سے ہی کتابیں اچھی لگتی تھیں۔ کچھ عرصے بعد صابر نے ماں سے ضد کرکے ایک سرکاری اسکول میں داخلہ لے لیا۔ اسے اسکول میں چنگڑ اور مصلی کہہ کر پکارا جاتا، ہر کوئی اس کا مذاق اڑاتا، مگر صابر اپنی دھن میں لگا رہا۔ اس کی روٹین تھی کہ صبح پانچ بجے اٹھ کر سڑکوں پر کوڑا چننے چلا جاتا۔ 8 بجے واپس آکر کوڑا گھر میں رکھتا اور بستہ اٹھا کر اسکول چلا جاتا۔ پھر ظہر کے بعد گھر واپس آکر کھانا کھاتا، دوبارہ کوڑا چننے چلا جاتا اور رات کو ہوم ورک کرتا تھا۔ اس کی اس روٹین نے گھر کی مجموعی کمائی پر اثر نہ ڈالا، اس لیے اس کی تعلیم پر کسی کو اعتراض نہ تھا۔ پھر صابر نے آٹھویں کلاس کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرکے سب کو حیران کردیا اور اسے وظیفہ بھی ملا۔ میٹرک کا امتحان بھی صابر نے اچھے نمبروں سے پاس کیا تو اس کا رہن سہن بدلنے لگا۔ تب تک وہ کوڑا چننے کا کام کر رہا تھا۔ لیکن ایک روز صابر کی ماں، جو کسی کوٹھی میں کام کرتی تھی، ردی کتابوں کی ایک گٹھڑی گھر لے آئی کہ اگلے روز اسے ردی میں بیچے گی۔ مگر صابر کو ان کتابوں میں چارلس ڈکنز کا مشہور زمانہ ناول ’دی گریٹ ایکسپیکٹیشنز‘ مل گیا۔ اس نے اسے پڑھنا شروع کیا تو اس کی زندگی ہی بدل گئی۔ اب صابر نے کوڑا چننا چھوڑ کر گھروں میں اخبار پھینکنا شروع کردیے اور بازار میں چل پھر کر چیزیں بیچنے لگا۔ لیکن اس دوران وہ ہر قسم کی تعلیمی تقریبات اور سیمینارز میں بھی شرکت کرتا رہا، جبکہ اس نے تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ایف اے بھی اچھے نمبروں سے پاس کی تو کسی سیمینار میں اس کی ملاقات ایک امریکی خاتون سے ہوگئی جو لاہور میں امریکی سفارتخانے میں کام کرتی تھی۔ یہ خاتون صابر کی کہانی سن کر بہت متاثر ہوئی اور اس نے صابر کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے صابر کو ایک اسکالرشپ پروگرام کے بارے میں بتایا جس کی درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ قریب تھی۔ صابر نے اپنی درخواست جمع کروا دی اور اس خاتون نے خود صابر کا لیٹر آف ریکمنڈیشن بھی لکھ دیا۔ یہ صابر کی زندگی کا ایک انقلابی دن تھا۔ پورے پاکستان سے منتخب ہونے والے 15 طلبہ و طالبات میں صابر کا نام بھی آگیا۔ کچھ رقم گھر والوں سے لے کر اور کچھ اس نیک دل امریکی خاتون کی مالی مدد سے صابر امریکہ پہنچ گیا۔ یہ 2014 کی بات ہے۔ اس وقت اوباما کی الیکشن کمپین چل رہی تھی۔ صابر نے اپنی اسکالرشپ کی شرائط کے تحت خوب دل لگا کر کام کیا۔ وہ ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے پروگرام کا حصہ بنتا گیا۔ یہ حکومتی پروگرام لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے والے تھے۔ سب سے مزیدار اور حیران کن بات یہ ہے کہ صابر آج بھی امریکہ میں جدوجہد کر رہا ہے۔ ہر اہم پروگرام میں اسے ویلکم کیا جاتا ہے۔ وہ پیسے بھی کما رہا ہے، لیکن دوسروں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے اگر اسے پروگرام کی شرائط کے تحت امریکہ کی سڑکوں سے کوڑا چننا پڑے یا کوئی اور ایسا کام کرنا پڑے تو وہ بالکل شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ شوق سے سب کام کرتا ہے۔ صابر کا کہنا ہے کہ ٹھیک ہے، میں یہاں آکر ارب پتی نہیں بن سکا، لیکن مجھے اطمینان اور خوشی ہے کہ میں نے کامیابی حاصل کی ہے اور میں لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہوں۔ ہماری دعا ہے اللہ کریم صابر کو زندگی کے ہر موڑ پر کامیاب و کامران کرے۔ آمین۔ #SuccessStory #SuccessMindset #Pakistan Disclaimer: This content is shared for inspirational, educational, and public awareness purposes. The story and biographical details presented above are based on the information provided and have not been independently verified by us. Some details may reflect personal recollections or narrative accounts. This content is intended solely for informational and inspirational purposes.

About